الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
یوٹا اور بھاشینی نے خود مختار اے آئی کلاؤڈ کے قیام کے لیے شراکت داری کی، جس سے بھارت کی بڑی آبادی کی سطح پر اے آئی سے متعلق تیاری اجاگر ہوتی ہے
گلوبل ہائپر اسکیلر سے ایک خودمختار بھارتی آپریٹر کی طرف منتقلی یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح بھاشینی کا قومی زبان پر مبنی اے آئی پلیٹ فارم اور یوٹا کا مقامی کلاؤڈ اور جی پی یو بنیادی ڈھانچہ باہم مربوط ہوکر بڑے پیمانے پر اہم اے آئی مشن کو قابل عمل بناتے ہیں
یہ مشترکہ اقدام بھارتی تنظیموں کے لیے ایک قومی حوالہ جاتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جو خود مختار اور بڑی آبادی کے لحاظ سے اے آئی پلیٹ فارمز کی طرف منتقلی کے عمل کو ہموار اور مؤثر بناتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2026 2:16PM by PIB Delhi
بھارت کی سرکردہ خود مختار کلاؤڈ بنیادی ڈھانچہ اور پلیٹ فارم کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا ڈیٹا سروسز نے آج بھاشینی کے شروع سے آخر تک خود مختار اے آئی کلاؤڈ ٹرانسفارمیشن کی کامیاب تعیناتی کا اعلان کیا، جو یوٹا کے گورنمنٹ کمیونٹی کلاؤڈ ( جی سی سی ) اور شکتی کلاؤڈ پر انجام دی گئی ہے۔
یہ اہم سنگ میل انڈیا اے آئی مشن کے مقاصد کے عین مطابق ہے اور بھارت کے خود کفیل اور قابل توسیع اے آئی صلاحیتوں کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ اس ترقی کے ساتھ، بھاشینی اب مکمل طور پر بھارتی کلاؤڈ اور جی پی یو بنیادی ڈھانچہ پر کام کرتا ہے، جس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ زبان کے ڈیٹا سیٹس، ماڈلز اور شہری سطح پر عمل در آمد بھارت کے دائرہ اختیار میں رہیں۔
اس تاریخی پیش رفت کو اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے پہلے منعقدہ ایک سرکاری پروگرام ’ دی انڈیا اے آئی سوورینٹی ڈائیلاگ ‘ میں دکھایا گیا ، جس کی میزبانی یوٹا اور ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن نے کی اور اس تقریب میں لانچ کی گئی ’ سوورین اے آئی کلاؤڈ ٹرانسفارمیشن رپورٹ ‘ میں اس کو اجاگر کیا گیا۔ اس رپورٹ میں مہا کُمبھ 2025 میں فزیکل تعیناتی کے تجربات شامل ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی مذہبی تقریب تھی ، جہاں بھاشینی کی کثیر لسانی اے آئی خدمات کو آبادی کی سطح پر آزمایا گیا۔ یوٹا کے نویڈیا ایچ 100 سے فعال شکتی کلاؤڈ کے ذریعے، اس پلیٹ فارم نے 11 سے زائد بھارتی زبانوں میں بر وقت ترجمہ اور آواز پر مبنی مدد فراہم کی، جس میں کثیر لسانی اسسٹنٹ ’ کُمبھ سہ ‘ اے آئی ’ یک‘ بھی شامل ہے۔
اس تعیناتی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی ڈیجیٹل عوامی وسائل کو ہائپر اسکیلر ماحول سے مقامی کلاؤڈ بنیادی ڈھانچہ میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی میں 40 فی صد تک بہتری، لاگت میں 20 تا 30 فی صد کمی اور 99.99 فی صد مسلسل اپ ٹائم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ 200 سے زیادہ ٹیرا بائٹ ڈیٹا اور 3.5 ارب سے زائد فائلوں کے ساتھ صفر ڈیٹا نقصان کے ساتھ ممکن ہوا۔
اس پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے، جناب ابھیشیک سنگھ، آئی اے ایس ، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی؛ انڈیا اے آئی مشن کے سی ای او اور ڈائریکٹر جنرل، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر نے کہا کہ ’’ بھاشینی کی مقامی کلاؤڈ اور جی پی یو پلیٹ فارمز پر کامیاب منتقلی یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت اپنے خودمختار اے آئی نظام کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تیار، توسیع اور محفوظ کر سکتا ہے۔ اس سے انڈیا اے آئی مشن کا ویژن اجاگر ہوتا ہے، جو خودمختار کمپیوٹ کی صلاحیت، ماڈلز کی ترقی اور اے آئی ایپلی کیشنز کو بھارت کی منفرد ضروریات کے مطابق ڈیزائن کرنے پر مرکوز ہے، جس میں آبادی کی سطح پر قابل اعتماد، بر وقت، آواز پر مبنی خدمات کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ‘‘
پلیٹ فارم کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب امیتابھ ناگ، سی ای او ، ڈیجیٹل انڈیا بھاشینی ڈویژن نے کہا کہ ’’ یوٹا کے خود مختار اے آئی کلاؤڈ کی طرف منتقلی بھاشینی کو مزید کنٹرول، پائیدار ی اور توسیع پذیری فراہم کرتی ہے تاکہ یہ بھارت کے لسانی تنوع کی خدمت جاری رکھ سکے۔ یہ تبدیلی ہماری شمولیت پر مبنی ، بر وقت، کثیر لسانی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے اور اے آئی میں ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچہ کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ یہ مستقبل میں مکمل خودمختار حصہ داری کی طرف منتقلی کے دوران تعیناتی کے لیے بھی ایک نمونہ فراہم کرے گی۔ ‘‘
انڈیا اے آئی مشن کی سی او او ، محترمہ کویتا بھاٹیا نے کہا کہ ’’ بھاشینی کا مکمل خود مختار اے آئی کلاؤڈ کی طرف منتقلی بھارت کی ڈھانچہ جاتی آبادی کی سطح پر اے آئی بنانے کے لیے انڈیا اے آئی مشن کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ قومی ڈیجیٹل عوامی وسائل کو بغیر کارکردگی میں کمی کئے مقامی، کھلے پلیٹ فارمز پر محفوظ طریقے سے توسیع دی جا سکتی ہے ۔ یہ تعیناتی مستقبل کے عوامی شعبے کے اے آئی اقدامات کے لیے ایک مستحکم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ‘‘
اس سنگ میل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے، یوٹا ڈیٹا سروسز کے شریک بانی، منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ، جناب سنیل گپتا نے کہا کہ ’’ بھاشینی کی شکتی کلاؤڈ پر کامیاب تعیناتی ، بھارت کے ڈیٹا خود مختاری کے سفر کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ یہ منتقلی ظاہر کرتی ہے کہ ہائپر اسکیل، بغیر کسی سمجھوتے کے اہم اے آئی مشن پلیٹ فارم مکمل طور پر خود مختار بنیادی ڈھانچہ پر بنایا اور چلایا جا سکتا ہے ۔ اس پروجیکٹ سے بھارت کی صلاحیت ثابت ہوتی ہے کہ وہ ایڈوانس اے آئی ورک لوڈز کو کھلے اور باہمی طور پر کام کرنے والے ڈھانچے پر چلایا جا سکتا ہے اور یوٹا کی قومی سطح پر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ بنانے اور چلانے کی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘‘
دو سے تین ماہ کے دوران انجام دی جانے والی اس منتقلی میں بھاشینی کا مکمل اے آئی اسٹیک شامل تھا، جس میں کثیر لسانی ڈیٹا سیٹس، ماڈلز، اے پی آئیز، کنٹینرائزڈ سروسز، آرکسٹیشن پائپ لائنز، ڈیٹا بیسز اور اسٹوریج شامل ہیں۔ نئی آرکیٹیکچر اوپن سورس اور کلاؤڈ-ایگناسٹک کمپوننٹس کو اپناتی ہے، جو طویل مدتی وینڈر غیر جانبداری اور کلیدی خود مختاری کو مستحکم کرتی ہے۔
اس تعیناتی شدہ ایکو نظام کو ماڈیولر اور دوبارہ استعمال کے قابل حوالہ جاتی فریم ورک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے وزارتوں، سرکاری شعبے کی یونٹس اور بڑے قومی پروگراموں میں اپنایا جا سکتا ہے۔ یہ ہائپر اسکیلر سے بھارتی کلاؤڈ منتقلی کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اے آئی کو محفوظ، شمولیت پر مبنی اور خودمختار عوامی سہولت کے طور پر قائم کرنے کے بھارت کے عزائم کو مضبوط کرتا ہے ، جو معاشی ترقی، ڈیجیٹل طور پر سبھی کی شمولیت اور تکنیکی قیادت کو تعاون فراہم کر سکے ۔
بھاشینی کے بارے میں
بھاشینی اے آئی سے چلنے والا زبان کے ترجمے کا ایک پلیٹ فارم ہے ، جو تعلیم، زبان اور ڈیجیٹل تقسیم کے فرق کو دور کرتا ہے۔ بھاشینی میں، ہم آواز پر مبنی جدید کثیر لسانی اے آئی حل کے ذریعے رابطے کی نئی تشریح کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد زبان اور ٹیکنالوجی کو ہر کسی کے لیے قابل رسائی بنانا ، وائس-فرسٹ کثیر لسانی حل کے ذریعے ہموار رابطے کو یقینی بنانا ، مشترکہ طور پر تخلیق کرنے کے سب سے بڑے اے آئی پلیٹ فارم کو تعاون فراہم کرنا اور جدت طرازی کو کو فروغ دینا اور زبان، تعلیم، اور ڈیجیٹل رکاوٹوں کو دور کرکے سبھی کی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے ۔
انڈیا اے آئی مشن کے بارے میں
انڈیا اے آئی مشن ، حکومت ہند کی ایک اہم پہل ہے ، جو وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ( ایم ای آئی ٹی وائی ) کے تحت چلائی جا رہی ہے اور اس کا مقصد ، بھارت کے مصنوعی ذہانت کے ایکو نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ مشن مستحکم اے آئی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے، کمپیوٹ اور ڈیٹا وسائل تک رسائی فراہم کرنے، اندرونِ ملک اے آئی جدت طرازی کو فروغ دینے، اسٹارٹ اپس اور کاروباری اداروں کی مدد کرنے اور ذمہ دار اور شمولیت پر مبنی اے آئی اپنانے کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ کلیدی شراکت داریوں کے ذریعے، انڈیا اے آئی مشن کا مقصد اے آئی حل کی ترقی اور تعیناتی کو تیز کرنے کی کوشش کرنا ہے تا کہ معاشی ترقی، عوامی خدمات میں بہتری اور وسیع پیمانے پر سماجی اثرات فراہم کئے جاسکیں ۔
*****
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 1948
(ریلیز آئی ڈی: 2225437)
وزیٹر کاؤنٹر : 9