خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت خواتین اور بچوں کے خلاف انسانی اسمگلنگ کے جرم سمیت تمام جرائم کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کو اعلیٰ ترین اہمیت دے رہی ہے


انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے، اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور بازآبادکاری کے لیے متعدد قانونی اور (اسکیمی مداخلتیں) منصوبہ بند اقدامات کیے گئے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2026 3:48PM by PIB Delhi

پولیس اور "امنِ عامہ" ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت ریاستی فہرست کے مضامین ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا—بشمول انسانی اسمگلنگ اور اسمگلنگ کے متاثرین کے جنسی استحصال سے متعلق جرائم کی تفتیش اور ان پر مقدمہ چلانا—متعلقہ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور وہی ان امور سے نمٹنے کی مجاز ہیں۔

حکومتِ ہند انسانی اسمگلنگ کے جرائم سمیت خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان کے سدِباب کو نہایت اہمیت دیتی ہے اور اسمگلنگ کی اس لعنت کے خاتمے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ مرکزی حکومت نے اسمگلنگ سے نمٹنے، متاثرین کے تحفظ اور ان کی بازآبادکاری کے لیے متعدد قانون سازی اور منصوبہ بند اقدامات کیے ہیں۔

بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس)، 2023 کی دفعات 143 اور 144، انسانی اسمگلنگ کے خلاف ہندوستان کے قانونی فریم ورک کے اہم ستون ہیں۔ یہ دفعات انڈین پینل کوڈ، 1860 کی دفعات 370 اور 370-اے کے تحت آنے والے جرائم کی جگہ لیتی ہیں اور ان کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دیتی ہیں۔ بی این ایس کی دفعہ 143 میں اسمگلنگ کی تعریف کسی شخص کی بھرتی، نقل و حمل، پناہ دینا، منتقلی یا وصولی کے طور پر کی گئی ہے، جو مختلف جبر آمیز ذرائع کے استعمال کے ذریعے استحصال کے مقصد سے کی جائے۔ اس دفعہ کے تحت اسمگلنگ کے لیے سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے، جبکہ متعدد افراد یا بچوں کی اسمگلنگ کے معاملات میں مزید سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

مزید برآں، بھارتیہ نیا سنہیتا، 2023 کی دفعہ 144 اسمگل شدہ افراد کے استحصال، بشمول جنسی استحصال، سے متعلق ہے۔ اس دفعہ میں اسمگل شدہ بچوں اور بالغوں کے استحصال کے لیے مختلف سزاؤں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن میں قید اور جرمانے کی متنوع مدتیں شامل ہیں۔ دفعہ 111 کے تحت بی این ایس میں منظم جرائم سے متعلق ایک نیا جرم شامل کیا گیا ہے، جس میں افراد کی اسمگلنگ اور جسم فروشی کے لیے انسانی اسمگلنگ بھی شامل ہے۔ اسی طرح، بی این ایس کی دفعہ 95 بچے کی خدمات حاصل کرنے، ملازمت دینے یا اسے کسی جرم کے ارتکاب کے لیے استعمال کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 99 جسم فروشی کے مقاصد کے لیے بچے کی خرید و فروخت سے متعلق ہے، جو انسانی اسمگلنگ کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔

علاوہ ازیں، خواتین کے خلاف بعض سنگین جرائم—جیسے جسم فروشی کے مقاصد کے لیے بچے کی خریداری (دفعہ 99)، منظم جرم (دفعہ 111)، اور بھیک منگوانے کے مقصد سے بچے کو اغوا کرنا یا معذور بنانا (دفعہ 139)—کے لیے لازمی کم از کم سزاؤں کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ بھارتیہ ناگریک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس)، 2023 میں بھی اسمگلنگ کو قابلِ شناخت اور ناقابلِ ضمانت جرم تسلیم کیا گیا ہے۔ بی این ایس ایس کی دفعہ 396 متاثرین کے معاوضے کی اسکیم کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس کے تحت ہر ریاستی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ فرد یا اس کے زیر کفالت افراد کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے ایک اسکیم تیار کرے، تاکہ جرم کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان یا چوٹ کی تلافی اور متاثرین کی بازآبادکاری ممکن بنائی جا سکے۔

تجارتی جنسی استحصال اور اس سے وابستہ جرائم کی روک تھام کے لیے جسم فروشی اور افراد کی اسمگلنگ کے انسداد کے مقصد سے غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ، 1956 نافذ العمل ہے۔

خواتین کو سماجی اور اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے مقصد سے ملک بھر میں مرکزی حکومت کی مختلف وزارتوں اور محکموں کے ذریعے متعدد اسکیمیں اور اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان میں خواتین سیکس ورکرز بھی شامل ہیں، بشرطیکہ وہ ان اسکیموں اور اقدامات کے تحت مقررہ اہلیت کی شرائط پوری کرتی ہوں۔ اس ضمن میں چند اہم اسکیمیں اور پروگرام درج ذیل ہیں:

  • خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے دوران، مالی سال 2022-23 سے خواتین کے تحفظ، سلامتی اور بااختیاری کے لیے مرکزی اسپانسرڈ ’’مشن شکتی‘‘ امبریلا اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ مشن شکتی کے تحت ’’شکتی سدن‘‘ ایک اہم جزو ہے، جو مشکل حالات میں بے سہارا خواتین کو پناہ، خوراک، پیشہ ورانہ تربیت سمیت دیگر ضروری معاونت فراہم کرتا ہے۔
  • خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت ’’سکشم آنگن واڑی‘‘ اور ’’پوشن 2.0‘‘ اسکیم بھی نافذ کر رہی ہے۔ یہ ایک عالمگیر اسکیم ہے، جس کے تحت چھ سال تک کے بچوں کے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو غذائیت، ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم سے متعلق مفت خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
  • پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) کے تحت نقد فائدہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں پہلے بچے کے لیے 5,000 روپے اور دوسرے بچے کے لیے، اگر وہ لڑکی ہو، 6,000 روپے براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔
  • نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (این ایس اے پی)، اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی)، پردھان منتری سرکشا بیما یوجنا (پی ایم ایس بی وائی) اور پردھان منتری جیون جیوتی بیما یوجنا (پی ایم جے جے بی وائی) کو انشورنس کوریج اور پنشن کے ذریعے سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
  • خواتین کی سخت جسمانی محنت کو کم کرنے اور بالخصوص دیہی علاقوں میں ان کے لیے زندگی کو آسان بنانے کے مقصد سے سوچھ بھارت مشن کے تحت 11.6 کروڑ سے زائد بیت الخلاء تعمیر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح اجولا یوجنا کے تحت 10.3 کروڑ گھروں کو صاف ایندھن فراہم کیا گیا ہے، جبکہ جل جیون مشن کے ذریعے تقریباً 15 کروڑ گھروں کو محفوظ اور پینے کے قابل نل کے پانی کے کنکشن دیے گئے ہیں۔
  • پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین (پی ایم اے وائی-جی) اور پردھان منتری آواس یوجنا-اربن (پی ایم اے وائی-یو) کا مقصد ’’سب کے لیے مکان‘‘ کی فراہمی ہے۔ اس کے تحت دیہی علاقوں میں بے گھر خاندانوں اور کچے یا خستہ حال مکانات میں رہنے والے گھرانوں کو بنیادی سہولیات کے ساتھ پکے مکانات فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں کچی آبادیوں سمیت معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کی رہائشی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے۔
  • آیوشمان بھارت کے تحت حکومت 55 کروڑ سے زائد شہریوں کو 1,200 سے زیادہ طبی پیکجوں کے ذریعے مفت علاج کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جن میں 141 سے زائد طبی پیکجز خاص طور پر خواتین کی صحت کی ضروریات کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت سات اقسام کی اسکریننگ—ٹی بی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، منہ کا کینسر، چھاتی کا کینسر، سروائیکل کینسر اور موتیابند—کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس سے خواتین جنسی کارکنوں سمیت کروڑوں خواتین مستفید ہوئی ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں 1,50,000 سے زائد صحت اور تندرستی مراکز (اے بی-ایچ ڈبلیو سی)، جنہیں آیوشمان آروگیہ مندر بھی کہا جاتا ہے، قائم کیے گئے ہیں، جو صحت کی خدمات کو براہِ راست کمیونٹی کے قریب لاتے ہیں۔ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم جے اے وائی) دنیا کی سب سے بڑی عوامی فنڈ سے چلنے والی ہیلتھ انشورنس اسکیم ہے، جس میں غریب اور پسماندہ خواتین پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
  • ملک بھر میں 16,000 سے زائد پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی کیندر (پی ایم بی جے کے) کام کر رہے ہیں۔ یہ مراکز سستی ادویات اور طبی آلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تقریباً 40 خواتین کے لیے مخصوص مصنوعات بھی دستیاب کراتے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’سویدھا سینیٹری نیپکن‘‘ کے نام سے سینیٹری نیپکن فی پیڈ ایک روپے کی انتہائی کم قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں۔
  • مرکزی حکومت نے پردھان منتری غریب کلیان انا یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) کے تحت انتودیہ انا یوجنا (اے اے وائی) کے تقریباً 81.35 کروڑ مستفیدین اور ترجیحی گھریلو (پی ایچ ایچ) مستفیدین کو ان کے استحقاق کے مطابق اناج فراہم کیا ہے۔ حکومت نے سال 2024 سے اگلے پانچ برسوں تک مفت اناج کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) اور وزیر اعظم کی انٹرن شپ اسکیم کے تحت خواتین کو ہنر مندی کی ترقی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
  • پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) کے تحت بھی خواتین سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے مالی شمولیت کے اقدامات میں سے ایک ہے، جو مختلف فلاحی اسکیموں، قرض اور بیمہ خدمات کے تحت براہ راست فوائد تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
  • مدرا یوجنا، پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرز آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی)، روزگار کے لیے وکشت بھارت-گارنٹی اور اجیوکا مشن (گرامین) (وی بی-جی رام جی) جیسی اسکیمیں روزگار اور خود روزگار کے مواقع کے ساتھ ساتھ قرض کی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت مستفید ہونے والوں کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔

یہ معلومات خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ انپورنا دیوی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-1844


(ریلیز آئی ڈی: 2224727) وزیٹر کاؤنٹر : 34
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी