قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی ثالثی کونسل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2026 1:41PM by PIB Delhi

ثالثی اور مصالحت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کی دفعہ 10 کے تحت، جس کے ذریعے ثالثی اور مصالحت ایکٹ، 1996 میں پارٹ آئی اے شامل کیا گیا، ایک سات رکنی ادارے ثالثی کونسل آف انڈیا کے قیام کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس کونسل کا مقصد، دیگر امور کے علاوہ، ثالثی اداروں کی درجہ بندی سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل، ثالثوں کی منظوری (اکریڈیٹیشن) فراہم کرنے والے پیشہ ورانہ اداروں کو تسلیم کرنا  اور ثالثی کے شعبے میں تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور کورسز کا انعقاد کرنا ہے۔ تاہم تاحال ثالثی کونسل آف انڈیا تشکیل نہیں دی جا سکی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران، حکومتِ ہند نے بھارت کو ثالثی کے ایک عالمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے مقصد سے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں ثالثی اور مصالحت ایکٹ، 1996 میں 2015، 2019 اور 2021 میں کی گئی ترامیم شامل ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد ثالثی کارروائیوں کے بروقت اختتام کو یقینی بنانا، ثالثوں کی غیر جانبداری کو برقرار رکھنا، ثالثی عمل میں عدالتی مداخلت کو کم سے کم کرنا اور ثالثی فیصلوں (ایوارڈز) کے فوری نفاذ کو ممکن بنانا ہے۔ مزید برآں، یہ ترامیم ادارہ جاتی ثالثی کو فروغ دینے، قانون کو عالمی بہترین طریقۂ کار کے مطابق ہم آہنگ کرنے اور قانونی ابہامات کو دور کرنے کے لیے کی گئی ہیں، تاکہ ایک ایسا مضبوط ثالثی ماحولیاتی نظام قائم ہو سکے جس میں ثالثی ادارے ترقی کر سکیں۔

انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر ایکٹ، 2019 نافذ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا مقصد ادارہ جاتی ثالثی، بشمول بین الاقوامی تجارتی ثالثی، کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک خودمختار اور آزاد ادارہ قائم کرنا ہے۔ یہ مرکز کم لاگت میں عالمی معیار کی ثالثی سے متعلق خدمات فراہم کر رہا ہے، جن میں معروف اور پینل میں شامل ثالث، اور ثالثی کارروائیوں کے ہموار انعقاد کے لیے ضروری انتظامی معاونت شامل ہے۔ اس مرکز کو ملک میں ایک مثالی ثالثی ادارہ بنانے کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو ثالثی کے ادارہ جاتی فریم ورک کے معیار کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کرے گا۔

مزید برآں، ملک میں ادارہ جاتی ثالثی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جون 2025 میں، محکمۂ قانونی امور نے انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر اور آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی)، جو ایک مرکزی عوامی شعبے کا ادارہ ہے، کے اشتراک سے ایک کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس کا مقصد مرکزی عوامی شعبے کے اداروں میں ادارہ جاتی ثالثی کے فوائد سے متعلق آگاہی بڑھانا تھا۔ یہ کانفرنس ادارہ جاتی ثالثی اور انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر کے زیرِ اہتمام ادارہ جاتی ثالثی کو اپنانے کی اہمیت پر مکالمے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔

ستمبر 2025 میں، انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر نے معزز دہلی ہائی کورٹ میں ادارہ جاتی ثالثی کے موضوع پر ایک آکسفورڈ طرز کی بحث کا اہتمام کیا، جس میں نامور مقررین کی قیادت میں مضبوط اور مدلل دلائل پیش کیے گئے۔ اس کے بعد، ستمبر 2025 ہی میں، ادارہ جاتی ثالثی کے موضوع پر ایک ویبینار بھی انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر نے فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹس آرگنائزیشن کے اشتراک سے منعقد کیا، جس میں برآمد کنندگان کو تجارتی تنازعات کے حل میں ادارہ جاتی ثالثی کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ، انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر نے متبادل تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے متعلق قوانین اور طریقۂ کار کے بارے میں علم کی اشاعت کے لیے اپنی سالانہ میگزین کا پہلا شمارہ بھی جاری کیا ہے۔ اس میگزین میں، دیگر کے ساتھ ساتھ، قومی اور بین الاقوامی سطح کے ممتاز ثالثی ماہرین کے مضامین شامل ہیں۔

مالی سال 2024-25 کے دوران بعض مرکزی عوامی شعبے کے اداروں، یعنی آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی)، گیس اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ (گیل) اور بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے اپنے تنازعات کے حل سے متعلق دفعات میں انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر کو مقررہ ثالثی ادارے کے طور پر اختیار کیا ہے۔

انڈیا انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر ادارہ جاتی ثالثی کے فوائد کو عام کرنے کے لیے مسلسل اقدامات بھی کر رہا ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں وزارتِ قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ پارلیمانی امور کے وزیرِ مملکت، جناب ارجن رام میگھوال نے فراہم کیں۔

 

*********

ش ح۔ش ت ۔م الف

U. No-1809


(ریلیز آئی ڈی: 2224435) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil