ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: موسمی سلسلے پر  ماحولیاتی تبدیلی  کے اثرات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 11:42AM by PIB Delhi

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہندوستان کے موسمی سلسلے پر  پڑنے والے ممکنہ اثرات، خصوصاً سنگین موسمی وقوعات جیسے شدید بارش اور ہیٹ ویوز کی بڑھتی ہوئی گردش سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کے تحت محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی)، دیگر مراکز، ریاستی حکومتوں، وزارتِ داخلہ(ایم ایچ اے) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے ساتھ ہم آہنگی سے، ان شدید موسمی وقوعات اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات کی نگرانی، شناخت، پیش گوئی اور بروقت انتباہ جاری کرنے کے لیے ہمہ وقت کام کر رہا ہے، اور یہ کام زیادہ باریک گرینولرپیمانے پر انجام دیا جا رہا ہے۔ان وقوعات کی مزید باریک اور بروقت شناخت کو بہتر بنانے کے لیے مشاہداتی نظام میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس میں آٹومیٹک ویدر اسٹیشن/آٹومیٹک رین گیج (اے ڈبلیو ایس/اے آر جی) نیٹ ورکس اور ڈوپلر ویدر راڈار (ڈی ڈبلیو آر) کی توسیع شامل ہے۔ اس وقت ہندوستان بھر میں 47 ڈوپلر ویدر راڈار فعال ہیں، جن کے ذریعے ملک کے کل رقبے کا تقریباً 87 فیصد حصہ راڈار کوریج میں آ چکا ہے۔مزید برآں، وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) نے “مشن موسم” کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو “موسم کے لحاظ سے تیار اور آب و ہوا کے لحاظ سے اسمارٹ” ملک بنانا ہے، تاکہ ماحولیاتی تبدیلی اور شدید موسمی وقوعات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

مشن موسم کے تحت بھارت فارکاسٹ سسٹم(بھارت ایف ایس) تیار کیا جا چکا ہے، جو جدید کمپیوٹر سمولیشن ماڈل ہے اور اس وقت 6 کلومیٹر کی انتہائی بلند مکانی ریزولوشن پر تعینات ہے۔ اس میں قلیل اور متوسط مدتی پیش گوئی کے تحت 10 دن تک بارش کے واقعات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ زیادہ ریزولوشن اور بہتر ڈائنامکس کی بدولت یہ پنچایت یا پنچایتوں کے کلسٹر کی سطح پر موسم کی پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے۔اعلیٰ ریزولوشن ماڈل سمولیشن کو حقیقی وقت میں بروئے کار لانے کے لیے معاونت فراہم کرنے کی غرض سے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سہولیات (ارونیکا اور ارکا) کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ بڑی مقدار میں ڈیٹا کو ضم کیا جا سکے اور میسو- اسکیل، علاقائی اور عالمی ماڈلز کو چلایا جا سکے۔

مزید برآں، بڑی کامیابی متھن فارکاسٹ سسٹم(متھن –ایف ایس) کا آغاز ہے۔ یہ نئی نسل کا عالمی جفت ماڈل ہے جو جدید ترین فزکس اور اپ گریڈ شدہ ڈیٹا اسیمیلیشن فریم ورک کے ساتھ فضائی، سمندری، زمینی سطح اور سمندری برف کے عناصر کو یکجا کرتا ہے۔ اس وقت یہ پیش گوئی کانظام 12 کلومیٹر ریزولوشن پر کام کر رہا ہے، جو ہندوستان کی متوسط مدتی مقامی موسمیاتی پیش گوئی کی صلاحیت میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ متھن-ایف ایس(متھن-ایف ایس) نظام میں درج ذیل عناصر بھی شامل ہیں ۔

  • برِصغیرہند میں مانسون کی حرکیات، سمندری طوفانوں اور میسو- اسکیل کی شدید موسمی وقوعات کی درست سمولیشن کے لیے 4 کلومیٹر کے ریزولوشن پر مبنی اعلیٰ معیاری علاقائی ماڈل؛
  • دہلی خطے میں کہرے، حدِ نگاہ اور فضائی معیار کی پیش گوئی کے لیے 330 میٹر کاہائپر ریزولوشن پر مبنی شہری ماڈل۔

یہ تمام ماڈلز سپر کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں اور راڈار، سٹیلائٹس، آٹومیٹک ویدر اسٹیشن(اے ڈبلیو ایس) ، پروفائلرز اور سمندری نظاموں سے حاصل ہونے والے کثیف مشاہداتی ڈیٹا کومربوط کرتے ہیں۔مجموعی شکل میں یہ بارش، آندھی و طوفان،کہرے، ہیٹ اسٹریس اور آلودگیوں سے متعلق اعلیٰ معیار کی پنچایت سطح کی پیش گوئیاں ممکن بناتے ہیں۔ مشن موسم کے تحت یہ ماڈلز بالخصوص ہندوستان کے متنوع موسمی خطوں کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں۔مشاہداتی اور این ڈبلیو پی مصنوعات کے مؤثر استعمال اور تمام اقسام کے شدید موسمی حالات کے حوالے سے بروقت ابتدائی انتباہ فراہم کرنے کے لیے محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی)نے اینڈ ٹو اینڈ جی آئی ایس پر مبنی ڈسیزن سپورٹ سسٹم(ڈی ایس ایس) تیار کیا ہے، جو ہر قسم کے موسمی خطرات کی بروقت شناخت اور نگرانی کے لیے ابتدائی انتباہی نظاموں کے فرنٹ اینڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔

(بی) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹیورولوجی(آئی آئی ٹی ایم) ، پونے میں داخلی ساختہ آئی آئی ٹی ایم ارتھ سسٹم ماڈل(آئی آئی ٹی ایم-ای ایس ایم)کو طویل مدتی موسمی تغیر اور موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں خاص طور پر جنوبی ایشیائی خطے اور مانسون پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ آئی آئی ٹی ایم-ای ایس ایم نے جفت ماڈل انٹرکمپیریزن پروجیکٹ میں عالمی سطح پر اور ہندوستانی  خطے میں بڑھتے ہوئے سنگین موسمیاتی  واقعات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔آئی آئی ٹی ایم-ای ایس ایم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق جائزہ رپورٹس میں بھی تعاون دیا ہے، جن میں بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی چھٹی تجزیاتی رپورٹ—جو ہندوستان کی جانب سے پہلی رپورٹ ہے—اور وزارتِ ارضیاتی علوم کی قومی تجزیاتی رپورٹ’’ہندوستانی خطے کے ماحولیاتی تبدیلی کا تجزیہ‘‘شامل ہیں۔’’ہندوستانی خطے کے ماحولیاتی تبدیلی کا تجزیہ‘‘(https://link.springer.com/book/10.1007/978-981-15-4327-2)میں ہندوستان کے خطےپر  علاقائی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

(سی)ہندوستان موسمیاتی مطالعات اور آب و ہوا کی تحقیق کے شعبے میں بین الاقوامی پروگراموں جیسے کپلڈ ماڈل انٹرکمپیریزن پروجیکٹ (سی ایم آئی پی)، ورلڈ کلائمیٹ ریسرچ پروگرام(ڈبلیو سی آر پی)، ورلڈ ویدر ریسرچ پروگرام وغیرہ کے ساتھ سرگرمی سے تعاون کر رہا ہے، تاکہ موسمی اور موسمیاتی ماڈلز کو تیار اور بہتر بنایا جا سکے۔ یہ ماڈلز فضائی، سمندری اور قطبی خطوں کے باہمی تعاملات کی سمولیشن اور پیش گوئی کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جوانتہائی شدید علاقائی موسمی حالات اور موسمیاتی اثرات کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ مشترکہ اقدامات ارتھ سسٹم کے باہمی تعاملات کی زیادہ مضبوط فہم میں معاون ہیں، جوانتہائی شدید موسم اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف ہندوستان کی مزاحمتی صلاحیت بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کی جانب سے آئی آئی ٹی ایم، پونے میں قائم سینٹر فار کلائمیٹ چینج ریسرچ (سی سی سی آر) نے بنیادی ڈھانچہ(ای ایس جی ایف ڈیٹا نوڈ) قائم کیا ہے، جو عالمی اور علاقائی موسمیاتی ماڈلز پر مبنی ڈیٹا کی ترسیل کو ممکن بناتا ہے، تاکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز، بالخصوص امکانات، اثرات اور موافقت (وی آئی اے) کے حوالے سے علاقائی موسمیاتی معلومات کا باخبر استعمال کر سکیں۔

عالمی موسمیاتی تبدیلی کی پیش گوئیاں کپلڈ ماڈل انٹرکمپیریزن پروجیکٹ اور بین حکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے ضمن میں آئی آئی ٹی ایم-ای ایس ایم کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کی علاقائی پیش گوئیوں کو کوآرڈی نیٹڈ ریجنل ڈاؤن اسکیلنگ ایکٹیویٹی(سی او آر ڈی ای ایکس) کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا کے مجموعے عالمی سطح پر آئی آئی ٹی ایم کے ای ایس جی ایف نوڈ کے ذریعے شیئر کیے جاتے ہیں اور درج ذیل لنک کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے؛

https://esg-cccr.tropmet.res.in/thredds/catalog/esg_dataroot6/catalog.html

https://esg-cccr.tropmet.res.in/thredds/catalog/esg_dataroot4/cordex/catalog.html

یہ معلومات وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے ارضیاتی علوم، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 5 فروری 2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کیں۔

****

 

(ش ح ۔م  ش ع۔ ع د)

U. No. 1692


(ریلیز آئی ڈی: 2223676) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी