نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے وزیر محترم جناب ڈاکٹر منسکھ مانڈوِیا نے  این ایس این آئی ایس پٹیالہ کی ’’گراس روٹ ٹو گریٹنیس‘‘ کانفرنس  کے دوران بھارت کے کھیل کود شعبے کے عروج کے لیے معیاری کوچنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا


بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھے کوچوں کو تیار کرنا اتناہی اہم ہے جتنا کہ ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا

دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ’’گراس روٹس ٹو گریٹنیس: ٹیلنٹ کی شناخت اور ایتھلیٹ کی ترقی‘‘ کا آغاز جمعہ کے روز ایس اے آئی این ایس این آئی ایس پٹیالہ  میں ہوا جس میں 600 سے افراد نے شرکت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2026 6:36PM by PIB Delhi

* جمعہ کے روز نیتاجی سبھاش نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس (این ایس این آئی ایس) میں ’’گراس روٹس ٹو گریٹنیس: ٹیلنٹ کی شناخت اور ایتھلیٹ کی ترقی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنے والے بین الاقوامی ماہرین اور ماہرین تعلیم  نے کھیل کود کے شعبے میں 2047 تک دنیا کے سرکردہ پانچ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے عزت مآب نریندر مودی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی غرض سے کوالٹی کوچ تیار کرنے کی ضرورت کو واضح طور پر اجاگر کیا۔

اس پہل قدمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے کہا: "ہمیں "گراس روٹس ٹو گریٹنیس - ٹیلنٹ کی شناخت اور ایتھلیٹ کی ترقی" کے موضوع پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرنے ، اور کھیل کود میں عمدگی لانے کے تئیں ہماری عہدبستگی پر فخر ہے۔ ہماری توجہ نچلی سطح پر ترقی، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور کھلاڑیوں کی کامیابی کے لیے تکنالوجی سے فائدہ اٹھانے پر ہے، یہ کانفرنس ٹیلنٹ کی شناخت، ایل ٹی اے ڈی، اور اسپورٹس سائنس انٹیگریشن میں بہترین طریقوں کا اشتراک کرنے کے لیے عالمی ماہرین کو اکٹھا کرتی ہے۔‘‘

این ایس این آئی ایس پٹیالہ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی) کے تحت کھیلوں کی کوچنگ اور اسپورٹس سائنس کی تعلیم کا اعلیٰ ترین قومی ادارہ ہے۔ کانفرنس میں 600 سے زائد خواہشمند کوچز، نامور کھلاڑیوں، کھیلوں کے سائنسدانوں، منتظمین، ماہرین تعلیم، اور طلباء کے ساتھ ساتھ 30سے  زائد نامور قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی، جس سے یہ ملک میں کھیلوں کی ترقی کے میدان میں علم کے اشتراک کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔

نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت (ایم وائی اے ایس) کے سکریٹری (کھیل کود)  اور ایس اے آئی کے ڈائرکٹر جنرل ہری رنجن راؤ (آئی اے ایس)کے ذریعہ کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ہری رنجن راؤ نے کہا کہ کھیل کود کی وزارت ’’ایک مضبوط کھیل کود ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے بغیر تھکے کام کر رہی ہے۔‘‘

فزیکل ایجوکیشن اینڈ مینجمنٹ اِن اسپورٹ (سنگی ڈونم یونیورسٹی، سربیا) کے ڈین آف فیکلٹی پروفیسر نیناد ترونک نے اس اعلیٰ کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنی خوشی کا اظہار کیا: ’’ میں پٹیالہ میں ہونے والی اس کانفرنس میں مجھے مدعو کرنے کے لیے اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ یہ ہم سب کے لیے نہ صرف خواہشمند کوچز کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے، آراء اور خیالات کا تبادلہ کرنے کا بہترین موقع ہے بلکہ کوچنگ کے شعبے میں داخل ہونے والے طلبہ اور کھلاڑیوں کے ساتھ بھی۔ یہ ہم جیسے لوگوں کو ہندوستانی کوچوں کو درپیش چیلنجوں کا حل فراہم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ‘‘

ایف آئی بی اے باسکٹ بال کوچ رچرڈ لی بروکس، جو سلوواکیہ کی قومی ٹیم کے یوتھ کوچ کے طور پر دوگنا ہوتے ہیں، نے کہا کہ کوچز کو بہتر بنانا اور علم فراہم کرنا صرف ٹیلنٹ کی تلاش سے زیادہ اہم ہے کیونکہ ایک بچے میں فطری صلاحیتیں ہو سکتی ہیں لیکن آپ ان کی پرورش اور رہنمائی کس طرح کرتے ہیں وہی چیز ہے جو بین الاقوامی سطح پر تمغے دلائے گی۔

