قانون اور انصاف کی وزارت
نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (فری اینڈ کمپٹنٹ لیگل سروسز) ضوابط، 2010،میں قانونی امداد کی خدمات کے معیار اور پیش رفت کی نگرانی اور جانچ کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کی تجویز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 1:00PM by PIB Delhi
نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (فری اینڈ کمپٹنٹ لیگل سروسز) ضوابط، 2010 میں قانونی امداد کی خدمات کے معیار اور پیش رفت کی نگرانی اور جانچ کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کی تجویز ہے۔ یہ فریم ورک تمام قانونی خدمات کے اداروں جیسےسپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی(ایس سی ایل ایس سی)، ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹیز(ایچ سی ایل ایس سی)، ریاستی لیگل سروسز اتھارٹیز(ایس ایل ایس اے)، ضلع لیگل سروسز اتھارٹیز (ڈیل ایل ایس اے) اور تعلقہ لیگل سروسز کمیٹیز (ٹی ایل ایس سی)میں مانیٹرنگ اینڈ مینٹرنگ کمیٹیز(ایم ایم سی) کے قیام کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ان ضوابط کی دفعہ 8 قانونی وکلاء کو پینل وکیل کے طور پر منتخب کرنے کا طریقۂ کار فراہم کرتی ہے۔ ضابطہ 8(17) کے مطابق، “اگر پینل وکیل تسلی بخش کارکردگی نہیں پیش کررہا ہےیا ایل ایس اے ایکٹ اور ان ضوابط کے مقصد و روح کے خلاف عمل کر رہا ہے، تو قانونی خدمات کا ادارہ کیس کی واپسی اور وکیل کو پینل سے ہٹانے سمیت مناسب اقدامات کرے گا۔”ضابطہ 10(1) کے تحت ایم ایم سی عدالت پر مبنی قانونی خدمات اور قانونی امداد یافتہ معاملات میں کیسز کی پیش رفت کی قریبی نگرانی کے لیے قائم کی جاتی ہیں اور پینل وکلاء کو رہنمائی اور مشورہ فراہم کرتی ہیں۔ ضوابط 11(5) اور 11(8) کے مطابق، ایم ایم سی قانونی امداد کے کیسز کے روزانہ پیش رفت اور حتمی نتائج (کامیابی یا ناکامی) کے لیے ایک رجسٹر محفوظ رکھتی ہیں۔ اس رجسٹر کا ہر ماہ ممبر سکریٹری، سکریٹری یا چیئرمین کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہےاور اگر کیس کی پیش رفت تسلی بخش نہ ہو تو کمیٹی قانونی خدمات کے ادارے کو مناسب اقدامات کی ہدایت دے سکتی ہے۔
یہ مسلسل فالو اپ کا نظام قانونی خدمات کی فراہمی میں جوابدہی، شفافیت اور معیار کو یقینی بناتا ہے۔
قانونی امداد کے وکلاء، دیگر وکلاء کی طرح، انصاف کے مفاد میں فوری ریلیف اور قانونی ہدایات طلب کرنے کے مکمل اختیارات رکھتے ہیں اور عدالتیں ان درخواستوں کو ہر کیس کے حقائق اور حالات کے مطابق جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہیں۔ مزید برآں، عدالتی افسران اور عدالت کے اہلکار بھی قانونی خدمات کے اداروں کے وژن اور دائرۂ اختیار سے واقف ہیں، بشمول یہ یقین دہانی کہ سب کے لیے مساوی اور مؤثر رسائی انصاف تک یقینی بنائی جائے۔
متعلقہ قانونی خدمات کی اتھارٹیز کے تحت پینل وکلاء اور قانونی امداد کے دفاعی وکلاء (ایل اے ڈی سی) کے لیے باقاعدہ تربیت/اورینٹیشن اور موضوعاتی صلاحیت سازی کے اقدامات موجود ہیں تاکہ ان کی مہارتوں کو بڑھایا جا سکے۔ صلاحیت سازی اور تربیتی پروگرام پینل وکلاء اور ایل اے ڈی سی کی پیشہ ورانہ قانونی خدمات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، نیز یہ انہیں قانونی پیشرفتوں اور مستفید ہونے والے افراد کے لیے متعلقہ فلاحی اسکیموں سے بھی آگاہ رکھتا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پینل وکلاء اور دفاعی وکلاء نہ صرف قانون کو سمجھیں بلکہ ہمدرد، ماہر اور آئینی حقِ قانونی نمائندگی کو سب کے لیے، خاص طور پر پسماندہ طبقوں کے لیے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہوں۔
این اے ایل ایس اے(فری اینڈ کمپٹنٹ لیگل سروسز)ضوابط،2010 کے تحت قائم کی گئی ایم ایم سی قانونی امداد کی خدمات کے معیار کی نگرانی، جائزہ اور بہتری میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ایم ایم سی عدالت پر مبنی قانونی خدمات اور قانونی امداد یافتہ معاملات میں کیسز کی پیش رفت کی قریبی نگرانی اور پینل وکلاء کو رہنمائی و مشورہ دینے کی ذمہ دار ہیں۔ مزید برآں، ایم ایم سی پینل وکلاء سے باقاعدہ رپورٹس حاصل کر کے کیسز کی پیش رفت کی نگرانی اور ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتی ہیں۔ اگر کیس کی پیش رفت تسلی بخش نہ ہو تو کمیٹی متعلقہ قانونی خدمات کے ادارے کو مناسب اقدامات کی ہدایت دیتی ہے۔ مذکورہ ضابطہ 8(17) کے مطابق، اگر مقررہ پینل وکیل تسلی بخش کارکردگی نہ پیش کرے تو قانونی خدمات کا ادارہ مناسب اقدامات کرے گا، جس میں کیس کو وکیل سے واپس لینا اور اسے پینل سے ہٹانا شامل ہے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارت قانون و انصاف اور وزیر مملکت برائے وزارت پارلیمانی امور،جناب ارجن رام میگھوال نے فراہم کی ہیں۔
*****
ش ح۔ ک ح ۔ت ا
U-NO-1715
(ریلیز آئی ڈی: 2223854)
وزیٹر کاؤنٹر : 3