وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ماہی پروری کے شعبے کے لیے ادارہ جاتی مالی معاونت کی فراہمی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2026 9:11AM by PIB Delhi
ہندوستان کے ماہی پروری کے شعبے کو ’’سن رائز سیکٹر‘‘کے طور پر شناخت حاصل ہے جو بنیادی طور پر روزی روٹی پر مبنی سرگرمی سے معاشی ترقی کے متحرک انجن میں تبدیل ہوا ہے۔ ہندوستان کے مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں 1.12 فیصدکی شراکت کے ساتھ یہ شعبہ خوراک کا تحفظ فراہم کرنے، سستی پروٹین فراہم کرنے اور تقریبا 30 ملین لوگوں کی روزی روٹی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بلیو ٹرانسفارمیشن کے ساتھ ہندوستان آج دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا اور سب سے بڑا آبی زراعت والا ملک ہے، جو مچھلی کی عالمی پیداوار کا تقریباً 8 فیصد ہے۔
تقریباً11099کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی اور دریاؤں، آبی ذخائر، میدانی سیلاب کے علاقوں اور ویٹ لینڈکے لحاظ سے سب سے بڑے نیٹ ورک میں سے ایک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ماہی پروری کا شعبہ3 کروڑ لوگوں کوذریعہ معاش فراہم کرتا ہے، جبکہ زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں حصہ دار ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران، اس شعبے میں قابل ذکر توسیع ہوئی ہے اور مالی سال25-2024 میں مچھلی کی پیداوار 197 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو14-2013 میں 95.79 لاکھ ٹن سے تقریبا دوگنا ہے۔ اس ترقی کو اندرون ملک ماہی پروری کے بڑھتے ہوئے فروغ سے ساختی طور پر نئی شکل ملی ہے، جس کاحصہ کل پیداوارمیں 75فیصد سے زیادہ ہے۔ ماہی گیری سے آبی زراعت کے کلچر کی طرف اس شعبے کی بتدریج منتقلی نے پیداوار کے استحکام کو مزید مضبوط کیا ہے۔
اقتصادی لحاظ سے ماہی پروری کاشعبہ ایک بڑے زرمبادلہ کمانے والے کے طور پر ابھرا ہے۔ مالی سال 25-2024 میں اس شعبے کی برآمدات 62,408 کروڑ روپے (7.45 بلین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں، جس میں منجمد جھینگامچھلی اہم تھی اور امریکہ اور چین اس کے کلیدی بازار تھے۔ یہ شعبہ زراعتی جی وی اے میں 7.26 فیصد کا حصہ دار ہے اور مچھلی کی کلیدی مصنوعات پر جی ایس ٹی کو 12فیصد سے کم کرکے 5فیصد کرنے جیسے پالیسی اقدامات سے گھریلو کھپت اور بین الاقوامی مسابقت دونوں میں بہتری آئی ہے۔ یہ رفتار مستقل عوامی سرمایہ کاری اور مستقبل رخی پالیسی فریم ورک کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
محکمہ ماہی پروری، حکومت ہند جدید کاری کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بازار تک رسائی، ٹیکنالوجی کو اپنانے، سراغ رسانی اور ماحولیاتی لحاظ سے لچکدار ماہی پروری کے نظام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس سلسلے میں بڑی مداخلتوں میں جدید لینڈنگ اور مابعد زراعت کا بنیادی ڈھانچہ، ریور رینچنگ اور ٹراؤٹ فارمنگ اور ہیچری نیٹ ورک کے ذریعے ہمالیائی خطے اور شمال مشرقی ریاستوں میں ٹھنڈے پانی کی ماہی پروری کو فروغ دینا شامل ہے۔ حکومت نے گہرے سمندر میں ماہی گیری، کولڈ چین کے انضمام، پروسیسنگ انفراسٹرکچر، آئس پلانٹس، کولڈ اسٹوریج اور ویلیو ایڈڈ پروڈکٹ یونٹس کی مدد سے مالی سال 2025-26 تک مچھلی کی قومی پیداوار کو 220 لاکھ ٹن تک بڑھانے کااہم ہدف مقرر کیا ہے۔
اس کایا پلٹ کو ممکن بنانے والا کلیدی ستون ڈیجیٹل انضمام رہا ہے۔ اس شعبے کے وسیع اور انتہائی متنوع اسٹیک ہولڈر کی بنیاد کے پیش نظر، ادارہ جاتی مالیات اور فلاحی امداد کی ہموار رسائی کے لیے یونیفائیڈ ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی ضرورت ہے ۔ اسی وجہ سے نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی) کا آغاز ہوا جو سنگل ونڈو ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس پر اب تک تقریبا 30 لاکھ اسٹیک ہولڈر کا رجسٹریشن ہوچکا ہے ، جس سے قرض ، بیمہ ، کوآپریٹو کی خدمات ، بازار اور کارکردگی سے منسلکہ ترغیبات تک رسائی ممکن ہو رہی ہے ۔
یہ شعبہ تیز رفتار ترقی کے باوجود نچلی سطح پر سرمایہ کے لحاظ سے محدود ہے ، جہاں سرمایہ کاری کے تقاضےوسیع پیمانے پر مختلف نوعیت کے ہیں ۔ مائیکرو اسکیل ماہی پروری اور چھوٹے کاروباری اداروں کو عام طور پر 50,000 روپے سے لے کر 30 لاکھ روپے تک کی کریڈٹ سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ بڑے سرمایہ جاتی بنیادی ڈھانچے اور پروسیسنگ یونٹس کے لیے 10 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کی فنڈنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ اس مالیاتی تقاضے کے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے ، محکمہ ماہی پروری نے حسب ضرورت ، سرگرمی سے منسلکہ قرض کی مصنوعات ڈیزائن کرنے کے لیے بینکوں کے ساتھ منظم طریقے سے تال میل کیا ہے ، جس سے متعلقہ فریقوں کو ورکنگ کیپٹل اور اثاثوں کی تخلیق دونوں کے لیے منظم ادارہ جاتی قرض تک رسائی حاصل کرنے پر قادر بنایا گیا ہے ۔
ماہی پروری کے شعبے کے لیے 2018-19 میں کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) متعارف کرایا گیا تھا ، جوقلیل مدتی آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سب سے زیادہ قابل رسائی وسیلے کے طور پر ابھرا ہے ۔ جون 2025 تک ، 4.76 لاکھ کے سی سی جاری کیے گئے ہیں ، جن کے ذریعہ 3,214.32 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں ۔ قرض پر 7فیصد کی شرح سود ہوتی ہے ، جو بروقت ادائیگی پر 4فیصد تک کم ہو جاتی ہے ، جس سے چھوٹے قرض خواہوں کے لیے استطاعت کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ، فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) 7,522.48 کروڑ روپے کے فنڈ اور مارچ 2026 تک توسیعی میعاد کے ساتھ 3فیصد سود کی رعایت کے ساتھ طویل مدتی انفراسٹرکچر کی مالی حمایت کرتا ہے ، جس سے کم از کم 5فیصد کی موثر شرح سود کے قرض کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت 6,369 کروڑ روپے سے زیادہ کی 178 تجاویز کو منظوری دی گئی ہے (جولائی 2025 تک)۔
سیکٹرل قرض کے خطرے کو مزید کم کرنے اور کریڈٹ کے بہاؤ کو بہتر بنانے کےواسطے،این اے بی سنرکشن کے زیر انتظام 750 کروڑ روپے کا وقف شدہ کریڈٹ گارنٹی فنڈ، 12.5 کروڑ روپے تک کے قرض کے لیے بغیر ضمانت رسک کوریج فراہم کرتا ہے، جس سے بینکوں کو ماہی پروری کی مالی اعانت میں اقدامات کو بڑھانے کی ترغیب ملتی ہے۔
پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی 1 اے کے تحت، دستاویزات اور پروسیسنگ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرض لینے والوں کو ’’سکسس فیس‘‘ کے طور پر 5,000 روپے تک کی مابعدتقسیم یک مشت ترغیب بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ قرض فراہمی کے عمل کو این ایف ڈی پی کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا گیا ہے، جس میں اب 12 قومی بینک شامل ہیں، جو درخواست دہندگان کو موبائل یا کمپیوٹر کے ذریعے فاصلاتی طورپر قرض کی درخواستیں جمع کرنے، سرگرمی کی نوعیت، مدت اور قرض کے مقصد کا انتخاب کرنے اور حقیقی وقت میں صورتحال کا پتہ لگانے کے قابل بناتے ہیں۔اس پلیٹ فارم پہلے ہی ہزاروں قرض کی درخواستوں پر کارروائی ہوچکی ہے، جس میں 20,000 سے 5 کروڑ روپے تک کی ادائیگی اور آبی زراعت اور پروسیسنگ کی سرگرمیوں کے تحت 10 کروڑ روپے تک کے قرضوں کی منظوری شامل ہے۔
قرض کی درخواست کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کے ساتھ اس شعبے میں قرض کے بہاؤ کو ڈیجیٹل کیا گیا ہے۔ تمام 12 قومی بینکوں کو آسان اور براہ راست قرض کی درخواست کے لیے این ایف ڈی پی میں شامل کیا گیا ہے ۔ قومی بینکوں نے اس اسکیم کی بہت حمایت کی ہے اور قرض کی درخواستوں پر کارروائی کرنے میں شاندار کام کیا ہے ۔
اب اسٹیک ہولڈرز گھر بیٹھ کر این ایف ڈی پی کریڈٹ ماڈیول کے تحت بینک کو اپنی قرض کی درخواست دےسکتے ہیں۔19 ہزار سے زیادہ مستفیدین نے این ایف ڈی پی پر قرض کی درخواستیں جمع کرائی ہیں اور بینکوں کی طرف سے بینکنگ کے قواعد و ضوابط کے مطابق اہلیت اور تعمیل کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواستوں پر کارروائی کی جارہی ہے۔ این ایف ڈی پی پر اب تک 350 قرض کی درخواستوں کو منظوری دی جا چکی ہے اور 15,000 روپے سے لے کر 5 کروڑ روپے تک کے قرض کی رقم منظور اور تقسیم کی گئی ہے۔
چھوٹے آبی زراعت کے کاشتکار، ماہی گیر، کاروباری افراد، خواتین کاروباری افراد، اسٹارٹ اپس سبھی براہ راست اپنے کام کی جگہ یا گھر کے قریب بینک سے استفسار کرکے قرض حاصل کر رہے ہیں۔ این ایف ڈی پی کے ذریعے ایک طرف چھوٹے کسان کو 15000روپے کی کریڈٹ کی حدوالے کے سی سی-ماہی گیری کارڈمل رہا ہے جو اس کی ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرے گا، دوسری طرف کسان کو 15 لاکھ کی قیمت کی کے سی سی-ماہی پروری کاقرض ملنے سے اسکیم کی شمولیت ظاہر ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی بینک محکمہ ماہی پروری اور ریاستی ماہی گیری کے محکموں کے ساتھ مل کر کریڈٹ کیمپوں، میلوں اور مستفیدین کے پروگراموں کے ذریعے مالی خواندگی اور شعبہ جاتی فہم کو مضبوط کر رہے ہیں۔ بینکر کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ، بی آئی آر ڈی، نابارڈ اور ایم این اے جی ای کے اشتراک سے منظم تربیتی پروگرام فراہم کیے جا رہے ہیں اور بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ ماہی پروری کی مالی اعانت کے ماڈیولز کو داخلی تعلیم اور ترقیاتی پروگراموں میں ضم کریں۔
ماہی پروری کے قرض کو ترجیح دینے کے لیے بینکوں کو حساس بناتے ہوئے اسٹیک ہولڈرز کو ادارہ جاتی مالیات تک رسائی کے قابل بنانے والی یہ مربوط حکمت عملی پورے شعبے میں قرض کی رسائی کو بتدریج بڑھا رہی ہے۔ قرض لینے کی سرگرمیں میں اضافی اقدامات کے ذریعے توسیع ہونے کے ساتھ یہ مالیاتی رسمی حیثیت، پائیدار پیمانے اور طویل مدتی شعبہ جاتی استحکام کی طرف فیصلہ کن منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
مضبوط ڈیجیٹل مالیاتی پہل، خطرے سے پاک قرض کےذرائع اور حسب ضرورت ادارہ جاتی شراکت داری کے ساتھ، ہندوستان کاشعبہ ماہی پروری مالیاتی رسمی حیثیت اور پائیدار توسیع کی طرف بڑھ رہا ہے۔ این ایف ڈی پی، ضمانت سے پاک کریڈٹ گارنٹی، سود ی قرضوں اور کارکردگی سے منسلکہ ترغیبات کے ذریعے ٹیکنالوجی کو اپنانے سے ایک زیادہ جامع اور مستحکم بینک کریڈٹ ماحولیاتی نظام پیدا ہوا ہے۔ یہ نقطہ نظر ماہی گیروں، کسانوں، کوآپریٹیو اور کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ تک رسائی فراہم کرتا ہے، جبکہ سیکٹرل تال میل کو بڑھانے کے لیے قرض دہندگان کے اعتماد کو بہتر بناتا ہے۔ چونکہ ہندوستان ویلیو چین کی کارکردگی، مصنوعات کے معیار، حفاظتی معیارات اور ماحولیاتی استحکام کو بہتربنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، ادارہ جاتی مالی اعانت طویل مدتی عالمی مسابقت کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوگی۔ سبسڈی پر مبنی تعاون سے کریڈٹ پر مبنی ترقی کی طرف یہ منتقلی ہندوستان کو ایک مستحکم اور پائیدار بلیو اکانومی کی طرف لے جائے گی، جہاں خوشحالی مساوی، بازار سے منسلکہ اور ماحولیاتی لحاظ سے ذمہ دارانہ ہوتی ہے۔
******
( ش ح ۔ م ش ع۔ م ا )
Urdu.No-1926
(ریلیز آئی ڈی: 2225321)
وزیٹر کاؤنٹر : 11