رچرڈ لی بروکس نے ایس اے آئی میڈیا کو بتایا، ’’میں عموماً قومی ٹیموں کی کوچنگ کرتا تھا لیکن بعض اوقات مجھے نوجوانوں کی ٹیموں کی کوچنگ کی بھی ضرورت پڑ جاتی تھی، کیونکہ آپ لوگ جسے یوتھ ٹیمیں یا گراس روٹ ٹیم کہتے ہیں، ہمارے پاس کوئی نہیں تھا۔ لہذا، ہم نے اوپر سے شروع کیا۔ کوچز کو سکھایا کہ بچوں کو کیسے پڑھایا جائے اور ان کو اندر لایا جائے۔ ہندوستانی باسکٹ بال اب ترقی کر رہا ہے، ظاہر ہے کہ آگے ایک طویل راستہ ہے۔ لہذا، یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے کوچز کو کیسے سکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنسیں اتنی اہم ہو جاتی ہیں کہ وہ معلومات فراہم کرتی ہیں، جو اب تک نامعلوم ہیں۔‘‘

اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے دیگر سرکردہ ماہرین میں فرح احمدوف (ہیڈ ، سائنٹفک ڈپارٹمنٹ، سمرقند  اسٹیٹ یونیورسٹی)، ڈاکٹر پنار یپرَک (اسسٹنٹ پروفیسر، ترکیہ)، پروفیسر ڈاکٹر ہنو فیلڈر (قائم مقام ڈائرکٹر، اولمپک تربیتی مرکز) اور ڈاکٹر مارٹن ٹومز (ایسو سی ایشن آف گلوبل اسپورٹ ایجوکیشن اینڈ کوچنگ، برمنگھم یونیورسٹی، برطانیہ) شامل تھے۔

7 مئی، 1961 میں قائم کیا گیا نیتی جی سبھاش نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس  ایشیا کا وسیع ترین کھیل کود کا ادارہ ہےجو پٹیالہ میں 268 ایکڑ رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ادارہ اپنے قیام سے لے کر اب تک، 17 پدم شری  ، 12 دروناچاریہ، 17 میجر دھیان چند کھیل رتن اور 175 ارجن ایوارڈ یافتگان  پیدا کر چکا ہے۔

مارٹن ٹامز نے ایس اے آئی میڈیا کو بتایا، ’’ گذشتہ15 برسوں میں پٹیالہ میرا دوسرا گھر رہا ہے اور یہاں کی ترقی دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ "گراس روٹ ٹو گریٹنیس" جیسی کانفرنسیں واقعی اہم ہیں۔ کسی بھی سطح پر کسی بھی ہندوستانی کھلاڑی کے سفر کو سہارا دینے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان چیمپئنس کو بنانے کے پیچھے کیا مقصد ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں یہاں تربیت فراہم کار ملے ہیں جو باہر جائیں گے اور کوچ کی آئندہ پیڑھی بنیں گے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت میں مدد کریں گے۔ یہ بہت ہے کیونکہ ہم سب تمغات کی فہرست میں سرفہرست رہنا چاہتے ہیں۔‘‘

ایس اے آئی کے سینئر کوچز اور عہدیداروں نے ماہرین کے ساتھ بات چیت کی اور نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت، طویل مدتی ترقی کے راستے بنانے، اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کامیابی کے لیے تیار کرنے میں اپنے عملی تجربات اور اہم معلومات ساجھا کیں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے، حکومت پنجاب میں اسپیشل چیف سکریٹری، سروجیت سنگھ (آئی اے ایس) نے کہا: ’’ اس طرح کی کانفرنسیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ اس سے ہمارے کوچز کو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پنجاب حکومت کا کھیلوں کا بجٹ پہلے 250-300 کروڑ روپے کے درمیان ہوتا تھا، اب یہ تین گنا بڑھ کر تقریباً 1000 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ ہم گاؤں پنچایت کی سطح پر تقریباً 3000 موجودہ کھیل کے میدانوں کو اپ گریڈ کر رہے ہیں جس میں مناسب گھاس کی ٹرف، پانی دینے کا نظام، بیت الخلاء اور چینج رومز وغیرہ ہیں۔ کوچوں کی تعداد بھی 350 سے بڑھ کر 2300 کے قریب ہو گئی ہے، جس میں شاندار کوچز کو فوری طور پر سرکاری ملازمتیں مل جاتی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کھیلوں کی ترقی کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔‘‘

***

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1868


(ریلیز آئی ڈی: 2224653) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , हिन्दी