صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ صحت جناب جے پی نڈّا نے مانَو رچنا کنووکیشن 2025–26 سے خطاب کیا


مختلف شعبہ جات کے 590 طلبہ کو مانَو رچنا کنووکیشن 2025–26 میں ڈگریاں عطا کی گئیں

امرت کال کے دوسرے مرحلے میں نوجوانوں کے لیے مواقع اور ذمہ داری دونوں ہیں: جناب جے پی نڈّا

ادارہ جاتی زچگی کی شرح 89فیصد تک پہنچی، زچگی اموات کی شرح (ایم ایم آر) اور شیر خوار اموات کی شرح (آئی ایم آر) میں تقریباً عالمی اوسط کے مقابلے تین گنا رفتار سے کمی: مرکزی وزیرِ صحت

’بھارت میں ٹی بی میں کمی کی شرح عالمی اوسط سے دو گنا، جسے ڈبلیو ایچ او نے تسلیم کیا‘

’دنیا کی آبادی کے چھٹے حصے کی میزبانی کے باوجود ملیریا سے متعلق اموات 0.6 فیصد تک کم ہو گئیں‘

جیب سے ہونے والے طبی اخراجات 62 فیصد سے گھٹ کر 39.4فیصد رہ گئے: جناب نڈّا

جس معاشرے نے آپ کو سنوارا ہے، اسے واپس لوٹائیں: جناب جے پی نڈّا کی فارغ التحصیل طلبہ سے اپیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 FEB 2026 2:24PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزرز جناب جگت پرکاش نڈّا نے مانَو رچنا تعلیمی اداروں (ایم آر ای آئی) کے کنووکیشن تقریب 2025–26 سے خطاب کیا، جو تعلیمی وقار اور جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی گئی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ صحت جناب جگت پرکاش نڈّا نے کنووکیشن کو برسوں کی محنت، ثابت قدمی، نظم و ضبط اور لگن کے ذریعے حاصل ہونے والا ایک سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض تعلیمی سفر کی تکمیل نہیں بلکہ قوم اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کے ایک نئے مرحلے کی شروعات بھی ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ مضبوط اقدار، اخلاقی طرزِ عمل اور عوامی خدمت کے عزم کی رہنمائی میں آگے بڑھیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001DAI2.jpg

جناب نڈّا نے اس بات پر زور دیا کہ فارغ التحصیل طلبہ کا یہ گروہ اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ وہ امرت کال کے دوسرے مرحلے میں، جو 2047 تک جاری رہے گا، اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھ رہا ہے، جب بھارت ایک مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مرحلہ ایک طرف بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف اتنی ہی بڑی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ قومی ترقی میں بامعنی کردار ادا کریں۔

گزشتہ 11 برسوں میں معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت کے تحت حاصل ہونے والی انقلابی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک میں پہلے صرف 6 ایمس (اے آئی آئی ایم ایس) تھے، جبکہ اب 23 ایمس قائم کیے جا چکے ہیں، جس سے پورے ملک میں جدید ترین صحت کے اداروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک وجود میں آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے صحت کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، جن میں زچہ و بچہ صحت سے لے کر متعدی اور غیر متعدی بیماریوں تک کے شعبے شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002CH05.jpg

انہوں نے بتایا کہ ادارہ جاتی زچگی کی شرح 78 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ زچگی اموات کی شرح (ایم ایم آر) اور شیر خوار اموات کی شرح (آئی ایم آر) میں تقریباً عالمی اوسط کے مقابلے تین گنا رفتار سے کمی آئی ہے۔ تپِ دق (ٹی بی) پر قابو پانے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب نڈّا نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھارت کی نمایاں پیش رفت کو تسلیم کیا ہے، جس کے تحت ٹی بی کی اطلاع دہی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اس میں کمی کی رفتار عالمی اوسط سے دو گنا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دنیا کی مجموعی آبادی کے تقریباً چھٹے حصے کی نمائندگی کرنے کے باوجود بھارت میں ملیریا سے متعلق اموات کی شرح کم ہو کر 0.6 فیصد رہ گئی ہے۔

جناب نڈّا نے مزید زور دے کر کہا کہ جیب سے ہونے والے طبی اخراجات  62 فیصد سے گھٹ کر 39.4 فیصد تک نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔ یہ کمی آیوشمان بھارت، آیوشمان آروگیہ مندروں اور بڑے پیمانے پر آبادی کی اسکریننگ کے پروگراموں جیسے اقدامات کے باعث ممکن ہوئی ہے، جس سے صحت کی سہولیات زیادہ قابلِ رسائی اور سستی بنی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003KABO.jpg

آئندہ درپیش چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کی وسیع آبادی کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے خدمات کی فراہمی میں معیار اور وسعت—دونوں کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے طلبہ کی تعلیمی کامیابی کی تشکیل میں والدین، اساتذہ، ادارہ جاتی قیادت اور معاون عملے کی مشترکہ خدمات کو بھی تسلیم کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب نڈّا نے فارغ التحصیل طلبہ کو تلقین کی کہ وہ ہمیشہ یہ احساس اپنے ساتھ رکھیں کہ معاشرے نے ان کی کامیابی ممکن بنائی ہے اور بدلے میں انہیں چاہیے کہ وہ بے لوث اور بامعنی انداز میں معاشرے کی خدمت کر کے اپنا قرض ادا کرنے کی کوشش کریں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پرشانت بھلا، چانسلر، مانَو رچنا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹڈیز (ایم آر آئی آئی آر ایس) اور مانَو رچنا یونیورسٹی (ایم آر یو) نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی اور تعلیمی ادارے کے علمی معیارِ اعلیٰ، جدت پر مبنی تعلیم، صنعت کے ساتھ تعاون اور عالمی سطح کی نمائش (گلوبل ایکسپوژر) کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پیشہ ورانہ امتیاز اور سماجی اثر کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہوئے اخلاقی اقدار سے جڑے رہیں۔

تقریب کے دوران ممتاز شخصیات کو معاشرے کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں عطا کی گئیں۔ ان میں جسٹس گیتا مِتّل (ایم آر یو)، محترمہ جناباسی سنگھ، وزیرِ کھیل، بہار (ایم آر آئی آئی ایس ایس)، ڈاکٹر انِل کمار جے نائک، قومی صدر، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (ایم آر آئی آئی آر ایس) اور عزت مآب ڈاکٹر ایان بورگ، معزز نائب وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ و سیاحت، جمہوریہ مالٹا (ایم آر آئی آئی آر ایس) شامل تھے۔

کنووکیشن کے دوران انجینئرنگ، مینجمنٹ، قانون، تعلیم، سائنسز اور صحت سمیت مختلف شعبہ جات کے مجموعی طور پر 590 طلبہ کو ڈگریاں عطا کی گئیں۔ اس میں 521 انڈر گریجویٹ طلبہ، 58 پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور 11 ڈاکٹریٹ کے اسکالرز شامل تھے، جو فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک اہم تعلیمی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ان کی مثالی تعلیمی کارکردگی اور غیر معمولی کامیابیوں کے اعتراف میں گولڈ میڈلز اور تعلیمی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

اس موقع پر اعلیٰ معززین، اساتذہ، والدین اور فارغ التحصیل طلبہ موجود تھے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1886


(ریلیز آئی ڈی: 2224889) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil