جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

فلڈ مینجمنٹ اور سرحدی علاقوں کے پروگرام کے تحت منصوبے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 FEB 2026 3:20PM by PIB Delhi

فلڈ مینجمنٹ اور کٹاؤ سے بچاؤ کی اسکیمیں متعلقہ ریاستی حکومتیں اپنی ترجیحات کے مطابق تیار اور نافذ کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت تکنیکی رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ حساس علاقوں میں سیلابی نظم و نسق کے لیے ریاستوں کی کوششوں کو فروغ دینے کی غرض سے مالی معاونت بھی مہیا کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مرکزی حکومت ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ’’فلڈ مینجمنٹ اور سرحدی علاقوں کا پروگرام (ایف ایم بی اے پی)‘‘نافذ کر رہی ہے، جس کے ذریعے ریاستوں کو سیلاب کنٹرول، کٹاؤ سے تحفظ، نکاسیٔ آب کی ترقی، سمندری کٹاؤ سے بچاؤ وغیرہ سے متعلق کاموں کے لیے مرکزی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران فلڈ مینجمنٹ اور سرحدی علاقوں کے پروگرام (ایف ایم بی اے پی) کے تحت ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے اعتبار سے موصول ہونے والی تجاویز، منظور شدہ منصوبوں اور جاری کی گئی مرکزی مالی امداد کی تفصیل ضمیمہ میں دی گئی ہے۔

مرکزی آبی کمیشن کی رپورٹ ’’بھارت میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا تخمینہ (2024)‘‘ کے مطابق، جو 1986 سے 2022 تک کے سیٹلائٹ امیجری ڈیٹا پر مبنی ہے، بھارت میں سیلاب سے متاثرہ کل رقبہ 21.213 ملین ہیکٹر کے طور پر جانچا گیا ہے، جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے فلڈ مینجمنٹ کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے ذریعے 20.538 ملین ہیکٹر رقبہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔

ملک میں ریاست وار اور ضلع وار سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تفصیلات مرکزی آبی کمیشن کی ویب سائٹ: https://cwc.gov.in/sites/default/files/assessment-area-affected-due-floods-india.pdf پر دستیاب ہیں۔

کوسی اور گنڈک منصوبوں کے تحت نیپال کے حصے میں واقع سیلاب سے تحفظ کے کاموں کی دیکھ بھال، نیز بھارت میں بنگلہ دیش اور نیپال سے ملحق سرحدی علاقوں میں سیلاب سے بچاؤ اور کٹاؤ مخالف کاموں کے لیے مالی معاونت فلڈ مینجمنٹ اور سرحدی علاقوں کے پروگرام (ایف ایم بی اے پی) کے جزو دریائی انتظامی سرگرمیاں اور سرحدی علاقوں سے متعلق کام (آر ایم بی اے) کے تحت فراہم کی جا رہی ہے۔

ایف ایم بی اے پی کے تحت انجام دیے جانے والے سیلاب کنٹرول، کٹاؤ سے تحفظ اور سرحدی دریاؤں کے انتظام سے متعلق کاموں کی نوعیت اور وسعت میں پشتوں کی تعمیر، سلائسز، حفاظتی/گیبئن دیواریں، نکاسیٔ آب کی نہریں، دریا کے کناروں کی مضبوطی (ریویٹمنٹ/پچنگ) بمعہ لانچنگ ایپرن، آر سی سی پورکیوپائنز، گروئنز/اسپرز وغیرہ شامل ہیں۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں جل شکتی کے وزیر مملکت  جناب راج بھوشن چودھری کی جانب سے فراہم کی گئیں۔

***

ضمیمہ

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران فلڈ مینجمنٹ اور سرحدی علاقوں کے پروگرام (ایف ایم بی اے پی) کے تحت ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لحاظ سے موصول ہونے والی تجاویز کی تعداد، منظور شدہ منصوبے اور جاری کی گئی مرکزی مالی امداد کی تفصیل۔

نمبر شمار

ریاست

سال 2021 سے 2026 کے دوران ایف ایم بی اے پی کے تحت موصولہ پروجیکٹوں کی تعداد

سال 2021 سے 2026 کے دوران ایف ایم بی اے پی کے تحت منظور شدہ پروجیکٹ

جاری شدہ مرکزی امداد کروڑ روپے میں

تعداد

منظور شدہ لاگت کروڑ روپے میں

پروجیکٹوں کے لیے مارچ 2025  تک جاری کردہ کل سی اے

مارچ 2025 تک گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جاری کردہ کل سی اے

1

اروناچل پردیش

5

2

170.52

22.5

22.50

2

آسام

5

1

125.21

0

296.15

3

بہار

9

2

288.07

0

238.55

4

ہماچل پردیش

9

1

145.73

36.51

48.38

5

جموں و کشمیر

1

1

1623.43

114.3

127.42

6

منی پور

3

1

460.43

290.01

290.01

7

اتراکھنڈ

15

15

 

12.5

15.27

8

مغربی بنگال

3

1

 

7.78

51.93

 

کل

50

24

2813.39

483.60

1090.21

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO. 1971


(ریلیز آئی ڈی: 2225563) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi