جل شکتی وزارت
جل جیون مشن کے تحت اسکیموں کا معائنہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 4:37PM by PIB Delhi
محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی)، حکومتِ ہند نے سال 2025 میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کی اسکیموں کے زمینی معائنے کے لیے نامزد اضلاع میں مرکزی نوڈل افسران (سی این اوز) کی تقرری کی۔ سی این اوز نے ملک بھر کے 155 اضلاع میں 163 اسکیموں کا معائنہ کیا۔ ان معائنوں کے دوران جن نکات کا جائزہ لیا گیا، اُن میں بالخصوص اسکیموں کی فعالیت، ادارہ جاتی نظام، کاموں کے معیار، تکنیکی ڈیزائن، شکایات کے ازالے کے نظام، تھرڈ پارٹی انسپیکشن ایجنسیز (ٹی پی آئی ایز) کی مؤثریت، اور لاگت میں اضافہ اور مدت میں تاخیر سے متعلق امور شامل تھے۔
پینے کا پانی ریاستی موضوع ہونے کے باعث، جل جیون مشن کے تحت آنے والی اسکیموں سمیت پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق اسکیموں کی منصوبہ بندی، منظوری، نفاذ، آپریشن اور رکھ رکھاؤ (او اینڈ ایم) کی ذمہ داری ریاستی/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ حکومتِ ہند تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرکے ریاستوں کی مدد کرتی ہے۔ اہداف کے حصول کے لیے ریاستوں میں مختلف سطحوں پر بیک وقت متعدد منصوبے نافذ کیے جاتے ہیں۔ اس لیے دیہی آبی فراہمی کے منصوبوں کے انفرادی منصوبہ/اسکیم کی سطح پر تفصیلات حکومتِ ہند کے پاس محفوظ نہیں رکھی جاتیں۔
اگست 2019 میں، مرکزی کابینہ نے جل جیون مشن کے نفاذ کی منظوری دی تھی جس کے لیے مرکزی حصہ کے طور پر 2,08,652 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ مختص شدہ رقم کے مقابلے میں تقریباً پوری رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ طویل مدتی پائیداری اور شہری مرکزیت پر مبنی آبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے، دیہی پائپڈ واٹر سپلائی اسکیموں کے انفراسٹرکچر کے معیار اور او اینڈ ایم پر توجہ کے ساتھ 100 فیصد کوریج کے ہدف کے حصول کے لیے، معزز وزیرِ خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر 2025-26 کے دوران جل جیون مشن کی مدت کو 2028 تک بڑھانے کا اعلان کیا، جس کے لیے مجموعی اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
پانی چونکہ ریاستی موضوع ہے، اس لیے سامان اور خدمات کی خریداری سے متعلق ٹینڈرز کے تکنیکی اور مالی معیار کو حتمی شکل دینے کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں پر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ جل جیون مشن کے نفاذ کے لیے جاری کردہ عملیاتی رہنما خطوط کے مطابق، حکومتِ ہند نے ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ “انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (ای پی سی) معاہدوں کو حتمی شکل دیتے وقت، ٹینڈر دستاویزات میں متعلقہ شق شامل کی جائے، جس میں یہ درج ہو کہ تعمیر میں استعمال کے لیے کنٹریکٹنگ ایجنسی کی جانب سے حاصل کیے جانے والے مواد کو متعلقہ بھارتی معیارات کے مطابق ہونا چاہیے۔”
اس کے علاوہ، ملک بھر میں جل جیون مشن کی تیز رفتاری سے منصوبہ بندی اور نفاذ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں دیگر کے ساتھ ساتھ ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کے سیچوریشن منصوبوں اور سالانہ عملی منصوبوں (اے اے پی) پر مشترکہ مشاورت اور ان کی حتمی منظوری، نفاذ کا باقاعدہ جائزہ، صلاحیت سازی کے لیے ورکشاپس/کانفرنسز/ویبینارز، تربیت، علم کی شراکت، تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے کثیر الشعبہ ٹیموں کے فیلڈ دورے وغیرہ شامل ہیں۔ جل جیون مشن کے نفاذ کے لیے ایک تفصیلی عملیاتی رہنما خط، گرام پنچایتوں اور ویلیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سیز) کے لیے محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے سے متعلق “مارگ درشیکا”، نیز آنگن واڑی مراکز، آشرم شالاؤں اور اسکولوں میں پائپڈ واٹر سپلائی فراہم کرنے کے خصوصی مہم سے متعلق رہنما خطوط ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں تاکہ منصوبہ بندی اور نفاذ میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ آن لائن نگرانی کے لیے جل جیون مشن–انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (آئی ایم آئی ایس) اور جل جیون مشن–ڈیش بورڈ قائم کیا گیا ہے۔ شفاف آن لائن مالی نظم و نسق کے لیے پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) کے ذریعے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں، جل شکتی کے وزیرِ مملکت جناب وی۔ سومنا کی جانب سے فراہم کی گئیں۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-1762
(ریلیز آئی ڈی: 2224025)
وزیٹر کاؤنٹر : 5