قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای۔کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت نافذ کی گئی عالمی بہترین طریق کار


عدالتی نظام میں اصلاحات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 1:04PM by PIB Delhi

تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی)او ای سی ڈی(کے گلوبل راؤنڈ ٹیبل 2025 میں نمایاں کی گئی عالمی بہترین طریق کار کے مطابق، ای۔کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت ڈیٹا پر مبنی اور عوام پر مرتکز عدالتی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔ عدالتی ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے، عدلیہ، پولیس اور استغاثہ کے نظاموں کے درمیان باہمی ربط  بڑھانے اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے کے لیے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. انٹرآپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) پروجیکٹ، جو “ایک ڈیٹا، ایک اندراج” کے اصول پر مبنی ہے، کا مقصد فوجداری انصاف کے تمام ستونوں بشمول پولیس، جیل خانہ جات، استغاثہ، عدالتوں اور فارینسک نظام کے درمیان معلومات کے بلا رکاوٹ تبادلے کو یقینی بنانا ہے۔ ای۔کورٹس کے کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) اور آئی سی جے ایس کے تحت دیگر ستونوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ایک ڈیٹا شیئرنگ میٹرکس کو معزز سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای کمیٹی نے منظور کیا ہے۔
  2. نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ آئیڈینٹیفکیشن سسٹم(این اے ایف آئی ایس) کا مقصد مجرمانہ فنگر پرنٹس کا ایک مرکزی، قابلِ تلاش قومی ذخیرہ تیار کرنا ہے، جس میں 1.23 کروڑ فنگر پرنٹ ریکارڈز کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ این اے ایف آئی ایس مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے فنگر پرنٹس مثلاً گرفتار شدہ افراد، نامعلوم لاشیں، لاپتہ افراد، جائے واردات سے ملنے والے فنگر پرنٹس اور (جہاں اجازت ہو) سول ریکارڈز کی حقیقی وقت میں مماثلت ممکن بناتا ہے۔ پرانے نظاموں کی جگہ لے کر اور ریاستی ڈیٹا بیس کو یکجا کر کے، این اے ایف آئی ایس نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں میں فنگر پرنٹ پر مبنی شناخت کے عمل میں باہمی ربط، رفتار، درستگی اور یکسانیت کو یقینی بنایا ہے۔
  3. ای۔فارینسک ایپلیکیشن تیار کی گئی ہے تاکہ فارینسک ورک فلو کو ڈیجیٹل بنایا جا سکے، جس میں صارف پروفائل، کیس مینجمنٹ اور کیس رپورٹنگ جیسی سہولیات شامل ہیں۔
  4. عدالتوں میں 618.36 کروڑ سے زائد صفحات پر مشتمل عدالتی ریکارڈ، جن میں پرانے  ریکارڈ بھی شامل ہیں، ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں تاکہ تیز تر رسائی، محفوظ ذخیرہ اندوزی اور ہموار ڈیجیٹل ورک فلو کو یقینی بنایا جا سکے۔
  5. آن لائن ٹریفک چالانوں کے فیصلے کے لیے 29 ورچوئل عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان ورچوئل عدالتوں کو 9.81 کروڑ چالان موصول ہوئے، جن میں سے 8.74 کروڑ نمٹائے جا چکے ہیں اور 94.55 لاکھ چالانوں کی ادائیگی کی گئی ہے، جس سے 973.32 کروڑ روپے کی رقم وصول ہوئی ہے۔
  6. ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کو 3,240 عدالتی کمپلیکس اور 1,272 جیلوں تک توسیع دی گئی ہے۔ عدالتوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 3.93 کروڑ سے زائد سماعتیں کی ہیں، جس سے زیرِ سماعت قیدیوں، گواہوں اور وکلاء کی دور دراز سے سماعت ممکن ہوئی ہے۔
  7. عدالتی کارروائیوں کی براہِ راست نشریات 11 ہائی کورٹس میں فعال ہیں۔
  8. ای۔فائلنگ اور ای۔ادائیگی کے نظام نافذ کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے مقدمات آن لائن دائر کرنے اور عدالتی فیس و جرمانوں کی ڈیجیٹل ادائیگی ممکن ہو گئی ہے، جس سے جسمانی رابطے اور طریقۂ کار کی رکاوٹوں میں کمی آئی ہے۔ تقریباً 1.03 کروڑ مقدمات ای۔فائلنگ پلیٹ فارم کے ذریعے دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ای۔ادائیگی نظام کے ذریعے عدالتی فیس کی مد میں 1,234 کروڑ روپے اور جرمانوں کی مد میں 63 کروڑ روپے کی لین دین مکمل کی گئی ہے۔
  9. نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ  (این جےڈی جی) عوام کو ملک بھر کی عدالتوں میں زیرِ التوا اور نمٹائے گئے مقدمات سے متعلق ڈیٹا اور اعداد و شمار تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسے ایک بہتر اور جدید ڈیش بورڈ کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے جو مقدمات کے التوا کی نشاندہی، ان کے انتظام اور کمی کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔
  10. سی آئی ایس 4.0 تمام عدالتوں میں نافذ کر دیا گیا ہے، جس میں بہتر استعمال پذیری، پرائیویسی کے مضبوط تحفظات اوراین جےڈی جی ، ای۔فائلنگ، ورچوئل عدالتوں اورآئی سی جے ایس جیسے قومی پلیٹ فارمز کے ساتھ ارتباط شامل ہے۔
  11. ایس3واس پلیٹ فارم کے تحت 730 ضلعی عدالتوں کی ویب سائٹس کی میزبانی کی جا رہی ہیں، جس سے محفوظ اور قابلِ رسائی ویب انفراسٹرکچرکو یقینی بنایا گیا ہے۔
  12. ریئل ٹائم ڈیجیٹل خدمات میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جہاں ای۔کورٹس پورٹل پر روزانہ 35 لاکھ ہِٹس ریکارڈ کی جا رہی ہیں، جبکہ دسمبر 2025 میں 3 کروڑ سے زائد ایس ایم ایس اور 1 کروڑ سے زیادہ ای میلز جاری کی گئیں۔
  13. ای۔کورٹس سروسز موبائل ایپ (3.5 کروڑ ڈاؤن لوڈز) وکلاء اور فریقین کو مقدمات کی حیثیت، کاز لسٹس اور دیگر متعلقہ معلومات فراہم کرتی ہے۔
  14. جسٹ آئی ایس ایپ (22,090 ڈاؤن لوڈز) ججوں کے لیے ایک مینجمنٹ ٹول ہے جو انہیں اپنے عدالتی امور کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے اور ان کی نگرانی میں مدد دیتا ہے۔
  • xv. ای۔سیوا کیندر ون اسٹاپ ڈیجیٹل مراکز کے طور پر فعال کیے گئے ہیں تاکہ فریقین اور وکلاء کو ای۔فائلنگ، مقدمات کی تازہ معلومات اور دستاویزی کارروائی میں مدد فراہم کی جا سکے۔ اس وقت تمام ہائی کورٹس میں 48 ای۔سیوا کیندر اور ضلعی عدالتوں میں 2,283 ای۔سیوا کیندر فعال ہیں۔
  1. نیشنل سروس اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانک پروسیسز(این ایس ٹی ای پی) نظام کو سمن اور نوٹس کی الیکٹرانک ترسیل اور نگرانی کے لیے نافذ کیا گیا ہے، جو موبائل بیسڈ اور جی پی ایس سے لیس ترسیلی نظام پر مبنی ہے۔ این ایس ٹی ای پی کے تحت عدالتوں نے 6.21 کروڑ ای۔پروسیسز پر کارروائی کی ہے، جن میں سے 1.61 کروڑ ای۔پروسیسز کامیابی کے ساتھ  انجام دیئے جا چکے ہیں۔
  2. اوپن ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اوپن اے پی آئی) کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای۔کمیٹی نے دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ ڈیٹا کے تبادلے کے لیے تیار کیا ہے۔ اوپن اے پی آئی کا استعمال ادارہ جاتی سطح پر مقدمات کی مرکزی نگرانی، مقدمات کی تیاری کی صورتحال جانچنے، التوا کے انتظام اور تعمیل کی نگرانی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
  3. ان اصلاحات کے نتیجے میں انصاف کی فراہمی کے نظام میں تاخیر میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ اس سے کیس مینجمنٹ بہتر ہوئی، التوا اور فیصلوں کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن ہوئی، عدالتی عمل کی تیز تر ترسیل ممکن بنی اور غیر ضروری التواء میں کمی آئی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ورچوئل سماعتوں، ڈیٹا اینالیٹکس اور باہم مربوط نظاموں کو اپنانے سے عدالتی وسائل کے بہتر استعمال، تنازعات کے تیز تر حل اور فریقین کے لیے انصاف تک بہتر رسائی ممکن ہو رہی ہے۔

یہ معلومات وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارتِ قانون و انصاف اور وزیر مملکت برائے وزارتِ پارلیمانی امور، جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

  ***

UR-1710

(ش ح۔اک ۔ ف ر )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2223803) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी