وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

مادی اور غیر مادی ثقافتی ورثے کا تحفظ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 FEB 2026 3:53PM by PIB Delhi

اس وقت حکومت ہند کے محکمہ آثارِ قدیمہ (آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ۔ اے ایس آئی) کی دیکھ بھال اور نگرانی میں ملک بھر میں 3686 مرکزی طور پر محفوظ آثارِ قدیمہ موجود ہیں۔ ان محفوظ یادگاروں کی مرمت اور تحفظ کا کام اے ایس آئی کی جانب سے ہر یادگار کی ضرورت اور تقاضوں کے مطابق، سالانہ تحفظاتی منصوبے کی منظوری کے بعد انجام دیا جاتا ہے اور تمام یادگاریں اس وقت اچھی حالت میں محفوظ ہیں۔

اس کے علاوہ، اے ایس آئی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں اور محفوظ یادگاروں سے حاصل ہونے والی نوادرات اور آثار کو ملک بھر میں قائم 52 آثارِ قدیمہ کے سائٹ میوزیمز کے ذریعے محفوظ اور عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان مجموعوں کو میوزیم کے اندراجی رجسٹروں میں باقاعدہ طور پر درج کیا جاتا ہے اور ڈیجیٹل طور پر بھی محفوظ کیا جاتا ہے، تاکہ ان کا تحفظ، فروغ اور مناسب دستاویزی ریکارڈ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، حکومتِ ہند نے 2007 میں قومی مشن برائے یادگاریں اور نوادرات (این ایم ایم اے) قائم کیا، جس کا مقصد ملک بھر میں یادگاروں (تعمیر شدہ ورثہ اور مقامات) اور نوادرات کے لیے دو قومی رجسٹروں کی تیاری ہے۔

ملک بھر میں لوک فنون اور ثقافت کی مختلف صورتوں کے تحفظ، فروغ اور بقا کے لیے حکومتِ ہند نے سات علاقائی ثقافتی مراکز (زیڈ سی سی) قائم کیے ہیں، جن کے صدر دفاتر پٹیالہ، ناگپور، اودے پور، پریاگ راج، کولکاتا، دیماپور اور تنجاوُر میں واقع ہیں۔ یہ مراکز پورے بھارت میں باقاعدگی سے مختلف ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں، جن میں لوک اور قبائلی فنکاروں کو قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان فنکاروں کو ان کی روزی روٹی کے لیے اعزازیہ، سفری الاؤنس (ٹی اے / ڈی اے)، مقامی آمدورفت، رہائش اور کھانے کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

قومی اہمیت کے حامل آثارِ قدیمہ اور علاقوں (مقامات) کا اعلان قدیم یادگاریں اور آثارِ قدیمہ کے مقامات و باقیات ایکٹ، 1958 (اے ایم اے ایس آر ایکٹ) کی دفعہ 4 کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقررہ پروفارما میں تیار کردہ تجاویز، ضروری معاون دستاویزات کے ساتھ، اے ایس آئی کی تکنیکی جانچ کمیٹی (ٹی ای سی) کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ ٹی ایس سی کی سفارش کے بعد مرکزی حکومت ایک ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، جس کے ذریعے عوام سے آراء طلب کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے متعلقہ یادگار یا یادگاروں کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

وزارتِ ثقافت عجائب گھروں کے ذخائر،جیسے سکے، مصوری، مخطوطات، ڈاک ٹکٹ (فلاٹیلی)، تزئینی فنون، آثارِ قدیمہ، موتی، بشریات، اسلحہ و زرہ، ٹیراکوٹا، چینی مٹی کے برتن، وسطی ایشیائی نوادرات، سکّہ شناسی، کتبے، مخطوطات اور دیگر نوادرات کے ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ’’جَتن (جے اے ٹی اے این)‘‘ نامی سافٹ ویئر استعمال کر رہی ہے۔ اب تک قومی سطح کے 8 معروف عجائب گھر اور اے ایس آئی کے 2 عجائب گھر جَتن سافٹ ویئر کے ذریعے ڈیجیٹلائز کیے جا چکے ہیں۔

ان عجائب گھروں کے ذخائر کے ڈیجیٹل ذخیرہ کے اس منصوبے کو سی-ڈیک (سی۔ ڈی اے سی)، پونے کے تکنیکی تعاون سے تیار کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ایک متحدہ ویب پورٹل www.museumsofindia.gov.in  بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس پورٹل پر ان عجائب گھروں کے ذخائر کی تفصیلات تصاویر کے ساتھ دستیاب ہیں۔ اب تک ڈیجیٹلائز کیے گئے نوادرات کو درج ذیل لنک کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے:

https://museumsofindia.gov.in/repository

مزید یہ کہ قومی مشن برائے یادگاریں اور نوادرات (این ایم ایم اے) ملک کے مختلف خطّوں میں ورکشاپوں کا انعقاد کر رہا ہے، جن کا مقصد بیداری پیدا کرنا اور یونیورسٹیوں، کالجوں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور دیگر دلچسپی رکھنے والی تنظیموں کو تربیتی پروگرام فراہم کرنا ہے۔

حکومتِ ہند کی وزارتِ ثقافت اپنے علاقائی ثقافتی مراکز (زیڈ سی سی) کے ذریعےجو وزارتِ ثقافت کے تحت خود مختار ادارے ہیں،راشٹریہ سنسکرتی مہوتسو (آر ایس ایم) منعقد کرتی ہے، تاکہ روایت، ثقافت، ورثے اور ہمارے عظیم ملک کے ثقافتی تنوع کی روح کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس مہوتسو کا وسیع تر مقصد بھارت کے ثقافتی ورثے کا تحفظ، فروغ اور عوامی سطح پر مقبول بنانا، نوجوان نسل کو اپنی روایات سے دوبارہ جوڑنا، اور ’’کثرت میں وحدت‘‘ کے ذریعے بھارت کی نرم طاقت کو ملکی اور عالمی سطح پر پیش کرنا ہے۔

سنہ 2015 سے اب تک وزارت نے اپنے سات علاقائی ثقافتی مراکز کے ذریعے 14 قومی سطح کے راشٹریہ سنسکرتی مہوتسو اور 4 زونل سطح کے مہوتسو منعقد کیے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 12,543 فنکاروں نے شرکت کی۔ ان فنکاروں کو ان کی معاشی معاونت کے لیے اعزازیہ، سفری الاؤنس (ٹی اے / ڈی اے)، مقامی آمدورفت، رہائش اور کھانے کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

مزید برآں، این ایم ایم اے نے اب تک 11,406 تعمیر شدہ ورثہ اور مقامات اور 12,47,668 نوادرات سے متعلق معلومات کی دستاویز سازی اور اشاعت کی ہے۔ یہ تمام ڈیٹا این ایم ایم اے کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے:

http://nmma.nic.in

یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں ثقافت و سیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت کی جانب سے فراہم کی گئیں۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO. 1974


(ریلیز آئی ڈی: 2225591) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी