جل شکتی وزارت
دریاؤں کا باہمی ربط اور بڑے آبپاشی منصوبے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 4:42PM by PIB Delhi
قومی نقطۂ نظر منصوبہ (این پی پی) کے تحت دریاؤں کو باہم جوڑنے(آئی ایل آر) کے 30 شناخت شدہ منصوبوں میں سے 26 لنکس کے لیے امکانی رپورٹیں (ایف آرز) اور 13 لنکس کے لیے تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹیں (ڈی پی آرز) مکمل کی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، این پی پی کے تحت دریاؤں کو باہم جوڑنے کا کوئی بھی منصوبہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر سے متعلق نہیں ہے۔ ملک میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جن دریائی ربطی منصوبوں کو منظوری حاصل ہوئی یا جن میں پیش رفت درج کی گئی، بشمول گوداوری–کرشنا دریائی لنک، کرشنا (المٹی)–پینار لنک، بیڈتی–وردھا لنک، نیتراؤتی–ہیماوتی لنک اور کین–بیتوا لنک، ان کی صورتحال ضمیمہ میں دی گئی ہے۔
کین–بیتوا لنک پروجیکٹ واحد ترجیحی لنک ہے جو نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی تخمینی لاگت 44,605 کروڑ روپے ہے، جس میں 39,317 کروڑ روپے مرکزی امداد شامل ہے۔ پولاورم آبپاشی منصوبہ (پی آئی پی)، جس میں گوداوری (پولاورم)–کرشنا (وجئے واڑہ) لنک شامل ہے، کو اب تک مجموعی طور پر 20,658 کروڑ روپے کی مرکزی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔
نارتھ کوئل ریزروائر منصوبہ ایک بین الریاستی بڑا آبپاشی منصوبہ ہے، جس کا کمانڈ ایریا ریاست بہار اور جھارکھنڈ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 2,430.76 کروڑ روپے ہے، جس میں 1,836.41 کروڑ روپے کا مرکزی حصہ شامل ہے۔ منصوبے کی نظرِ ثانی شدہ تکمیل کی مدت جون 2026 ہے۔ مذکورہ منصوبے کی آبپاشی صلاحیت 1,14,021 ہیکٹر ہے۔
ہر دریائی ربطی منصوبے کے لیے امکانی رپورٹ (ایف آر) اور تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری کے دوران ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی اثرات، بشمول ساحلی برادریوں پر اثرات، کا اندازہ لگایا جا سکے۔ موجودہ قوانین کے تحت درکار ماحولیاتی اور جنگلی حیات سے متعلق قانونی منظوریوں کا حصول کیا جاتا ہے۔ شریک ریاستوں کے نفاذی معاہدوں پر دستخط کے بعد، تجاویز کو مرکزی امداد کے لیے جانچ اور غور و خوض کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ مرکز اور ریاستوں کے درمیان لاگت کی شراکت کے انتظامات یکساں نہیں ہیں بلکہ ہر منصوبے کے لیے علیحدہ علیحدہ طے کیے جاتے ہیں۔
ان منصوبوں کے ممکنہ فوائد، جن میں آبپاشی کی صلاحیت، پینے کے پانی کی دستیابی اور مجموعی علاقائی آبی تحفظ شامل ہیں، ضمیمہ میں فراہم کیے گئے ہیں۔
شفافیت، ماحولیاتی پائیداری اور منصفانہ آبی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے، آئی ایل آر پروگرام مضبوط ادارہ جاتی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے، جن میں دریاؤں کو باہم جوڑنے سے متعلق خصوصی کمیٹی (ایس سی آئی ایل آر)، قومی آبی ترقیاتی ایجنسی (این ڈبلیو ڈی اے) کی گورننگ باڈی، اور دریاؤں کو باہم جوڑنے سے متعلق ٹاسک فورس (ٹی ایف آئی ایل آر) شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ریاستوں کو تکنیکی، ماحولیاتی، سماجی اور آبی تقسیم سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ این ڈبلیو ڈی اے کی تمام مطالعاتی رپورٹس ریاستوں کو تبصروں کے لیے فراہم کی جاتی ہیں، جنہیں باقاعدہ طور پر شامل کیا جاتا ہے۔
|
شمارنمبر
|
منصوبے کا نام
|
مستفید ریاستیں
|
سالانہ آبپاشی (لاکھ ہیکٹیئر)
|
گھریلو و صنعتی (ایم سی ایم)
|
آبی بجلی (میگاواٹ)
|
ایف آر / ڈی پی آر کی تکمیل
|
موجودہ حیثیت
|
|
1
|
کین–بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی)
|
اتر پردیش و مدھیہ پردیش
|
10.62 (اتر پردیش – 2.51، مدھیہ پردیش – 8.11)
|
194
|
103 (ہائیڈرو) اور 27 (شمسی)
|
ڈی پی آر 2018
|
حکومت ہند نے دسمبر 2021 میں 44,605 کروڑ روپے (قیمت کی سطح 2020-21) کی لاگت کے ساتھ منظوری دی، مرکزی امداد 36,290 کروڑ روپے؛ خصوصی مقصدی ادارہ کین بیتوا لنک پروجیکٹ اتھارٹی (کے بی ایل پی اے)؛ وزیر اعظم نے 25.12.2024 کو سنگِ بنیاد رکھا؛ تکمیل مارچ 2030
|
|
2
|
گوداوری (انچمپلی) – کرشنا (ناگارجن ساگر)
|
تلنگانہ
|
2.38
|
232
|
26
|
ڈی پی آر جنوری 2024
|
ترمیم شدہ تجویز کی ڈی پی آر جنوری 2024 میں شریک ریاستوں کو بھیجی گئی؛ مسودۂ مفاہمتی معاہدہ اپریل 2024 میں گردش میں
—
—
|
|
3
|
کرشنا (ناگارجن ساگر) – پینار (سوماسیلا)
|
آندھرا پردیش
|
1.71
|
236
|
40
|
ڈی پی آر جنوری 2024
|
|
4
|
پینار (سوماسیلا) – کاویری (مانی مکتھا)
|
آندھرا پردیش / تمل ناڈو / پڈوچیری
|
0.51 / 1.14 / —
|
43 / 618 / 62
|
—
|
ڈی پی آر جنوری 2024
|
|
5
|
ترمیم شدہ پاربتی–کالی سندھ–چمبل لنک
|
مدھیہ پردیش و راجستھان
|
کل 10.15 (مدھیہ پردیش 6.11، راجستھان 4.03)
|
کل 2043
|
—
|
—
|
مفاہمتی معاہدہ جنوری 2024؛ نفاذی معاہدہ دسمبر 2024؛ راجستھان کے اجزاء کی ڈی پی آرز ای۔پی اے ایم ایس پورٹل پر اپ لوڈ
|
|
6
|
کرشنا (المٹی) – پینار
|
کرناٹک / آندھرا پردیش
|
0.69 / 1.57
|
464.51 / (10.1 پینے، 22.3 صنعتی)
|
—
|
ڈی پی آر ستمبر 2025
|
—
|
|
7
|
بیڈتی – وردھا لنک
|
کرناٹک
|
1.05
|
38
|
—
|
ڈی پی آر ستمبر 2022
|
متبادل لنک کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ اگست 2025
|
|
8
|
نیتراؤتی – ہماوتی لنک
|
کرناٹک
|
0.34
|
—
|
—
|
ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ 1994
|
یتّنہولے منصوبہ 2014 کے بعد اضافی پانی دستیاب نہیں
|
|
9
|
گوداوری (ایس ایس ایم پی/انچمپلی) – کرشنا (پلی چنتلا)
|
تلنگانہ و آندھرا پردیش
|
کل 4.74
|
—
|
90
|
ڈی پی آر مارچ 2024
|
—
|
|
10
|
گوداوری (پولاورم) – کرشنا (وجے واڑہ)
|
آندھرا پردیش
|
4.36
|
665
|
960
|
ڈی پی آر 2005
|
فوائد پولاورم آبپاشی منصوبے کے مجموعی فوائد
|
|
11
|
کرشنا (سری سیلم) – پینار
|
آندھرا پردیش
|
1.79
|
58
|
11
|
ڈی پی آر مارچ 2024
|
—
|
|
12
|
کوسی – گھاگھرا لنک
|
بہار، اتر پردیش و نیپال
|
کل 8.35
|
0
|
—
|
ایف آر مکمل
|
—
|
|
13
|
گنڈک – گنگا لنک
|
اتر پردیش و نیپال
|
کل 34.58
|
700
|
4375 اور 180
|
ایف آر جون 2024
|
—
|
|
14
|
یمنا – راجستھان لنک
|
ہریانہ و راجستھان
|
ہریانہ 0.11، راجستھان 2.40
|
30
|
1702
|
ایف آر ستمبر 2021
|
—
|
|
15
|
راجستھان – سبرمتی لنک
|
راجستھان و گجرات
|
کل 11.53
|
102
|
5126
|
ایف آر فروری 2021
|
—
|
|
16
|
چونار – سون بیراج لنک
|
بہار و اتر پردیش
|
کل 0.60
|
—
|
—
|
ایف آر ستمبر 2025
|
—
|
|
17
|
گنگا (فرکہ) – دامودر – سبرنریکھا لنک
|
مغربی بنگال، اڈیشہ و جھارکھنڈ
|
—
|
432
|
—
|
ایف آر مارچ 2021
|
—
|
|
18
|
سبرنریکھا – مہانندی لنک
|
مغربی بنگال و اڈیشہ
|
کل 2.16
|
198
|
20
|
ایف آر فروری 2021
|
—
|
***
UR-1763
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2224077)
وزیٹر کاؤنٹر : 7