جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زیرِ زمین پانی کی نگرانی کا نظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 FEB 2026 3:23PM by PIB Delhi

وزارتِ جل شکتی نے ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کی صورتِ حال کی مؤثر نگرانی کے لیے بتدریج جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اختیار کیا ہے۔ وزارتِ جل شکتی کی مختلف اسکیموں، جیسے گراؤنڈ واٹر مانیٹرنگ اینڈ ریگولیشن (جی ڈبلیو ایم اینڈ آر) اسکیم، نیشنل ہائیڈرولوجی پروجیکٹ (این ایچ پی)، اٹل بھوجل یوجنا وغیرہ کے تحت، اور ریاستی حکومتوں کی دیگر مختلف اسکیموں کے تحت، ٹیلی میٹری نظام سے لیس ڈیجیٹل واٹر لیول ریکارڈرز (ڈی ڈبلیو ایل آرز) ملک کے متعدد مقامات پر نصب کیے گئے ہیں، جو تقریباً تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ ٹیلی میٹری سے لیس ڈی ڈبلیو ایل آرز زیرِ زمین پانی کی سطح اور معیار سے متعلق ڈیٹا حقیقی وقت (ریئل ٹائم) کی بنیاد پر جمع کرتے ہیں، جس سے ملک میں زیرِ زمین پانی کی صورتِ حال کی ایک زیادہ مفصل اور دقیق تصویر فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ملک کے متحرک زیرِ زمین آبی وسائل کا سالانہ تخمینہ مرکزی گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے کرتا ہے، جس کے ذریعے ملک کے پانی کی قلت سے دوچار بلاکس/ تحصیلوں/ تعلقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ زیرِ زمین آبی وسائل کے تخمینے سے متعلق رپورٹ، نیز زیرِ زمین پانی کی سطح اور معیار سے متعلق معلومات، جل جیون مشن کے حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں، تاکہ ترجیحی پالیسی منصوبہ بندی اور ہدفی مداخلتوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

چونکہ پانیریاستی موضوع ہے، اس لیے پانی کی پائیدار ترقی اور نظم و نسق، بشمول زیرِ زمین آبی وسائل، بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ تاہم مرکزی حکومت اپنی مختلف اسکیموں اور منصوبوں کے ذریعے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر کے ریاستی حکومتوں کی کوششوں کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس ضمن میں آبی ذخائر/ زیرِ زمین پانی کے وسائل میں اضافہ، صنعتی فضلے سے آلودگی میں کمی، اور زراعت میں زیرِ زمین پانی کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات ذیل میں بیان کیے گئے ہیں:

  • ملک کے آبی/ زیرِ زمین آبی وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی کوششیں بنیادی طور پر جل شکتی ابھیان (جے ایس اے) کی فلیگ شپ مہم کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں۔ جل شکتی ابھیان ایک وقت سے منسلک اور مشن موڈ پروگرام ہے، جسے وزارتِ جل شکتی ہر سال منعقد کرتی ہے، اور جس کے تحت مختلف مرکزی اور ریاستی اسکیموں کے اشتراک سے زیرِ زمین پانی کے ریچارج اور تحفظ سے متعلق متعدد کام انجام دیے جاتے ہیں۔
  • جل شکتی ابھیان (جے ایس اے) کی رفتار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جل سنچئے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں بارش کے پانی کے ذخیرے (رین واٹر ہارویسٹنگ) کو ایک عوامی تحریک بنانا ہے۔ کمیونٹی کی ملکیت اور ذمہ داری کو فروغ دے کر یہ اقدام مختلف خطوں میں پانی سے متعلق مخصوص چیلنجز کے مطابق کم لاگت اور مقامی حل تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
  • مشن امرت سروور حکومتِ ہند کی جانب سے شروع کیا گیا، جس کا مقصد ملک کے ہر ضلع میں آبی ذخائر کی تعمیر اور ان کی بحالی تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک میں تقریباً 69,000 امرت سروور تعمیر/ بحال کیے گئے ہیں۔
  • زیرِ زمین پانی کی آلودگی کے مسائل کے تدارک کے لیے سی جی ڈبلیو بی اپنے مانیٹرنگ پروگرام اور سائنسی مطالعات کے تحت ملک کے زیرِ زمین پانی کے معیار سے متعلق ڈیٹا باقاعدگی سے تیار کرتا ہے۔ سی جی ڈبلیو بی کے ذریعے تیار کیا گیا یہ ڈیٹا، بشمول صنعتی فضلے سے پیدا ہونے والی آلودگی، سالانہ رپورٹس، ششماہی بلیٹنز اور پندرہ روزہ الرٹس کے ذریعے باقاعدگی سے اسٹیک ہولڈرز تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، نگرانی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے مقصد سے زیرِ زمین پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے ایک نیا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) اختیار کیا گیا ہے، جس میں بالخصوص حساس علاقوں میں زیادہ کثرت اور زیادہ گنجان سیمپلنگ کی شرط رکھی گئی ہے، تاکہ زیرِ زمین پانی کے معیار کا زیادہ جامع تخمینہ لگایا جا سکے۔
  • مزید یہ کہ 24.09.2020 کی تاریخ کے زیرِ زمین پانی کے اخراج کے رہنما خطوط کے مطابق، وہ تمام صنعتیں جو سی جی ڈبلیو بی سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرتی ہیں، ویلب ہیڈ پروٹیکشن کے اقدامات اختیار کرنے کی پابند ہیں اور انہیں صنعتی فضلے کو ایکویفرز میں داخل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
  • زراعت میں پانی/ زیرِ زمین پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے وزارتِ جل شکتی نے اٹل بھوجل یوجنا کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے، جس نے کمیونٹی کی قیادت میں شراکتی زیرِ زمین پانی کے نظم و نسق کی افادیت کو ثابت کیا ہے۔ کمیونٹیز کو اپنے زیرِ زمین آبی وسائل کے سائنسی انتظام کے حوالے سے تعلیم اور بااختیار بنا کر، اس منفرد اسکیم نے ایک قابلِ توسیع، غیر مرکزیت یافتہ زیرِ زمین پانی کے گورننس ماڈل کو قائم کیا ہے۔
  • محکمۂ زراعت و کسانوں کی بہبود (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو)، حکومتِ ہند، ملک میں پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی) اسکیم کو مالی سال 2015-16 سے نافذ کر رہا ہے، جس کا مقصد مائیکرو اریگیشن اور بہتر آن فارم واٹر مینجمنٹ طریقوں کے ذریعے کھیت کی سطح پر پانی کے استعمال کی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور دستیاب آبی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

یہ معلومات وزیرِ مملکت برائے جل شکتی، جناب راج بھوشن چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

***

UR-1978

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2225556) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी