تعاون کی وزارت
کوآپریٹو سوسائٹیوں کو مضبوط بنانا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 6:18PM by PIB Delhi
- حکومتِ ہند فعال بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں کی کمپیوٹرائزیشن کا ایسا منصوبہ نافذ کر رہی ہے، جس کی مجموعی مالی لاگت 2,516 کروڑ روپے تھی، اور جسے اب بڑھا کر 2925.39 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تمام فعال پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو ایک مشترکہ قومی سافٹ ویئر (ای آر پی یعنی ادارہ جاتی وسائل کی منصوبہ بندی پر مبنی) سے جوڑا جا رہا ہے، اور انہیں ریاستی کوآپریٹو بینکوں اور ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینکوں کے ذریعے نابارڈ کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔ یہ مشترکہ ای آر پی سافٹ ویئر منصوبے میں شامل ملک بھر کی تمام پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو فراہم کیا جا رہا ہے، تاکہ پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی تمام سرگرمیوں (قرض سے متعلق اور غیر قرض سے متعلق دونوں) کا ڈیٹا درج کیا جا سکے۔ یہ سافٹ ویئر ریاستی ضروریات کے مطابق قابلِ ترمیم ہے۔
ای آر پی پر مبنی یہ مشترکہ قومی سافٹ ویئر مشترکہ حساباتی نظام اور انتظامی معلوماتی نظام کے ذریعے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اس سے نظم و نسق اور شفافیت مضبوط ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں قرض کی تیز تر تقسیم، لین دین کی لاگت میں کمی، ادائیگی کے عدم توازن میں کمی، اور ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینکوں اور ریاستی کوآپریٹو بینکوں کے ساتھ حسابات کی بلا رکاوٹ مطابقت ممکن ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نابارڈ کی جانب سے فراہم کردہ تربیت اور ضروری رہنمائی و معاونت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسان، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو ڈیجیٹل طور پر خواندہ نہیں ہیں، ڈیجیٹلائزیشن سے یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔
اس کے علاوہ حکومتِ ہند کوآپریٹو اداروں کو معلوماتی ٹیکنالوجی کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے مرکزی معاونت سے چلنے والا ایک منصوبہ بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے دو ذیلی منصوبے ہیں:
- زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کی کمپیوٹرائزیشن: زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کی کمپیوٹرائزیشن کا ذیلی منصوبہ مرکزی حکومت نے 6 اکتوبر 2023 کو منظور کیا، جس میں 13 ریاستوں کے 1851 یونٹس شامل کیے گئے ہیں۔ ان اکائیوں میں ریاستی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینک اور پرائمری کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینک شامل ہیں۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 119.40 کروڑ روپے ہے۔
- ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کے رجسٹرار کے دفاتر کی کمپیوٹرائزیشن: ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کے رجسٹرار کے دفاتر کی کمپیوٹرائزیشن کا ذیلی منصوبہ مرکزی حکومت نے 6 اکتوبر2023 کو منظور کیا۔ اس کے لیے 2023-24 سے تین برسوں کے لیے 94.59 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ وزارت کے معلوماتی ٹیکنالوجی کے ذریعے کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانے کے جامع منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے کاروبار میں آسانی بڑھانا اور ایک ایسا ڈیجیٹل نظام قائم کرنا ہے جس کے ذریعے کوآپریٹو سوسائٹیاں تمام ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں رجسٹرار کے دفاتر کے ساتھ شفاف، کاغذ سے پاک رابطہ قائم کر سکیں۔ اس منصوبے کے تحت تیار کیا جانے والا سافٹ ویئر متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے کوآپریٹو قوانین کے مطابق ہوگا۔ مالی سال 2023-24، 2024-25 اور 2025-26 (20 جنوری 2026 تک) کے دوران 35 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے اپنی تجاویز پیش کیں، اور حکومتِ ہند کے حصے کے طور پر 26.82 کروڑ روپے ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو جاری کیے گئے ہیں۔
حکومت نے دیہی اور قبائلی علاقوں میں کوآپریٹو قرض کی سہولیات میں توسیع کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- کوآپریٹو قرض اداروں کو مضبوط بنانا، جن میں پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں، ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینک اور ریاستی کوآپریٹو بینک شامل ہیں، تاکہ ادارہ جاتی قرض کی آخری سطح تک مؤثر فراہمی بہتر ہو سکے۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی کمپیوٹرائزیشن، تاکہ وہ کثیر خدماتی مراکز کے طور پر کام کر سکیں اور بروقت قرض، کسان کریڈٹ کارڈ، اور دیگر مالی خدمات فراہم کر سکیں، بالخصوص دور دراز اور قبائلی علاقوں میں۔
- کوآپریٹو اداروں کے ذریعے کسان کریڈٹ کارڈ کی کوریج میں توسیع، جس میں روپے کسان کریڈٹ کارڈ جاری کرنا بھی شامل ہے، تاکہ قلیل مدتی زرعی قرض تک آسان اور کم خرچ رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
- ڈیجیٹل اور مالی شمولیت سے متعلق اقدامات اختیار کرنا، جیسے آدھار سے مربوط ادائیگی کے نظام اور قرض کی ڈیجیٹل کارروائی، تاکہ شفافیت بڑھے اور قرض کی فراہمی میں لگنے والا وقت کم ہو۔
(b)سہکار سے سمردھی” کے ویژن کے تحت وزارتِ تعاون کی جانب سے نچلی سطح کے کوآپریٹو اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے مختلف اقدامات، جن میں کوآپریٹو کھیتی اور دودھ کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے فروغ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ ضمیمہ-’الف‘ میں دیے گئے ہیں۔
******
وزارتِ تعاون کی جانب سے کیے گئے اقدامات
وزارتِ تعاون نے 6 جولائی 2021 کو اپنے قیام کے بعد سے “سہکار سے سمردھی” کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے اور ملک میں پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک کوآپریٹو تحریک کو مضبوط اور گہرا کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اب تک کیے گئے اقدامات اور ان میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیل درج ذیل ہے:
- پرائمری کوآپریٹو اداروں کو معاشی طور پر مضبوط اور شفاف بنانا
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے لیے نمونہ ضابطے، تاکہ انہیں کثیر المقاصد، ہمہ جہت اور شفاف ادارے بنایا جا سکے: حکومت نے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد، جن میں ریاستیں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے، قومی سطح کی فیڈریشنز، ریاستی کوآپریٹو بینک، ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینک وغیرہ شامل ہیں، پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے لیے مثالی ضابطے تیار کر کے تمام ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو جاری کیے ہیں۔ ان ضابطوں کے ذریعے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں 25 سے زائد کاروباری سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں، اور اپنے کام کاج میں بہتر نظم و نسق، شفافیت اور جوابدہی قائم کر سکتی ہیں۔ ان ضابطوں میں پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی رکنیت کو زیادہ جامع اور وسیع بنانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ خواتین اور درج فہرست ذاتوں/درج فہرست قبائل کو مناسب نمائندگی مل سکے۔ اب تک 32 ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے مثالی ضابطے اختیار کر لیے ہیں، یا ان کے موجودہ ضابطے مثالی ضابطوں کے مطابق ہیں۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے مضبوط بنانا: پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے فعال پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی کمپیوٹرائزیشن کا ایک منصوبہ، جس کی مجموعی مالی لاگت 2925.39 کروڑ روپے ہے، حکومتِ ہند نے منظور کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک کی تمام فعال پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو ایک مشترکہ قومی سافٹ ویئر (ای آر پی پر مبنی) پر لایا جا رہا ہے، اور انہیں ریاستی کوآپریٹو بینکوں اور ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینکوں کے ذریعے نابارڈ کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 31 ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی کل 79,630 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے 61,025 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں ای آر پی سافٹ ویئر پر شامل کی جا چکی ہیں، اور 30 ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے ہارڈویئر کی خریداری بھی کر لی ہے۔
- تمام پنچایتوں کو کور کرنے کے لیے نئی کثیر المقاصد پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں/ دودھ/ ماہی پروری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کرنا: حکومتِ ہند نے نئی کثیر المقاصد پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں/ دودھ/ ماہی پروری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد آئندہ پانچ برسوں میں ملک کی تمام پنچایتوں اور دیہات کو کور کرنا ہے۔ اس اقدام میں نابارڈ، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ، نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ، اور ریاستی/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتیں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس کے مطابق، 15.2.2023 کو منصوبے کی منظوری کے بعد سے 20.01.2026 تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 32,802 نئی پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں، دودھ اور ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیاں رجسٹر کی گئی ہیں، اور 15,793 دودھ اور ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو مضبوط بنایا گیا ہے۔
- تمام پنچایتوں کا احاطہ کرنے کے لیے نئی کثیر المقاصد پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں/ دودھ/ ماہی پروری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کرنے کے لیے رہنما ہدایات (معیاری عملی طریقۂ کار) کا اجرا: منصوبے کے مؤثر اور بروقت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ تعاون نے نابارڈ، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ اور نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ کے اشتراک سے 19.9.2024 کو ایک معیاری عملی طریقۂ کار (رہنما ہدایات) جاری کیا ہے، جس میں تمام متعلقہ فریقوں کے لیے اہداف اور مقررہ مدتیں واضح کی گئی ہیں۔
- کوآپریٹو شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا غیر مرکوز اناج ذخیرہ منصوبہ: حکومت نے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی سطح پر اناج کے ذخیرے کے لیے گودام، کسٹم ہائرنگ مراکز، ابتدائی پروسیسنگ یونٹس اور دیگر زرعی بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔ یہ کام حکومتِ ہند کی مختلف اسکیموں کو یکجا کر کے کیا جا رہا ہے، جن میں زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ، زرعی مارکیٹنگ بنیادی ڈھانچہ اسکیم، زرعی مشینری سے متعلق ذیلی مشن، اور خرد سطح کے غذائی پروسیسنگ اداروں کی رسمی تشکیل کی اسکیم وغیرہ شامل ہیں۔ اس منصوبے سے غذائی اناج کے زیاں اور نقل و حمل کی لاگت میں کمی آئے گی، کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل ہوگی، اور پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی سطح پر ہی مختلف زرعی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔ پائلٹ منصوبے کے تحت 11 ریاستوں کی 11 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں میں گوداموں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ توسیعی پائلٹ کے تحت ملک بھر میں 500 سے زائد پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں کوآپریٹو شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ منصوبے کے تحت گودام تعمیر کیے جائیں گے۔ فی الحال ریاستی محکمہ خوراک و شہری رسد، نیشنل زرعی کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن، اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن نے 287 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں میں تعمیر ہونے والے گوداموں کے لیے کرایہ کی یقین دہانی دی ہے۔ 208 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں میں تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے، جن میں سے 109 میں تعمیر مکمل ہو چکی ہے (راجستھان: 90، مہاراشٹر: 15، گجرات: 4)۔
6. کوآپریٹو شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ منصوبے کے لیے رہنما ہدایات/ معیاری عملی طریقۂ کار کا اجرا: کوآپریٹو شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ منصوبے کے ہموار اور یکساں نفاذ کے لیے ایک جامع معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) یعنی “رہنما ہدایات” تیار کر کے ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اس رہنما ہدایات میں درج ذیل امور شامل ہیں: اسکیم کے تحت مختلف کمیٹیوں کی تشکیل، بین الوزارتی کمیٹی میں کیے گئے فیصلے، منصوبے کے تحت شامل کی گئی مختلف یکجا اسکیموں کا تعارف اور فوائد، درخواست کا طریقۂ کار، اناج ذخیرہ منصوبے کے مرحلہ وار نفاذ کا فلو چارٹ، متوقع نتائج اور مقررہ مدتیں، وزارتِ تعاون اور دیگر متعلقہ فریقوں کے کردار اور ذمہ داریاں، گوداموں کی تعمیر کے لیے ویئر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی رہنما ہدایات، اور اسکیم کے تحت پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے انتخاب کے معیار۔
7. ایم آئی اسکیم کے تحت دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ منصوبے سے متعلق کی گئی ترامیم: کوآپریٹو شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ منصوبے کی دوسری بین الوزارتی کمیٹی کی میٹنگ (23.10.2024) میں کیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر محکمہ زراعت و کسان بہبود نے ایم آئی اسکیم کے تحت درج ذیل ترامیم کی ہیں:
- اسکیم کی مالی افادیت بڑھانے کے لیے مارجن منی کی شرط 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی گئی ہے۔
- تعمیراتی لاگت کو میدانی علاقوں کے لیے 3000–3500 روپے فی میٹرک ٹن سے بڑھا کر 6000–7000 روپے فی میٹرک ٹن کر دیا گیا ہے، جبکہ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے 4000 روپے فی میٹرک ٹن سے بڑھا کر 8000 روپے فی میٹرک ٹن کر دیا گیا ہے۔
- سبسڈی کو 25 فیصد سے بڑھا کر 33.33 فیصد کر دیا گیا ہے (میدانی علاقوں کے لیے 875 روپے فی میٹرک ٹن سے بڑھا کر 2333 روپے فی میٹرک ٹن، اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے 1333.33 روپے فی میٹرک ٹن سے بڑھا کر 2666 روپے فی میٹرک ٹن)۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے لیے یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ ضمنی بنیادی ڈھانچے جیسے اندرونی سڑکیں، ویئنگ برج، چار دیواری وغیرہ کے لیے قابلِ قبول مجموعی سبسڈی کا اضافی ایک تہائی حصہ سبسڈی کے طور پر فراہم کیا جائے گا۔
- فوڈ کارپوریشن آف انڈیا سے متعلق پیش رفت: گوداموں کی نشاندہی اور کرایہ کی یقین دہانی: 2.6.2025 کو معزز مرکزی وزیرِ داخلہ و تعاون کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں کیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی نشاندہی کرے، گوداموں کے لیے کرایہ کی یقین دہانی فراہم کرے، اور ان گوداموں کو سالانہ بنیاد پر کرائے پر لینے کو یقینی بنائے۔ اس ضمن میں درج ذیل پیش رفت ہوئی ہے:
- مرحلہ اوّل میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے 2500 میٹرک ٹن یا اس سے زائد گنجائش والے گوداموں کے لیے 216 ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی ہے (شمال مشرقی اور پہاڑی علاقوں کے لیے 1671 میٹرک ٹن یا اس سے زائد)۔
- ان 216 ممکنہ مقامات میں 18 ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اندر تقریباً 26.03 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ کی ضرورت کی میپنگ کی گئی ہے۔
- ریاستوں نے 173 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں/ کوآپریٹو سوسائٹیوں کی نشاندہی کر لی ہے، اور مزید پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں/ کوآپریٹو سوسائٹیوں کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔
9. پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں بطور عوامی خدمت مراکز: برقی خدمات تک بہتر رسائی: دیہی شہریوں کو پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے ذریعے 300 سے زائد برقی خدمات فراہم کرنے کے لیے وزارتِ تعاون، وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی، نابارڈ، اور سی ایس سی ای-گورننس سروسز انڈیا لمیٹڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
ان خدمات میں بینکاری، بیمہ، آدھار اندراج/تجدید، صحت سے متعلق خدمات، مستقل اکاؤنٹ نمبر کارڈ، اور ریلوے/بس/ہوائی ٹکٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اب تک 52,018 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں دیہی شہریوں کو عوامی خدمت مراکز کی خدمات فراہم کرنا شروع کر چکی ہیں۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے ذریعے نئے کسان پیداوار تنظیموں کی تشکیل: مرکزی شعبہ جاتی اسکیم 10,000 کسان پیداوار تنظیموں کی تشکیل اور فروغ کے تحت نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو زرعی و کسان بہبود کے محکمے، وزارتِ زراعت و کسان بہبود، حکومتِ ہند کی جانب سے کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قانون کے تحت کسان پیداوار تنظیموں کی تشکیل اور فروغ کے لیے نامزد نفاذی اداروں میں سے ایک مقرر کیا گیا ہے۔ زرعی و کسان بہبود کے محکمے نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو 746 کسان پیداوار تنظیموں کی تشکیل اور فروغ کا ہدف دیا تھا، اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے کوآپریٹو شعبے میں 746 کسان پیداوار تنظیمیں رجسٹر کرائیں۔
اس کے بعد وزارتِ تعاون، حکومتِ ہند کی پہل پر وزارتِ زراعت و کسان بہبود نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو اضافی ہدف بھی الاٹ کیا، تاکہ اسکیم کے تحت پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو مضبوط بنا کر کوآپریٹو شعبے میں کسان پیداوار تنظیموں کی تشکیل اور فروغ کیا جا سکے۔ اس طرح نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو 1117 کسان پیداوار تنظیموں کا ہدف ملا، اور اس نے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کے اراکین کے ذریعے 1117 کسان پیداوار تنظیمیں رجسٹر/شامل کیں۔ اس سے کسانوں کو ضروری منڈی روابط، اور اپنی پیداوار کے لیے منصفانہ اور منافع بخش نظام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 15.01.2026 تک اس اسکیم کے تحت کسان پیداوار تنظیموں/ کلسٹر پر مبنی کاروباری تنظیموں کو 245 کروڑ روپے تقسیم کیے ہیں۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو پٹرول/ڈیزل کے ریٹیل آؤٹ لیٹس میں ترجیح: حکومت نے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو پیٹرول اور ڈیزل کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کی الاٹمنٹ کے لیے مشترکہ زمرہ نمبر 2 میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے۔
تیل مارکیٹنگ کمپنیوں سے موصولہ معلومات کے مطابق 28 ریاستوں/ مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی 394 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں نے پٹرول/ڈیزل کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کے لیے آن لائن درخواست دی ہے۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو بلک صارف پٹرول پمپوں کو ریٹیل آؤٹ لیٹس میں تبدیل کرنے کی اجازت: تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے موجودہ بلک صارف لائسنس رکھنے والی پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو ایک مرتبہ کے لیے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے پمپوں کو ریٹیل آؤٹ لیٹس میں تبدیل کر سکیں۔ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق 5 ریاستوں کی 115 بلک صارف پمپ لائسنس یافتہ پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں نے ریٹیل آؤٹ لیٹس میں تبدیلی کے لیے رضامندی دی ہے، جن میں سے 62 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے فعال کر دیا ہے۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں سرگرمیوں میں تنوع کے لیے گھریلو گیس کی ڈسٹری بیوشن کی اہل:
حکومت نے اب پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو گھریلو گیس کی ڈسٹری بیوشن کے لیے درخواست دینے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو اپنی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے کا اختیار ملے گا۔
- دیہی سطح پر معیاری جنیرک ادویات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں بطور وزیر اعظم بھارتیہ جن اوشدھی مرکز: پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو وزیر اعظم بھارتیہ جن اوشدھی مراکز چلانے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے انہیں آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ حاصل ہوگا اور دیہی شہریوں کے لیے معیاری جنیرک ادویات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔اب تک 4,192 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں/کوآپریٹو سوسائٹیوں نے وزیر اعظم بھارتیہ جن اوشدھی مراکز کے لیے آن لائن درخواست دی ہے، جن میں سے 4,177 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو دواسازی و طبی آلات بیورو آف انڈیا نے ابتدائی منظوری دے دی ہے، اور 814 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو بیورو کی جانب سے اسٹور کوڈ جاری کر دیے گئے ہیں، جو وزیر اعظم بھارتیہ جن اوشدھی مراکز کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں بطور وزیر اعظم کسان سمردھی مرکز: پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو وزیر اعظم کسان سمردھی مراکز چلانے کے قابل بنایا گیا ہے، تاکہ ملک میں کسانوں کو کھاد اور متعلقہ خدمات تک آسان رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے موصولہ معلومات کے مطابق 27 نومبر 2025 تک 38,190 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں وزیر اعظم کسان سمردھی مراکز کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
- دیہی نل کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی دیکھ بھال و مرمت کے لیے پرائمری زرعی قرض سوسائٹیاں: پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کو دیہی علاقوں میں پائپڈ پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی دیکھ بھال و مرمت کی خدمات انجام دینے کا اہل بنایا گیا ہے۔ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے موصولہ معلومات کے مطابق 10 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے 762 پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی نشاندہی/انتخاب کیا ہے تاکہ وہ پنچایت/گاؤں کی سطح پر یہ خدمات فراہم کریں۔
- پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں کی سطح پر شمسی زرعی پمپوں کی اسکیم کا یکجا نفاذ: پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں سے وابستہ کسان شمسی زرعی پانی کے پمپ اختیار کر سکتے ہیں اور اپنی زمینوں میں شمسی توانائی کے ماڈیول نصب کر سکتے ہیں۔
- کوآپریٹو سوسائٹیوں کی سطح پر ’’سوریہ گھر – مفت بجلی یوجنا‘‘ کا یکجا نفاذ: اس اقدام کا مقصد کم خرچ اور صاف ستھری چھت پر شمسی توانائی کے استعمال کو تیز کرنا ہے، اور اس میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کی نچلی سطح تک موجودگی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے مؤثر نفاذ کے لیے 100 شہروں کو منتخب کیا گیا ہے۔
- دودھ اور ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو بینک متر بنانے کے لیے مائیکرو اے ٹی ایم: دودھ اور ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیاں ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینکوں اور ریاستی کوآپریٹو بینکوں کی بینک متر بن سکتی ہیں۔ ان اداروں کے لیے کاروبار میں آسانی، شفافیت اور مالی شمولیت یقینی بنانے کے لیے نابارڈ کے تعاون سے ان بینک متر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو مائیکرو اے ٹی ایم بھی دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ “گھر کی دہلیز پر مالی خدمات” فراہم کر سکیں۔ اس اقدام کے مؤثر نفاذ کے لیے 19 ستمبر 2024 کو معیاری عملی طریقۂ کار جاری کیا گیا، اور گجرات میں بینک متر کوآپریٹو سوسائٹیوں کو 12,624 مائیکرو اے ٹی ایم تقسیم کیے گئے ہیں۔
- دودھ کوآپریٹو سوسائٹیوں کے اراکین کو روپے کسان کریڈٹ کارڈ: ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینکوں اور ریاستی کوآپریٹو بینکوں کی رسائی بڑھانے اور دودھ کوآپریٹو سوسائٹیوں کے اراکین کو ضروری مالی سہولت فراہم کرنے کے لیے روپے کسان کریڈٹ کارڈ تقسیم کیے جا رہے ہیں، تاکہ کم شرحِ سود پر قرض فراہم کیا جا سکے اور اراکین دیگر مالی لین دین بھی کر سکیں۔ اس اقدام کے مؤثر نفاذ کے لیے 19 ستمبر 2024 کو معیاری عملی طریقۂ کار جاری کیا گیا، اور گجرات میں 16,48,105 روپے کسان کریڈٹ کارڈ تقسیم کیے گئے ہیں۔
- مچھلی پالنے والے کسانوں کی پروڈیوسر تنظیم (ایف ایف پی او) کی تشکیل: ماہی گیروں کو منڈی سے جوڑنے اور مچھلی کی تیاری و پراسیسنگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے ابتدائی مرحلے میں 70 ایسی تنظیمیں رجسٹر کیں۔ اس کے علاوہ، حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے 1000 موجودہ ماہی پروری کوآپریٹو سوسائٹیوں کو ایسی تنظیموں میں تبدیل کرنے کا کام نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو سونپا ہے۔ نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 1000 بنیادی ماہی پروری کوآپریٹو سوسائٹیوں کی نشاندہی کی ہے تاکہ انہیں مضبوط کر کے ایسی تنظیموں کی شکل دی جا سکے، جس کے لیے 280.65 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ منتخب سوسائٹیوں کے لیے متعلقہ اداروں کے ذریعے کاروباری منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اس اسکیم کے تحت 105 کروڑ روپے کی رقم ان تنظیموں اور متعلقہ اداروں کو جاری کی ہے۔
- سفید انقلاب 2.0: وزارتِ تعاون نے کوآپریٹو قیادت میں ’’سفید انقلاب 2.0‘‘ لانے کے لیے ایک پہل شروع کی ہے، جس کا مقصد کوآپریٹو نظام کے دائرۂ کار میں توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں موجودہ سطح کے مقابلے میں ڈیری کوآپریٹو اداروں کے دودھ کی خریداری میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، اس کے لیے غیر احاطہ شدہ علاقوں میں ڈیری کسانوں کو منڈی تک رسائی فراہم کی جائے اور منظم شعبے میں ڈیری کوآپریٹو اداروں کا حصہ بڑھایا جائے۔’’سفید انقلاب 2.0 کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار کا اجرا 19.09.2024 کو معزز وزیرِ داخلہ و تعاون نے، معزز وزیرِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی موجودگی میں کیا۔ 25.12.2024 کو معزز وزیرِ داخلہ و تعاون نے، معزز وزیرِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی موجودگی میں، 6,600 نئی قائم شدہ ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کا افتتاح کیا۔ اب تک 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 21,768 ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیاں رجسٹر کی جا چکی ہیں۔
- خود کفالت مہم: وزارتِ تعاون نے دالوں (تور، مسور اور اُرد) کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اقدام شروع کیا ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے، نیز مکئی کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے تاکہ اسے ایتھنول تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکے اور ایتھنول میں ملاوٹ کے پروگرام کے ہدف کی تکمیل ہو سکے۔ یہ کام نیشنل کوآپریٹو کنزیومر فیڈریشن اور نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ دونوں اداروں نے کوآپریٹو کے ذریعے کسانوں کی رجسٹریشن کے لیے اپنے اپنے ویب پورٹل تیار کیے ہیں۔ دونوں اداروں نے تور، اُرد، مسور اور مکئی کے پہلے سے رجسٹرڈ کسانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی 100 فیصد پیداوار کم از کم امدادی قیمت پر خریدی جائے گی۔ تاہم، اگر منڈی کی قیمتیں کم از کم امدادی قیمت سے زیادہ ہوں تو کسان اپنی پیداوار کھلے بازار میں فروخت کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ نیشنل کوآپریٹو کنزیومر فیڈریشن کے ویب پورٹل پر اب تک 42,87,484 کسان رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اسی طرح نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا کے ویب پورٹل پر 13,90,862 کسانوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔
- کوآپریٹو بینکوں کو مضبوط بنانا
- اربن کوآپریٹو بینکوں کو کاروبار بڑھانے کے لیے نئی شاخیں کھولنے کی اجازت: اربن کوآپریٹو بینک اب ریزرو بینک کی پیشگی منظوری کے بغیر پچھلے مالی سال میں موجود شاخوں کی تعداد کے 15 فیصد تک (زیادہ سے زیادہ 10 شاخیں) نئی شاخیں کھول سکتے ہیں۔
- اربن کوآپریٹو بینکوں کو صارفین کے لیے گھر بیٹھے بینکاری خدمات فراہم کرنے کی اجازت: ریزرو بینک نے اربن کوآپریٹو بینکوں کو گھر بیٹھے بینکاری سہولت فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان بینکوں کے کھاتہ دار اب گھر پر مختلف بینکاری خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جیسے نقد رقم نکالنا، نقد رقم جمع کرانا، کے وائی سی، ڈیمانڈ ڈرافٹ، پنشن یافتگان کے لیے زندگی کا سرٹیفکیٹ وغیرہ۔
- اربن کوآپریٹو بینکوں کو شیڈول میں شامل کرنے کے لیے اصولوں کی اطلاع: وہ اربن کوآپریٹو بینک جو کاروباری اجازت سے متعلق اہلیتی شرائط پر پورا اترتے ہوں اور گزشتہ دو برسوں سے درجۂ سوم کے لیے مطلوبہ کم از کم جمع شدہ رقوم برقرار رکھے ہوئے ہوں، اب ریزرو بینک آف انڈیا ایکٹ 1934 کے دوسرے شیڈول میں شامل کیے جانے اور “شیڈولڈ” درجہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
- ریزرو بینک میں اربن کوآپریٹو بینکوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے کے لیے نودل افسر کی تقرری: کوآپریٹو شعبے کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کے لیے، ریزرو بینک نے قریبی تال میل اور مرکوز رابطے کی غرض سے ایک نودل افسر مقرر کرنے کی اطلاع جاری کی ہے۔
- ترجیحی شعبہ قرضہ ہدف 75 فیصد سے کم کر کے 60 فیصد کرنے سے اربن کوآپریٹو بینکوں کو راحت: ریزرو بینک آف انڈیا نے اربن کوآپریٹو بینکوں کے لیے ترجیحی شعبہ قرضہ کے ہدف کو 75 فیصد سے کم کر کے 60 فیصد کر دیا ہے۔ اس نرمی سے اربن کوآپریٹو بینکوں پر عمل درآمد کا دباؤ کم ہوا ہے اور قرضہ جاتی پورٹ فولیو کے انتظام میں انہیں زیادہ عملی لچک حاصل ہوئی ہے۔
- اربن کوآپریٹو بینکوں کے لیے رہائشی قرض کی حد 10 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد: اربن کوآپریٹو بینکوں کے اراکین کے لیے رہائشی قرض کی حد اثاثوں کے 10 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد (3 کروڑ روپے تک) کر دی گئی ہے، جو ان کے مجموعی قرضوں اور پیشگی رقوم کے اندر شامل ہوگی۔
- کمزور طبقات کے لیے 12 فیصد ذیلی حد میں خواتین قرض کی واپسی کے لیے 2 لاکھ روپے کے ہدف کو ختم کر کے راحت: کمزور طبقات کے لیے 12 فیصد ذیلی حد کے تحت خواتین قرض لینے والوں کے لیے 2 لاکھ روپے کے ہدف کو ختم کر دیا گیا ہے، جس سے ترجیحی شعبہ قرضہ کے تقاضوں کی تکمیل آسان ہوئی ہے اور اربن کوآپریٹو بینکوں کو زیادہ عملی آزادی ملی ہے۔
- اربن کوآپریٹو اداروں کو راحت: 50 فیصد قرض حد 1 کروڑ سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے: اربن کوآپریٹو بینکوں کے لیے قرضوں اور پیشگی رقوم کے 50 فیصد کے اندر قرض کی نمائش (ایکسپوژر) کی حد 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس سے انفرادی قرض لینے والوں کی بڑھتی ہوئی قرض ضروریات پوری کرنے، کاروباری ترقی میں مدد اور خوردہ و چھوٹے و درمیانے کاروبار کے قرضہ شعبے میں مسابقت بڑھانے میں سہولت ہوگی۔
- سونے کے قرض پر مالی حد ختم: ریزرو بینک نے کوآپریٹو بینکوں کے لیے سونے کے قرض پر 2 لاکھ روپے کی مالی حد ختم کر دی ہے، اور انہیں کمرشل بینکوں کے برابر کر دیا ہے۔
- اربن کوآپریٹو بینکوں کے لیے امبریلا ادارہ: ریزرو بینک کی منظوری سے اربن کوآپریٹو بینکوں اور کریڈٹ سوسائٹیوں کی نیشنل فیڈریشن کو اربن کوآپریٹو بینک شعبے کے لیے چھتری ادارہ کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جو تقریباً 1,500 اربن کوآپریٹو بینکوں کو ضروری معلوماتی ٹیکنالوجی کے ڈھانچے اور عملی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس نے ڈیجی قرض اور ڈیجی ادائیگی جیسی خدمات بھی شروع کی ہیں۔
- سیکیورٹی رسیدوں کے لیے مرحلہ وار نفاذ کی مدت میں توسیع: ریزرو بینک نے 24.02.2025 کی ہدایت کے ذریعے اثاثہ بازسازی کمپنی کے ذریعہ غیر کارکرد اثاثوں کے لیے پروویژنِنگ کے سلسلے میں مزید دو برس کی مہلت فراہم کی ہے، تاکہ اربن کوآپریٹو بینک اپنے سرمایہ اور نقدی کی بہتر طریقے سے نگرانی کر سکیں اور دباؤ زدہ اثاثوں پر ہونے والے نقصانات کم سے کم کر سکیں۔
- کوآپریٹو بینکوں کو کمرشل بینکوں کی طرح بقایا قرضوں کے یک وقتی تصفیہ کی اجازت: کوآپریٹو بینک اب بورڈ سے منظور شدہ پالیسیوں کے ذریعے قرض لینے والوں کے ساتھ یک وقتی تصفیہ کا طریقۂ کار فراہم کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ تکنیکی طور پر قرض ختم کرنے کی سہولت بھی ہوگی۔
- دیہی کوآپریٹو بینکوں کے لیے رہائشی قرض کی حد میں اضافہ: ریزرو بینک آف انڈیا نے دیہی کوآپریٹو بینکوں کے لیے انفرادی رہائشی قرض کی حد کو ڈھائی گنا بڑھا کر 75 لاکھ روپے کر دیا ہے، اور انہیں مجموعی نمائش کے 5 فیصد تک رئیل اسٹیٹ کو قرض دینے کی سہولت دی ہے۔
- آدھار پر مبنی ادائیگی نظام کے لیے لائسنس فیس میں کمی: کوآپریٹو بینکوں کو آدھار پر مبنی ادائیگی نظام میں شامل کرنے کے لیے لائسنس فیس کو لین دین کی تعداد سے جوڑ کر کم کر دیا گیا ہے۔ کوآپریٹو مالی اداروں کو پیشگی مرحلے کے پہلے تین مہینوں کے لیے یہ سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔ اس سے شامل بینکوں کے اراکین کو بایومیٹرک کے ذریعے گھر بیٹھے بینکاری کی سہولت حاصل ہو سکے گی۔
- آدھار پر مبنی ادائیگی نظام میں کوآپریٹو بینکوں کی شمولیت کے لیے نیا فریم ورک: شناختی اتھارٹی نے 01.08.2025 کو آدھار پر مبنی ادائیگی نظام میں کوآپریٹو بینکوں کی شمولیت کے لیے نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے۔ اب صرف ریاستی کوآپریٹو بینکوں کو توثیق صارف ایجنسی اور الیکٹرانک کے وائی سی صارف ایجنسی کے طور پر شامل ہونا ضروری ہوگا، جبکہ ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں کو ریاستی کوآپریٹو بینک کے تحت ذیلی ایجنسی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
- کوآپریٹو بینکوں کو ضمانتی ٹرسٹ اسکیم کے تحت رکن قرض دہندہ ادارہ قرار دینا: کوآپریٹو بینکوں کو قرضوں پر 85 فیصد تک خطرہ تحفظ کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس کے ساتھ کوآپریٹو شعبے کے ادارے اب کوآپریٹو بینکوں سے بغیر ضمانت کے قرض حاصل کر سکیں گے۔ اس اسکیم کے تحت کوآپریٹو بینکوں کو رکن قرض دہندہ ادارہ کے طور پر رجسٹر کرنے کے لیے اہلیتی معیار کو مجموعی غیر کارکرد اثاثہ 5 فیصد یا اس سے کم سے بڑھا کر 7 فیصد یا اس سے کم کر دیا گیا ہے۔
- بینکاری ضابطہ قانون میں ترمیم: حکومت نے بینکاری ضابطہ قانون میں ترمیم کر کے کوآپریٹو بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مدت کو آئین کے مطابق (زیادہ سے زیادہ 10 مسلسل برس) کر دیا ہے۔
- ترجیحی شعبہ رہنما اصولوں کے تحت زرعی کوآپریٹو سوسائٹیوں (ڈیری) کے لیے حد 5 کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے: ریزرو بینک آف انڈیا نے 24.03.2025 کی ماسٹر ہدایت کے ذریعے زرعی کوآپریٹو سوسائٹیوں (ڈیری) کے لیے ترجیحی شعبہ قرضہ کی حد 5 کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کر دی ہے۔ اس اقدام سے بینکوں کو زرعی کوآپریٹو سوسائٹیوں (ڈیری) کو زیادہ قرضہ معاونت فراہم کرنے میں سہولت ہوگی، جس سے زرعی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور دیہی علاقوں میں قرض کی روانی میں اضافہ ہوگا۔
- سہکار سارتھی (مشترکہ خدماتی ادارہ): ریزرو بینک کی منظوری کے بعد دیہی کوآپریٹو بینکوں کو تکنیکی خدمات فراہم کرنے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے سہکار سارتھی (مشترکہ خدماتی ادارہ) پرائیویٹ لمیٹڈ قائم کیا گیا ہے۔ اس ادارے نے دیہی کوآپریٹو بینکاری شعبے کے لیے 13 خدمات شروع کی ہیں۔
- دیہی کوآپریٹو بینکوں کو مربوط محتسب اسکیم میں شامل کرنا: ریزرو بینک نے 07.10.2025 کی اطلاع کے ذریعے دیہی کوآپریٹو بینکوں کو اپنی مربوط محتسب اسکیم میں شامل کیا ہے۔ اس سے دیہی کوآپریٹو بینکوں کے کام کاج میں شفافیت اور جواب دہی میں اضافہ ہوگا۔
- ریاستی اور ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں کو نئی شاخیں کھولنے کی اجازت: ریزرو بینک نے 04.12.2025 کی ماسٹر ہدایت کے ذریعے ریاستی کوآپریٹو بینکوں اور ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں کو خودکار طریقۂ کار کے تحت (زیادہ سے زیادہ 10) نئی شاخیں کھولنے کی اجازت دی ہے۔ اہلیت کی شرط کے ساتھ، یہ بینک اب بغیر تاخیر نئی شاخیں کھول سکیں گے اور اپنا کاروبار بڑھا سکیں گے۔
- جدید بینکاری خدمات کے لیے مالی معیار میں نرمی: ریزرو بینک نے 28.11.2025 کی ماسٹر ہدایت کے ذریعے دیہی اور شہری کوآپریٹو بینکوں کو جدید بینکاری خدمات فراہم کرنے کے لیے مالی معیار میں نرمی دی ہے۔ پہلے مجموعی غیر کارکرد اثاثہ 7 فیصد سے کم، خالص غیر کارکرد اثاثہ 3 فیصد سے زیادہ نہ ہونے اور خالص منافع کی شرط تھی، جنہیں اب ختم کر دیا گیا ہے۔ اب کوآپریٹو بینک اپنے صارفین کو آسانی سے جدید بینکاری خدمات فراہم کر سکیں گے۔
- کاروباری اجازت کے لیے اہلیتی معیار کے اصول جاری: ریزرو بینک نے 04.12.2025 کی ماسٹر ہدایت کے ذریعے کاروباری اجازت کے لیے اہلیتی معیار کے اصول جاری کیے ہیں، جو سابقہ ضوابط کی جگہ لیں گے۔ ان اصولوں میں گزشتہ دو برسوں میں کوئی جرمانہ نہ ہونے والی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اب کوآپریٹو بینک آسانی سے نئی شاخیں کھول سکیں گے اور اپنا کاروبار بڑھا سکیں گے۔
- بینکاری ضابطہ قانون کی دفعہ 20 کے تحت وضاحت: ریزرو بینک نے 07.01.2026 کے خط کے ذریعے بینکاری ضابطہ قانون کی دفعہ 20 کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے، جس کے نتیجے میں دیہی کوآپریٹو بینکوں کے ڈائریکٹرز اور ان سے متعلقہ کوآپریٹو سوسائٹیاں اب مقررہ شرائط کے تحت اپنے متعلقہ ریاستی کوآپریٹو بینکوں اور ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں سے قرض حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
- ترجیحی شعبہ قرضہ فریم ورک میں نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو اہل ادارہ قرار دینا: ریزرو بینک نے 19.01.2026 کی اطلاع کے ذریعے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو ترجیحی شعبہ قرضہ کے فریم ورک میں دوبارہ قرضہ دینے کی دفعات کے تحت ایک اہل ادارہ کے طور پر شامل کیا ہے۔ اب بینکوں کی جانب سے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو کوآپریٹو سوسائٹیوں کو زراعت، رہائش، سماجی ڈھانچہ وغیرہ جیسے مقاصد کے لیے دوبارہ قرضہ دینے کی خاطر دیا گیا قرض، ترجیحی شعبہ قرضہ کے زمرے میں شمار ہوگا۔
- مخصوص قرض لینے والوں کو 50 فیصد سے زیادہ ورکنگ کیپیٹل لینے میں نرمی: ریزرو بینک نے مخصوص قرض لینے والوں، جیسے انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ، کو بینکوں سے اپنی ورکنگ کیپیٹل ضروریات (اضافی فنڈز) کے 50 فیصد سے زیادہ رقم قرض لینے کی نرمی دی ہے۔
- حکومتی اسکیموں میں کوآپریٹو بینکوں کو شریک ادارہ بنانے کی سفارش: کابینہ سکریٹری کی صدارت میں سکریٹریوں کی کمیٹی نے حکومتِ ہند کی مختلف اسکیموں کے تحت کوآپریٹو بینکوں کو شریک اداروں میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ مختلف وزارتوں/محکموں، مثلاً محکمۂ مویشی پروری اور ڈیری نے بھی اپنی اسکیم رہنما ہدایات میں ترمیم کر کے کوآپریٹو بینکوں کو شامل کیا ہے۔
- انشورنس کاروبار کے لیے کارپوریٹ ایجنٹ کے طور پر کوآپریٹو بینکوں کی شمولیت: کوآپریٹو بینکوں کو انشورنس کاروبار کے لیے کارپوریٹ ایجنٹ کے طور پر شامل کرنے کی غرض سے وزارتِ تعاون نے تمام ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں اور کوآپریٹو بینکوں سے درخواست کی ہے کہ وہ انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ کے مشترکہ منصوبہ کمپنی کے کارپوریٹ ایجنٹ کے طور پر وابستہ ہوں۔
- سائبر فراڈ کی روک تھام اور فوری رپورٹنگ کے لیے پورٹلز سے وابستگی: سائبر فراڈ کی روک تھام اور بروقت رپورٹنگ و کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ تعاون نے تمام ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں اور کوآپریٹو بینکوں سے درخواست کی ہے کہ وہ داخلی سلامتی اور قومی سائبر جرم رپورٹنگ پورٹل سے منسلک ہوں۔ 600 سے زیادہ کوآپریٹو بینک اس نظام سے وابستہ ہو چکے ہیں۔
- دیہی کوآپریٹو بینکاری شعبے کے لیے نبارڈ کے تحت ٹاسک فورس: قومی تعاون پالیسی 2025 کے مینڈیٹ کے مطابق، دیہی کوآپریٹو بینکاری شعبے کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حل اور پالیسی سازی کے لیے ضروری تجاویز فراہم کرنے کی غرض سے نبارڈ کے تحت ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔
- اربن کوآپریٹو بینکوں اور کریڈٹ سوسائٹیوں کی تبدیلی پر ٹاسک فورس: وزارت نے اربن کوآپریٹو بینکوں اور کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹیوں کی تبدیلی کے موضوع پر اربن کوآپریٹو بینکوں کی قومی فیڈریشن کے تحت ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ اس ٹاسک فورس نے تین رپورٹیں پیش کی ہیں۔
- زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں پر رپورٹ: وزارت کی درخواست پر نبارڈ نے زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں میں اصلاحات، تنظیمِ نو اور اختراع سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔
- قومی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کی فیڈریشن کے لیے مطالعہ: وزارت نے ایک ادارے کے ذریعے قومی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کی فیڈریشن کے لیے تفصیلی مطالعہ مکمل کیا، جس کے نتیجے میں ایک منظور شدہ عملی منصوبہ تیار ہوا، جو قرضوں میں توسیع، غیر زرعی شعبے کی سرگرمیوں کے فروغ اور کوآپریٹو طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
- امرت کال میں کردار بلند کرنے کے لیے اسٹریٹجک مطالعہ: وزارت نے ایک اسٹریٹجک مطالعہ مکمل کیا ہے تاکہ امرت کال (2022 تا 2047) میں ریاستی کوآپریٹو بینکوں کی قومی فیڈریشن کے کردار کو بلند کیا جا سکے۔ اس میں کوآپریٹو قرضہ نظام میں اصلاحات، ڈیجیٹل انضمام، مالی خدمات میں تنوع اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔ حکمرانی، ریاستی سطح پر صلاحیت سازی اور شمولیتی رسائی پر زور کے ساتھ یہ روڈ میپ کوآپریٹو بینکاری کی قیادت اور ہندوستان بھر میں پائیدار دیہی ترقی کے لیے اس ادارے کو مؤثر بنانے کی سمت رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
- انکم ٹیکس قانون کے تحت کوآپریٹو سوسائٹیوں کو راحت
- 1 سے 10 کروڑ روپے آمدنی رکھنے والی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے سرچارج 12 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد: اس سے کوآپریٹو سوسائٹیوں پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا اور ان کے پاس اپنے اراکین کے فائدے کے لیے کام کرنے کے لیے زیادہ سرمایہ دستیاب ہوگا۔
- کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے کم از کم متبادل ٹیکس 18.5 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد: اس شق کے ذریعے اب اس معاملے میں کوآپریٹو سوسائٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان برابری قائم ہو گئی ہے۔
- انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 269 ایس ٹی کے تحت نقد لین دین میں راحت: کوآپریٹو اداروں کو انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 269 ایس ٹی کے تحت نقد لین دین میں پیش آنے والی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے حکومت نے وضاحت جاری کی ہے کہ اگر کوئی کوآپریٹو سوسائٹی ایک ہی دن میں اپنے تقسیم کار کے ساتھ 2 لاکھ روپے سے کم نقد لین دین کرے تو اسے الگ الگ شمار کیا جائے گا، اور اس پر انکم ٹیکس جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔
- نئی مالسازی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے ٹیکس میں کمی: حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 مارچ 2024 تک مینوفیکچرنگ سرگرمیاں شروع کرنے والی نئی کوآپریٹو سوسائٹیوں پر پہلے کی شرح (جو 30 فیصد تک اور اس پر سرچارج) کے مقابلے میں 15 فیصد کی کم اور یکساں شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس سے مینوفیکچرنگ شعبے میں نئی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
- ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیوں اور ابتدائی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کے ذریعے نقد جمع اور ادائیگی کی حد میں اضافہ: حکومت نے ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیوں اور ابتدائی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کے ذریعے نقد جمع اور ادائیگی کی حد 20,000 روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے فی رکن کر دی ہے۔ اس شق سے ان کی سرگرمیوں میں سہولت ہوگی، کاروبار میں اضافہ ہوگا اور سوسائٹیوں کے اراکین کو فائدہ پہنچے گا۔
- ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیوں اور ابتدائی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کے ذریعے نقد میں قرض اور قرض کی واپسی کی حد میں اضافہ: حکومت نے ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیوں اور ابتدائی کوآپریٹو زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کے ذریعے نقد میں قرض اور قرض کی واپسی کی حد 20,000 روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے فی رکن کر دی ہے۔ اس شق سے ان کی سرگرمیوں میں سہولت ہوگی، کاروبار میں اضافہ ہوگا اور سوسائٹیوں کے اراکین کو فائدہ پہنچے گا۔
- نقد رقم نکالنے پر ماخذ پر کٹوتی کی حد میں اضافہ: حکومت نے بجٹ 2023-24 کے ذریعے کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے ماخذ پر ٹیکس کٹوتی کے بغیر نقد رقم نکالنے کی سالانہ حد 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کر دی ہے۔ اس شق کے تحت کوآپریٹو سوسائٹیوں کی ماخذ پر ٹیکس کٹوتی میں بچت ہوگی، جسے وہ اپنے اراکین کے فائدے کے لیے استعمال کر سکیں گی۔
- کم یا صفر ماخذ پر ٹیکس کٹوتی کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی سہولت: 01.10.2024 سے دفعہ 194 کیو کو دفعہ 197 کے دائرے میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ٹیکس دہندگان اب ایسے لین دین کے لیے کم یا صفر کٹوتی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جن میں دفعہ 194 کیو کے تحت ماخذ پر ٹیکس کٹوتی لازم ہوتی ہے۔
- سامان کی فروخت پر ماخذ پر ٹیکس وصولی کی شق غیر مؤثر: دفعہ 206 سی (1 ایچ) میں ایک اختتامی شق شامل کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یکم اپریل 2025 سے مذکورہ دفعہ کی دفعات قابلِ اطلاق نہیں رہیں گی۔
- کوآپریٹو شوگر ملوں کی بحالی (وزارت کی تازہ کاری)
- کوآپریٹو شوگر ملوں کو انکم ٹیکس میں راحت: حکومت نے وضاحت جاری کی ہے کہ اپریل 2016 کے بعد سے، کوآپریٹو شوگر ملیں کسانوں کو گنے کی قیمت منصفانہ و منافع بخش قیمت یا ریاست کی مقررہ قیمت تک زیادہ ادا کرنے کی صورت میں اضافی انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آئیں گی۔
- کوآپریٹو شوگر ملوں کے انکم ٹیکس سے متعلق دہائیوں پرانے زیر التوا مسائل کا حل: حکومت نے اپنے مرکزی بجٹ 2023-24 میں ایسی شق رکھی ہے جس کے تحت شوگر کوآپریٹو اداروں کو تخمینی سال 2016-17 سے پہلے کی مدت کے لیے گنے کے کسانوں کو کی گئی ادائیگیوں کو خرچ کے طور پر شمار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے انہیں 46,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی راحت حاصل ہوئی ہے۔
- کوآپریٹو شوگر ملوں کو مضبوط بنانے کے لیے 10,000 کروڑ روپے کی قرض اسکیم: حکومت نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے ایک اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت ایتھنول پلانٹس قائم کرنے، بجلی کی مشترکہ پیداوار کے پلانٹس لگانے، یا ورکنگ کیپیٹل کے لیے، یا ان تینوں مقاصد کے لیے قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے اس اسکیم کے تحت نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو 1000 کروڑ روپے جاری کیے ہیں (500 کروڑ روپے مالی سال 2022-23 میں اور 500 کروڑ روپے مالی سال 2024-25 میں)، اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 56 کوآپریٹو شوگر ملوں کو 10,005 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔
- ایتھنول کی خریداری میں کوآپریٹو شوگر ملوں کو ترجیح: ایتھنول میں ملاوٹ کے پروگرام کے تحت حکومتِ ہند کی جانب سے ایتھنول کی خریداری کے معاملے میں کوآپریٹو شوگر ملوں کو اب نجی کمپنیوں کے برابر کر دیا گیا ہے۔
- کوآپریٹو شوگر ملوں کو مضبوط بنانا: مولاسس پر مبنی ایتھنول پلانٹس کو کثیر خام مال والے پلانٹس میں تبدیل کرنا:
وزارتِ تعاون نے نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز لمیٹڈ کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ پہل کی ہے کہ کوآپریٹو شوگر ملوں کے موجودہ مولاسس پر مبنی ایتھنول پلانٹس کو کثیر خام مال والے ایتھنول پلانٹس میں تبدیل کیا جائے۔ کوآپریٹو شوگر ملیں مولاسس اور شوگر سیرپ سے بھی ایتھنول تیار کرتی ہیں اور اس کے لیے ایتھنول پیداوار کے پلانٹس نصب کیے جاتے ہیں۔ تاہم، ایتھنول کی تیاری کے لیے خام مال یعنی مولاسس اور شوگر سیرپ کی دستیابی کئی عوامل سے محدود ہوتی ہے، مثلاً گنے کے سیرپ اور بھاری مولاسس کو ایتھنول کی تیاری کے لیے موڑنے سے متعلق حکومتی پالیسی، گنا کرشنگ سیزن کی مدت، اور بارش وغیرہ کے مطابق گنے کی دستیابی۔ ان محدود عوامل کے سبب جن کوآپریٹو شوگر ملوں کے پاس ایتھنول پلانٹس ہیں وہ انہیں پورے سال مکمل صلاحیت کے ساتھ نہیں چلا پاتیں۔ حکومتِ ہند نے ایتھنول کی تیاری کے لیے مکئی کو ترجیح دی ہے، اس لیے مناسب ہے کہ کوآپریٹو شوگر ملیں اپنی موجودہ ایتھنول پیداواری اکائیوں کو کثیر خام مال والی اکائیوں میں تبدیل کریں تاکہ وہ مکئی کو خام مال کے طور پر استعمال کر کے بھی ایتھنول تیار کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے قرض فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ محکمۂ خوراک و عوامی تقسیم نے صرف کوآپریٹو شوگر ملوں کے لیے ایک مخصوص اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت قرض پر 6 فیصد سالانہ یا اصل سود کے 50 فیصد (جو بھی کم ہو) کی شرح سے سود میں رعایت دی جائے گی، اور یہ رعایت 5 برس کی مدت کے لیے ہوگی۔ مزید یہ کہ تیل مارکیٹنگ کمپنیاں ایتھنول کی خریداری میں ان کوآپریٹو شوگر ملوں کو اولین ترجیح دیں گی جو سود میں رعایت والی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گی، جس سے یک خام مال نظام سے کثیر خام مال نظام کی طرف منتقلی ممکن ہوگی۔
- مولاسس پر جی ایس ٹی 28 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد: حکومت نے مولاسس پر جی ایس ٹی کی شرح 28 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے کوآپریٹو شوگر ملیں مولاسس کو ڈسٹلریوں کو زیادہ منافع کے ساتھ فروخت کر کے اپنے اراکین کے لیے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں گی۔
- بند کوآپریٹو شوگر ملوں کی بحالی: انڈین پوٹاش لمیٹڈ نے وزارتِ تعاون کی تجاویز پر بند کوآپریٹو شوگر ملوں کی بحالی کے لیے ایک پہل کی ہے۔ 08.03.2025 کو معزز وزیرِ داخلہ و تعاون نے شری بیلیشور کھانڈ اُدیوگ کھیڈوت سہکاری منڈلی لمیٹڈ، کوڈینار اور شری تلالا تعلقہ سہکاری کھانڈ اُدیوگ منڈلی لمیٹڈ، تلالا کی بحالی اور جدید کاری کے لیے “بھومی پوجن” کی تقریب انجام دی۔ اس کے علاوہ، انڈین پوٹاش لمیٹڈ شری ولساڈ سہکاری کھانڈ اُدیوگ منڈلی لمیٹڈ، ولساڈ کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات سے ان علاقوں میں ہزاروں کسانوں کو فائدہ پہنچے گا جہاں مذکورہ کوآپریٹو شوگر ملیں واقع ہیں۔
- قومی سطح کی تین نئی کثیر ریاستی سوسائٹیاں
- مصدقہ بیجوں کے لیے نئی قومی کثیر ریاستی کوآپریٹو بیج سوسائٹی: حکومت نے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز قانون 2002 کے تحت ایک نئی اعلیٰ سطحی کثیر ریاستی کوآپریٹو بیج سوسائٹی قائم کی ہے، جس کا نام بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ ہے۔ یہ ایک چھتری ادارہ کے طور پر کام کرے گی، جس کا مقصد حکومتِ ہند کی مختلف وزارتوں کی اسکیموں اور پالیسیوں سے استفادہ کرتے ہوئے ابتدائی اور مصدقہ—یعنی بیجوں کی دونوں نسلوں—کی پیداوار، جانچ، تصدیق، خریداری، پراسیسنگ، ذخیرہ، برانڈنگ، لیبلنگ اور پیکجنگ پر توجہ مرکوز کرنا ہے، اور یہ کام ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیوں کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ نے اپنے بیج “بھارت بیج” کے برانڈ نام سے جاری کیے ہیں۔ اب تک 33,077 ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیاں/کوآپریٹو سوسائٹیاں اس ادارے کی رکن بن چکی ہیں۔
- نامیاتی کھیتی کے لیے نئی قومی کثیر ریاستی کوآپریٹو نامیاتی سوسائٹی: حکومت نے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز قانون 2002 کے تحت ایک نئی اعلیٰ سطحی کثیر ریاستی کوآپریٹو نامیاتی سوسائٹی قائم کی ہے، جس کا نام نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ ہے۔ یہ ایک چھتری ادارہ کے طور پر کام کرے گی، جس کا مقصد نامیاتی مصنوعات کے مجموعہ، تصدیق، جانچ، خریداری، ذخیرہ، پراسیسنگ، برانڈنگ، لیبلنگ، پیکجنگ، نقل و حمل کی سہولیات اور مارکیٹنگ کے لیے ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنا ہے، نیز اپنی رکن کوآپریٹو سوسائٹیوں بشمول ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیوں اور کسان پروڈیوسر تنظیموں کے ذریعے نامیاتی کسانوں کے لیے مالی معاونت کے انتظام میں سہولت فراہم کرنا بھی اس کا ہدف ہے۔ یہ ادارہ حکومت کی مختلف اسکیموں اور ایجنسیوں کی مدد سے نامیاتی مصنوعات کی تشہیری اور ترقیاتی سرگرمیاں بھی انجام دے گا۔ اب تک 11,823 ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیاں/کوآپریٹو سوسائٹیاں اس ادارے کی رکن بن چکی ہیں۔ نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ نے اپنی مصنوعات “بھارت آرگینکس” کے برانڈ نام سے متعارف کرائی ہیں۔ اب تک “بھارت آرگینکس” کے تحت 28 نامیاتی مصنوعات دہلی-این سی آر اور بنگلورو میں دستیاب ہیں، جن میں ارہر دال، بھورا چنا، چنا دال، کابلی چنا، مسور ملکا، مسور چھلکا، مسور ثابت، مونگ دھلی، مونگ چھلکا، مونگ ثابت، راجما چترا، اُڑد دال، اُڑد گوٹا، اُڑد چھلکا، اُڑد ثابت، گیہوں آٹا، گڑ کیوب، گڑ پاؤڈر، بھوری شکر، کھنڈساری شکر، دھنیا پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، میتھی، دھنیا ثابت، سیب کے سرکے کا مشروب، نامیاتی گوا کے کاجو، نامیاتی کشمیری بادام اور نامیاتی کشمیری اخروٹ شامل ہیں۔ “بھارت آرگینکس” کی مصنوعات کو منظور شدہ لیبارٹریوں میں 245 سے زائد کیڑے مار ادویات کے لیے ہر بیچ کی سو فیصد جانچ کے بعد ہی دستیاب کرایا جاتا ہے۔
- برآمدات کے فروغ کے لیے نئی قومی کثیر ریاستی کوآپریٹو برآمدی سوسائٹی: حکومت نے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز قانون 2002 کے تحت ایک نئی اعلیٰ سطحی کثیر ریاستی کوآپریٹو برآمدی سوسائٹی قائم کی ہے، جس کا نام نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹ لمیٹڈ ہے۔ یہ ایک چھتری ادارہ کے طور پر کام کرے گی، جس کا مقصد ہندوستانی کوآپریٹو شعبے میں دستیاب اضافی پیداوار کو ملک کی جغرافیائی حدود سے باہر وسیع تر منڈیوں تک پہنچا کر برآمد کرنا ہے، تاکہ دنیا بھر میں ہندوستانی کوآپریٹو مصنوعات اور خدمات کی مانگ بڑھے اور ان کے لیے بہترین ممکنہ قیمت حاصل ہو سکے۔ یہ ادارہ خریداری، ذخیرہ، پراسیسنگ، مارکیٹنگ، برانڈنگ، لیبلنگ، پیکجنگ، تصدیق، تحقیق و ترقی وغیرہ سمیت مختلف سرگرمیوں کے ذریعے برآمدات کو فروغ دے گا، نیز کوآپریٹو سوسائٹیوں کی تیار کردہ ہر قسم کی اشیا اور خدمات کی تجارت بھی کرے گا۔ اب تک 13,890 ابتدائی زرعی کریڈٹ سوسائٹیاں/کوآپریٹو سوسائٹیاں اس ادارے کی رکن بن چکی ہیں۔ نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹ لمیٹڈ نے اب تک تقریباً 13.84 لاکھ میٹرک ٹن کے برابر 40 زرعی اجناس، جیسے چاول، گیہوں، مکئی، چینی، پیاز، زیرہ وغیرہ، 29 ممالک کو برآمد کی ہیں، جن کی مالیت 5,577.84 کروڑ روپے ہے۔ مالی سال 2023-24 کے دوران نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹ لمیٹڈ نے اپنی رکن کوآپریٹو سوسائٹیوں کو 20 فیصد منافع بطور ڈیویڈنڈ فراہم کیا۔
- بیج انوسندھان مرکز کا قیام: معزز وزیرِ داخلہ و تعاون نے 6 اپریل 2025 کو گجرات کے کالول میں ایک جدید تحقیقی مرکز بیج انوسندھان مرکز کا سنگِ بنیاد رکھا۔ بیج انوسندھان مرکز کسانوں کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں اختراع اور شمولیتی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ نیم خشک خطوں کے لیے بین الاقوامی فصل تحقیقی ادارہ، انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ، اور بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ نے 3 جون 2025 کو “بیج انوسندھان مرکز” کے قیام کے لیے باقاعدہ طور پر سہ فریقی خدماتی معاہدہ کیا ہے۔
- کیلے کے لیے ٹشو کلچر سہولیات قائم کرنے کی پہل: کیلا سال بھر دستیاب ہونے، کم قیمت، ذائقے، غذائی اہمیت اور طبی خصوصیات کے باعث ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ طلب رکھتا ہے اور اس میں برآمدات کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ بھارتیہ بیج سہکاری لمیٹڈ نے آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں کیلے کے لیے ٹشو کلچر سہولت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان سہولیات کے ذریعے یہ ادارہ ’’اصل قسم کے مطابق‘‘ مادر پودے برقرار رکھے گا، ٹشو کلچر کے ذریعے کیلے کے پودے تیار کرے گا اور کسانوں کو سو فیصد بیماری سے پاک پودے فراہم کرے گا۔ اس سے کسانوں کو اعلیٰ معیار کا پودا جاتی مواد دستیاب ہوگا اور ان کی آمدنی میں پائیدار اضافہ یقینی بنایا جا سکے گا۔
- آلو کے لیے ٹشو کلچر سہولیات قائم کرنے کی پہل: گجرات اور اتر پردیش میں آلو کے ٹشو کلچر کو فروغ دینے کے لیے بھارتیہ بیج سہکاری لمیٹڈ اور بنس ڈیری کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
- روایتی قدرتی بیجوں کے تحفظ اور بقا کے لیے پہل: کیمیائی مادوں سے پاک ہندوستانی روایتی قدرتی کھیتی کے طریقوں کی طرف کسانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر، غالب امکان ہے کہ روایتی قدرتی بیجوں کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا ان بیجوں کے تحفظ، افزائش اور فروغ کے لیے مربوط کوشش کی ضرورت ہے۔ بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ نے دیسی پودوں کی قدرتی بیج اقسام کی نشاندہی کرنے کی پہل کی ہے، جن میں غذائی اناج، سبزیاں، پھل وغیرہ کے بیج شامل ہیں (اور یہ صرف انہی تک محدود نہیں)، اور ان کی حفاظت، تحفظ، افزائش، پیداوار، تقسیم، فروغ اور دیگر ضروری سرگرمیوں کے لیے ایک نظام تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قدرتی دیسی بیجوں کے فروغ کے شعبے میں سرگرم ریاستی حکومتوں اور تکنیکی اداروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس اہم قومی کام کو آگے بڑھانے کے لیے بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ کو ہر ممکن انتظامی، ادارہ جاتی اور تکنیکی تعاون فراہم کریں۔
- کوآپریٹو اداروں میں صلاحیت سازی
- کوآپریٹو یونیورسٹی کا قیام: وزارتِ تعاون نے کوآپریٹو شعبے میں قومی سطح کی ایک یونیورسٹی قائم کی ہے، جس کا نام تریبھون سہکاری یونیورسٹی ہے۔ یہ یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ آنند کو تبدیل کر کے قائم کی گئی ہے۔ اسے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے قومی اہمیت کا ادارہ قائم اور قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں تریبھون سہکاری یونیورسٹی بل، 2025 کو بالترتیب 26 مارچ 2025 کو لوک سبھا اور 1 اپریل 2025 کو راجیہ سبھا نے منظور کیا۔ مزید یہ کہ قانون کے نفاذ اور یونیورسٹی کے قیام کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن 4 اپریل 2025 کو جاری کیا گیا، جس کے تحت یونیورسٹی 6 اپریل 2025 سے قائم سمجھی گئی۔
چونکہ یہ یونیورسٹی ایک موجودہ ادارے کو تبدیل کر کے قائم کی گئی ہے، اس لیے یہ فوری طور پر فعال ہو گئی۔ مزید برآں، قائم مقام وائس چانسلر، رجسٹرار اور فنانس آفیسر کی تقرری بھی کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کا گورننگ بورڈ اور ایگزیکٹو کونسل بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اور یونیورسٹی کے قوانین (اسٹیچیوٹس) کو وزارت کی جانب سے نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ضوابط (آرڈیننس) بھی تریبھون سہکاری یونیورسٹی کی جانب سے نوٹیفائی کر دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، اضافی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے گجرات حکومت نے 50 سال کے لیے لیز پر زمین بھی الاٹ کر دی ہے، اور یونیورسٹی کی نئی عمارت کے لیے 5 جولائی 2025 کو سنگِ بنیاد بھی رکھا جا چکا ہے۔
- تریبھون سہکاری یونیورسٹی کی جانب سے نئے کورسز کا آغاز اور الحاق: تریبھون سہکاری یونیورسٹی نے موجودہ تعلیمی سال سے تین نئے ایم بی اے پروگرام شروع کیے ہیں: زرعی کاروباری انتظام، کوآپریٹو انتظام، اور کوآپریٹو بینکاری و مالیات۔
یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کے سلسلے میں، ویکنتھ مہتا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کوآپریٹو مینجمنٹ، پونے سمیت سات اداروں کو الحاق دیا جا چکا ہے، جبکہ 25 سے زائد درخواستیں اس وقت یونیورسٹی میں زیرِ غور ہیں۔
- نیشنل لیبر کوآپریٹو فیڈریشن پر قومی سطح کی جامع تحقیق: وزارت نے اے ایف سی انڈیا لمیٹڈ کے ذریعے نیشنل لیبر کوآپریٹو فیڈریشن پر ایک جامع قومی سطح کا مطالعہ مکمل کیا ہے، جس سے اس ادارے کو بہتر بنیادی ڈھانچے، متنوع خدمات اور مضبوط تربیتی اقدامات کے ساتھ کاروبار پر مبنی ادارہ بنانے کے لیے حکمتِ عملی سفارشات تیار ہوئی ہیں۔
- اثراتی جائزہ (امپیکٹ اسیسمنٹ) اسٹڈی: وزارت نے لیناک کے ذریعے ایک امپیکٹ اسیسمنٹ اسٹڈی بھی مکمل کی ہے، جس کا مقصد وزارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی مؤثریت کا جائزہ لینا تھا، تاکہ کوآپریٹو شعبے کی مضبوطی اور شمولیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل نکات سامنے آ سکیں۔
- این سی یو آئی کے لیے اسٹریٹجک اسٹڈی: وزارتِ تعاون نے اے ایف سی انڈیا لمیٹڈ کے ذریعے ایک اسٹریٹجک مطالعہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد امرت کال (2022 تا 2047) کے دوران نیشنل کوآپریٹو یونین آف انڈیا کی ترقی کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ اس مطالعے کا مقصد ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز قانون کی دفعہ 24 کی تعمیل کو یقینی بنانا، کوآپریٹو تعلیم کو جدید بنانا، 25 سالہ ترقیاتی نقشہ تیار کرنا، اور این سی یو آئی کی حکمرانی، رسائی، تربیتی بنیادی ڈھانچے اور ملک بھر میں کوآپریٹو شعبے کی ترقی میں کردار کو مضبوط کرنا ہے۔
- فِش کوآپ فیڈ کے لیے قومی مطالعہ: وزارت نے اے ایف سی انڈیا لمیٹڈ کے ذریعے ایک قومی مطالعہ بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد امرت کال (2022 تا 2047) کے دوران نیشنل فیڈریشن آف فشرز کوآپریٹو لمیٹڈ کی کاروباری ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا ہدف تنوع، حکمرانی میں اصلاحات، ڈیجیٹل رسائی اور کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنا کر 25 فیصد ترقی حاصل کرنا ہے۔ یہ مطالعہ چھ ریاستوں اور مختلف سطحوں کے شراکت داروں پر محیط ہوگا، اور اس کے ذریعے ماہی گیری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو جدید بنانے اور ان کے سماجی و معاشی اثرات میں اضافہ کرنے کے لیے حکمتِ عملی منصوبے تیار کیے جائیں گے۔
- بھارت میں کوآپریٹو نظام پر خصوصی ماڈیول: وزارتِ تعاون کی رہنمائی میں اور قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت کے مشورے سے، نیشنل کونسل فار کوآپریٹو ٹریننگ نے تعاون پر ایک خصوصی ماڈیول تیار کیا ہے، جس کا مقصد اسکول کے طلبہ میں قوم کی تعمیر میں کوآپریٹو اداروں کے کردار سے آگاہی پیدا کرنا ہے، تاکہ وہ کوآپریٹو شعبے کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی طرف راغب ہوں۔ یہ خصوصی ماڈیول این سی ای آر ٹی اسکولوں کے ثانوی سطح کے طلبہ کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔
- اسکولوں میں کوآپریٹو نظام: این سی ای آر ٹی نے وزارتِ تعاون کی ہدایت اور این سی سی ٹی کی کوششوں کے نتیجے میں، جماعت ششم کے نصاب میں کوآپریٹو نظام پر ایک باب شامل کیا ہے، جس سے طلبہ کو کوآپریٹو تحریک کے بارے میں مختصر آگاہی ملتی ہے۔
جماعت ششم تا دہم کے لیے خصوصی ماڈیول کی تیاری: وزارتِ تعاون کی ہدایت پر این سی سی ٹی نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق، عمر کے لحاظ سے مناسب اور جماعت کے مطابق تعاون پر خصوصی ماڈیولز تیار کرے گی، جو جماعت ششم سے دہم تک کے طلبہ کے لیے ہوں گے۔
- مالی نظام کو مضبوط بنانا: وزارتِ تعاون نے این سی سی ٹی کے لیے ایک نیا مد “گرانٹس اِن ایڈ جنرل” کھولا ہے، جس سے این سی سی ٹی کو کوآپریٹو تربیت اور تعلیم کے اہم کام جاری رکھنے میں سہولت ہوگی اور تعاون کو مضبوط بنانے کے مشن کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ پہلے تربیتی کاموں کے لیے زیادہ تر فنڈز تربیت و ترقی فنڈ سے پورے کیے جاتے تھے، جو دراصل مرمت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ذمہ داریوں کے لیے مخصوص ہے۔ چونکہ یہ طویل مدت میں قابلِ عمل نہیں تھا، اس لیے نئے مد کے کھلنے سے تربیت و ترقی فنڈ پر دباؤ کم ہوگا اور یہ فنڈ اپنے اصل مقصد کے لیے دستیاب رہے گا۔
- این سی سی ٹی کے ہر ادارے کے لیے عمارت ذیلی کمیٹی کا قیام: ہر ادارے میں وقت پر عمارت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عمارت ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
- ٹریننگ ڈیولپمنٹ فنڈ/بلڈنگ فنڈ کا استعمال: مختلف اداروں کو ان کے ٹریننگ ڈیولپمنٹ فنڈ یا بلڈنگ فنڈ کے استعمال کی منظوری دی گئی ہے تاکہ عمارت کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت یا تزئین و آرائش کی جا سکے اور فکسڈ اثاثے جیسے دفتر کا سامان وغیرہ خریدے جا سکیں۔
- نئی بین الاقوامی ہوسٹل عمارت: ویکنتھ مہتا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کوآپریٹو مینجمنٹ میں موجودہ بنیادی ڈھانچے میں تین منزلہ بین الاقوامی ہوسٹل شامل کیا گیا ہے، جس میں 50 ٹوئن شیئرنگ رومز برائے شرکاء اور 3 وی آئی پی سوئٹس شامل ہیں۔ ہوسٹل میں کچن، ڈائننگ ہال، ریڈنگ روم، 50 افراد کی کلاس روم، ڈسکشن روم، جمنازیم اور آفس اسپیس بھی موجود ہیں۔ یہ عمارت وزارتِ تعاون، حکومتِ ہند سے موصول ہونے والے 30 کروڑ روپے کے کیپٹل گرانٹ سے تعمیر کی گئی ہے۔
- نیا کورس: ویکنتھ مہتا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کوآپریٹو مینجمنٹ نے تعلیمی سال 2025 کے لیے نیا پروگرام پی جی ڈی ایم – کوآپریشن شروع کیا ہے، جو اے آئی سی ٹی جی نئی دہلی سے منسلک ہے اور اس میں 30 طلبہ کی گنجائش ہے۔
- پائلٹ پروجیکٹ – پی اے سی ایس کے لیے جامع تربیت: چار ریاستوں کے چار اضلاع میں پی اے سی ایس کے ممبران، بورڈ آف ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسرز/سیکریٹریز کی تربیت کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا: اونا (ہماچل پردیش)، جوہڑپور (راجستھان)، سمبال پور (اوڈیشہ)، تھینی (تمل ناڑو)۔ تربیت میں موضوعات شامل تھے: کوآپریٹو کی تعریف اور فوائد، مذکورہ کوآپریٹو اہلکاروں کے کردار اور ذمہ داریاں، ماڈل بائے لاز اور کاروبار کی تنوع کے مواقع۔ اس پروجیکٹ کے تحت 4 ریاستوں میں 85,219 شرکاء جو 284 پی اے سی ایس سے تعلق رکھتے ہیں، کو تربیت دی گئی۔ اس کی وسیع تشہیر سوشل میڈیا پر کی گئی۔
- پی اے سی ایس کے لیے سی ایس سی پورٹل تربیتی پروگرام: این سی سی ٹی نے سی ایس سی ای-گورننس سروسز انڈیا لمیٹڈ کے تعاون سے ان پی اے سی ایس کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کیے جو سی ایس سی پورٹل پر شامل ہو چکے ہیں۔ تربیت کا مقصد سیکریٹریز/کمپیوٹر آپریٹرز کو 30,000 پی اے سی ایس کے لیے سی ایس سی پورٹل کی 300 خدمات کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں میں تنوع پیدا کرنے کی تربیت دینا تھا۔ اس مقصد کے لیے 648 پروگرامز منعقد کیے گئے اور 30,210پی اے سی ایس شرکاء کو 564 اضلاع میں 25 ریاستوں میں تربیت دی گئی۔ حال ہی میں وزارت کے سیکریٹری کی جانب سے ایک میٹنگ ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سی ایس سی، این سی سی ٹی کے تعاون سے، پہلے سے سی ایس سی پورٹل پر شامل 9,007 پی اے سی ایس کو فعال بنانے اور پی اے سی ایس15,548 کی آن-بورڈنگ کے لیے تربیت کے لیے ایک نیا تربیتی پروجیکٹ شروع کر سکتا ہے۔ اس اقدام پر بحث جاری ہے، پی اے سی ایس کی شناخت جاری ہے اور تربیتی پروگرامز کے دیگر طریقہ کار سی ایس سی کے مشورے سے طے کیے جا رہے ہیں۔
- نئی قائم شدہ کثیر المقاصد کوآپریٹو سوسائٹیز کے لیے تربیتی پروگرام: جولائی 2025 میں، این سی سی ٹی نے وزارت کی ہدایت پر نئے قائم شدہ ایم-پی اے سی ایس کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے۔ 20 جون 2025 تک، ملک میں مجموعی طور پر ایم پی سی ایس22,283 قائم ہو چکے ہیں (این سی ڈی پورٹل کے مطابق)، جن میں سے تمام کو تربیت کے لیے شامل کیا جا سکتا ہے۔
31 دسمبر 2025 تک: کل 222 تربیتی پروگرامز منعقد کیے گئے جن میں 10,038 شرکاء کو تربیت دی گئی۔
- پی ایم ایف بی وائی / دوبارہ تشکیل شدہ موسمی بنیاد پر فصل انشورنس اسکیم کے تحت صلاحیت سازی اور تربیتی پروگرامز: 20 جنوری، 2025 کو نیشنل کونسل فار کوآپریٹو ٹریننگ (این سی سی ٹی) اور محکمہ زراعت و کسان فلاح، وزارت زراعت و کسان فلاح، حکومتِ ہند، نئی دہلی کے فصل انشورنس ڈویژن کے درمیان ایک مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس مفاہمت نامے کا مقصد پی ایم ایف بی وائی / دوبارہ تشکیل شدہ موسمی بنیاد پر فصل انشورنس اسکیم کے تحت صلاحیت سازی اور علم کے انتظام کے فریم ورک کے لیے ایک وسیع تر ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔ اسی مناسبت سے، این سی سی ٹی نے پی اے سی ایس کے 10,000 شرکاء کو تربیت دینے اور 200 تربیتی پروگرام منعقد کرنے کے لیے وزارت زراعت و کسان فلاح کے سامنے ایک تجویز پیش کی ہے، جس پر اس وقت غور کیا جا رہا ہے۔ وزارت زراعت و کسان فلاح نے این سی سی ٹی کی تجویز کو مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے منظور کر لیا ہے۔
- علمی جریدے کا آغاز: ریکم، چندی گڑھ نے ’’سہکاری تحقیق – سماجی علوم کا کثیر الشعبہ جریدہ‘‘ کے عنوان سے دو بار سالانہ شائع ہونے والا ایک ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جریدہ شائع کیا ہے تاکہ تعاون اور سماجی علوم کے میدان میں تحقیق اور علم کی ترسیل کو فروغ دیا جا سکے۔ جریدے کا پہلا شمارہ اپریل، 2025 میں جاری کیا گیا۔ جریدے کا دوسرا شمارہ دسمبر، 2025 میں جاری ہوا۔
- پی جی ڈی ایم-اے بی ایم پروگرام کی بحالی: ریکم، چندی گڑھ نے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ان مینجمنٹ – ایگری بزنس مینجمنٹ (PGDM-ABM) کو بحال کرنے کی پہل کی ہے، جس کی منظوری اے آئی سی ٹی ای سے حاصل ہے۔ PGDM-ABM پروگرام کے پہلے بیچ کے آغاز کے لیے اشتہار، داخلہ وغیرہ کے عمل کا آغاز دسمبر، 2025 میں کیا گیا۔
- حال ہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ایم بی آئی، این سی سی ٹی کے تعاون سے، 300 نئے پی ایم بی جے کے کو اسٹور کوڈ کے ساتھ پی اے سی ایس کے ذریعے فعال کرنے کے لیے تربیتی منصوبہ شروع کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید کارروائی این سی سی ٹی کی سطح پر شروع کر دی گئی ہے۔
- کاروبار میں آسانی کے لیے معلوماتی ٹیکنالوجی کا استعمال:
- مرکزی رجسٹرار کے دفتر کی کمپیوٹرائزیشن: مرکزی رجسٹرار کے دفتر کو کمپیوٹرائز کیا گیا ہے تاکہ کثیر ریاستی تعاون تنظیموں کے لیے ایک ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے، جو درخواستوں اور سروس کے مطالبات کی بروقت کارروائی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
- ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تعاون تنظیموں کے رجسٹرار کے دفاتر کی کمپیوٹرائزیشن کی اسکیم: ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تعاون تنظیموں کے رجسٹرار کے دفاتر کو کمپیوٹرائز کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی منظوری چھٹے اکتوبر، 2023 کو دی گئی، جس کے لیے تین سالہ مدت کے لیے 94.59 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا۔ یہ منصوبہ وزارت کے تحت تعاون کو معلوماتی ٹیکنالوجی کے ذریعے مضبوط بنانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔
اس منصوبے کا مقصد تعاون تنظیموں کے لیے کاروبار میں آسانی کو بڑھانا اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تعاون تنظیموں اور رجسٹرار دفاتر کے درمیان شفاف، کاغذی کارروائی سے پاک تعامل کے لیے ایک ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہارڈویئر کی خریداری، سافٹ ویئر کی ترقی، دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کے لیے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت تیار کردہ سافٹ ویئر متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون ایکٹس کے مطابق ہوگا۔ مالی سال 2023-24، 2024-25، اور 2025-26 (20 جنوری 2026 تک) کے دوران 35 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنی تجاویز جمع کروائیں، اور 26.82 کروڑ روپے مرکزی حکومت کی حصہ داری کے طور پر جاری کیے گئے۔
- زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کی کمپیوٹرائزیشن: طویل مدتی تعاوناتی قرضے کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیلے 1,867 زرعی و دیہی ترقیاتی بینکوں کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کی حکومت نے منظوری دی ہے۔ متعلقہ بینک اس منصوبے کو نافذ کرے گا۔ اب تک 10 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تجاویز موصول اور منظور کی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، ہارڈویئر کی خریداری، ڈیجیٹائزیشن، اور سپورٹ سسٹم کے قیام کے لیے 10 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی سال 2023-24، 2024-25، اور 2025-26 میں مرکزی حکومت کی حصہ داری کے طور پر 10.11 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
- قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن کے اقدامات:
- قرض کی تقسیم میں اضافہ: قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن کی مالی معاونت کی تقسیم تقریباً چار گنا بڑھ کر مالی سال 2020-21 میں 24,733.20 کروڑ روپے سے مالی سال 2024-25 میں 95,182.84 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے چار سالوں کے دوران تقسیم میں سالانہ اوسط ترقی 40 فیصد سے زائد رہی۔ مالی سال 2025-26 میں 1,40,082 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی اور 15 جنوری 2026 تک 1,00,000 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
- فلوٹنگ شرح سود کا تعارف: قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن نے اپنے مالی نظام میں اصلاح کے لیے فلوٹنگ شرح سود متعارف کرائی، جس کے نتیجے میں مدت وار قرض کی شرح سود تقریباً 2 فیصد کم ہوئی۔ فلوٹنگ شرح سود کا مطلب یہ ہے کہ شرح سود مارکیٹ کے حالات اور دیگر مالی عوامل کے مطابق بدلتی رہتی ہے، جس سے قرض لینے والے کو کم شرح سود کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
- مختلف شرح کا نفاذ: کارپوریشن نے مختلف قرض دہندگان کو مختلف شرح سود دینے کے لیے طریقہ کار اپنایا، جس کے تحت قرض دہندگان کی مالی حیثیت اور ادائیگی کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قرض کی شرح مقرر کی جاتی ہے، تاکہ قرض دہندگان بہتر شرح پر مالی مدد حاصل کر سکیں۔
- مائیکرو اور چھوٹے کاروباروں، زرعی پیداوار کنندگان، اور پالتو جانوروں و ڈیری کے لیے ضمانتی فنڈ میں رجسٹریشن: اس اقدام سے تعاون تنظیموں کو بغیر ضمانت کے قرضے حاصل کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
- قومی ڈیری ترقیاتی بورڈ کے ساتھ مفاہمت نامہ: قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن اور قومی ڈیری ترقیاتی بورڈ نے ڈیری تعاون تنظیموں کی مالی معاونت، تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ادارے مل کر چھوٹے پیداواریوں کو مالی و تکنیکی مدد فراہم کریں گے، جس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور ڈیری سوسائٹیز مضبوط ہوں گی۔
- دیگر قرض دہندگان کے بڑے منصوبوں کی جانچ: قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن نے ان قرض دہندگان کے بڑے منصوبوں کی جانچ شروع کی جو متعلقہ مہارت نہیں رکھتے، جیسے کہ گجرات ریاستی تعاون بینک کے لیے تین ڈیری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ اور تشخیص کی گئی۔
- جغرافیائی دائرہ کار کی توسیع: قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن نے اپنے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے آندھرا پردیش کے وجےواڑہ میں نیا علاقائی دفتر اور جموں و کشمیر، لداخ، سکم، منی پور، میزورم، تریپورہ، اروناچل پردیش، میگھالیہ، اور ناگالینڈ میں 9 نئے ضمنی دفاتر قائم کیے۔
- نوجوان پیشہ ور افراد کی تقرری: مختلف شعبوں کے ماہر نوجوان پیشہ ور افراد کی تقرری کی گئی، جن میں چارٹرد اکاؤنٹنٹس، ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن، اور دیگر شامل ہیں، تاکہ کارپوریشن کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
- سہکار ٹیکسی کوآپریٹو لمیٹڈ (ملکی پہلی تعاون پر مبنی موبلٹی پلیٹ فارم): سہکار ٹیکسی کوآپریٹو لمیٹڈ ایک جدت انگیز، تعاون پر مبنی موبلٹی حل ہے، جو ڈرائیوروں کو بااختیار بناتا ہے اور عوام کو سستی اور قابل اعتماد نقل و حمل فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ سات دیگر اداروں کے ساتھ فروغ پایا ہے، جن میں زرعی اور خوراکی تعاون تنظیمیں شامل ہیں۔ اس منصوبے کا نام "بھارت ٹیکسی" رکھا گیا ہے، جو فروری 2026 میں شروع کیا جائے گا۔
- گرانٹ برائے امداد: کابینہ نے 31 جولائی 2025 کو قومی تعاوناتی ترقیاتی کارپوریشن کو 2,000 کروڑ روپے کی گرانٹ دی۔ اس سے کارپوریشن مارکیٹ سے مزید 20,000 کروڑ روپے حاصل کر سکے گا۔ یہ رقم ڈیری، پولٹری، مچھلی، شوگر، ٹیکسٹائل، خوراک کی پروسیسنگ، اسٹوریج اور کولڈ چین، مزدور تعاون تنظیمیں، خواتین تعاون تنظیمیں وغیرہ کے لیے طویل مدتی اور ورکنگ کیپیٹل قرضے فراہم کرنے میں استعمال کی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت مالی معاونت مناسب شرح سود پر فراہم کی جاتی ہے۔ 16 جنوری 2026 تک وزارت نے 375 کروڑ روپے فراہم کیے، جبکہ 5,700 کروڑ روپے سے زیادہ قرض تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
- تعاوناتی انٹرنز: 385 تعاوناتی انٹرنز بھرتی کیے جا رہے ہیں، جو تمام دیہی تعاوناتی بینکوں (ریاستی اور ضلع تعاوناتی بینکوں) کو کور کرتے ہیں۔ اسکیم کا مقصد تعاون تنظیموں کی مجموعی صلاحیت کو بڑھانا اور مقامی سطح پر ڈیجیٹل اور کاروباری مہارت کو فروغ دینا ہے۔ انٹرنز کو ماہانہ 25,000 روپے دیے جا رہے ہیں، جو تعاوناتی تعلیم فنڈ سے ادا کیے جاتے ہیں۔ 31 دسمبر 2025 تک 232 انٹرنز شامل ہو چکے ہیں۔
- قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس کی تخلیق
- نیا قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس برائے مستند اور تازہ ترین معلومات: ملک میں تعاون تنظیموں کے لیے ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے، جس میں ریاستی حکومتوں کی معاونت حاصل کی گئی ہے۔ اس کا مقصد تعاون سے متعلق پالیسی سازی اور پروگراموں/ اسکیموں کے نفاذ میں تمام متعلقہ فریقین کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اب تک اس ڈیٹا بیس میں تقریباً 8.4 لاکھ تعاون تنظیموں کا ڈیٹا شامل ہے، جو 30 مختلف شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں اور تقریباً 3.2 کروڑ ارکان پر محیط ہے۔
- تعاوناتی درجہ بندی کا فریم ورک: حکومت نے 24 جنوری 2025 کو تعاون تنظیموں کی کارکردگی کی جانچ اور درجہ بندی کے لیے تعاوناتی درجہ بندی کا فریم ورک شروع کیا۔ اس فریم ورک کے ذریعے ریاستی رجسٹرار دفتر تعاون تنظیموں کی کارکردگی کو اہم معیارات کی بنیاد پر جانچ سکتا ہے، جن میں آڈٹ کی تعمیل، عملی سرگرمیاں، مالی کارکردگی، بنیادی ڈھانچہ، اور شناختی معلومات شامل ہیں۔ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اس فریم ورک کے ذریعے تعاون تنظیموں کی درجہ بندی کر سکتے ہیں، ابتدا میں بارہ بڑے شعبوں میں، جن میں کھیت تعاون، ڈیری، ماہی گیری، شہری تعاوناتی بینک، ہاؤسنگ، قرض اور بچت، کھادی اور گاؤں کی صنعت، زرعی پروسیسنگ / صنعتی، ہنر مند مصنوعات، ہتھیار باندھنے والے، ٹیکسٹائل اور بُنائی، کثیر مقصدی اور شوگر شامل ہیں، اور یہ درجہ بندی ریاست، ضلع، اور بلاک سطح پر ڈیٹا بیس کے پورٹل کے ذریعے ممکن ہے۔ اس درجہ بندی کا مقصد تعاون تنظیموں کے درمیان شفافیت، اعتماد اور مسابقت کو بڑھانا اور ان کی مجموعی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
- ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ریاستی رجسٹرار کے پورٹل کو قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس کے پورٹل کے ساتھ مربوط کرنے کی سہولت: وزارت تعاون نے ریاستوں کے لیے ایک معیاری رابطہ پروگرام تیار کیا تاکہ ریاستی تعاون تنظیموں کا مکمل ڈیٹا قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس کے پورٹل سے اپنے متعلقہ رجسٹرار دفاتر کے پورٹل پر حاصل کیا جا سکے۔ اس کے لیے 27 مئی 2025 کو معیاری رابطہ پروگرام کی وضاحت اور ڈیٹا بیس کا خاکہ ریاستوں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔بعد ازاں، 22 ستمبر 2025 کو وزارت نے رجسٹرار دفاتر سے قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس کے پورٹل پر براہِ راست، ایونٹ پر مبنی ڈیٹا بھیجنے کے لیے متعلقہ دستاویز فراہم کی۔ مزید وضاحت کے لیے 14 نومبر 2025 کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک رہنمائی اور مکمل چیک لسٹ جاری کی گئی۔ انضمام کے منصوبے کے مطابق، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپنے اختتام پر معکوس رابطہ پروگرام تیار کرنا ہوگا اور رجسٹرار دفاتر کی مکمل کمپیوٹرائزیشن چیک لسٹ کے مطابق مکمل کرنی ہوگی تاکہ قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس کے پورٹل کے ساتھ کامیاب انضمام ممکن ہو سکے۔
20 جنوری 2026 تک ریاست راجستھان، چھتیس گڑھ، بہار، اور میزورم نے قومی تعاوناتی ڈیٹا بیس کے پورٹل کے ساتھ مکمل انضمام کر لیا ہے۔ یہ دو طرفہ انضمام تعاون تنظیموں کے ڈیٹا کی ہم آہنگی کو تمام پلیٹ فارمز پر یقینی بنائے گا۔
- پالیسی اور آگاہی
- قومی تعاون پالیسی: نئی قومی تعاون پالیسی کی تشکیل وزارت تعاون کے مقصد ’’تعاون سے خوشحالی‘‘ کو پورا کرنے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔ یہ پالیسی تعاون کے شعبے کی منظم اور جامع ترقی کے لیے ایک راہنما منصوبہ فراہم کرتی ہے۔ قومی تعاون پالیسی کو 24 جولائی 2025 کو معزز وزیر داخلہ و تعاون نے پیش کیا۔ اس میں چھ اسٹریٹجک ستون، سولہ مقاصد، اور 83 سفارشات شامل ہیں۔ تعاون پالیسی پر قومی سطح کی ہدایت کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کی سربراہی معزز وزیر تعاون کر رہے ہیں۔ مزید برآں، قومی سطح پر پالیسی کے نفاذ اور نگرانی کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کی سربراہی وزارت تعاون کے سکریٹری کر رہے ہیں۔
- بین الاقوامی تعاون سال – 2025 بھارت میں: اقوام متحدہ نے 2025 کو بین الاقوامی تعاون سال قرار دیا ہے تاکہ تعاون تنظیموں کے معاشی ترقی، سماجی شمولیت، اور پائیداری میں کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ وزارت تعاون نے تعاون کے شعبے کے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر ایک عملی منصوبہ تیار کیا، جس میں شفافیت، پالیسی اصلاحات، اور دیہی اقتصادی تبدیلی پر زور دیا گیا، خاص طور پر کھیت تعاون تنظیموں کے ذریعے۔ اس عملی منصوبے کا آغاز معزز وزیر داخلہ و تعاون نے 24 جنوری 2025 کو کیا۔ منصوبہ بندی اور نفاذ کے لیے وزارت نے بین الاقوامی تعاون سال کی قومی تعاون کمیٹی، بین الاقوامی تعاون سال کی قومی عمل درآمد کمیٹی، اور بین الاقوامی تعاون سال کی ریاستی اعلیٰ کمیٹیاں قائم کیں۔ سال بھر میں متعدد سرگرمیاں منعقد کی گئیں تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو بڑھایا جا سکے، عملی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے، تعاون تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے، نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت بڑھائی جا سکے، اور نمونہ آئین کے ذریعے تعاون تنظیموں کی گورننس مضبوط کی جا سکے۔ ان سرگرمیوں میں مختلف ورکشاپس، درخت لگانے کی مہمات، تربیتی پروگرام، صلاحیت سازی کے سیشن، نمائشیں، کھیل کے مقابلے، پیدل مہمات، اور آگاہی مہمات شامل تھیں، جو انفرادی تعاون تنظیموں، ضلع، ریاست اور قومی سطح پر منعقد کی گئیں۔ بین الاقوامی تعاون سال 2025 کے دوران وسیع پیمانے پر آگاہی اور عوامی مہمات بھی چلائی گئیں، جس سے بین الاقوامی تعاون سال کے لوگو کی ملک گیر شناخت یقینی بنائی گئی، جیسے کہ ریلوے کے ای-ٹکٹ، تعاون مصنوعات کی پیکنگ، سرکاری ویب سائٹس اور سرکاری مراسلات کے ذریعے۔ اہم قومی سطح کے اقدامات میں 30 جون 2025 کو تعاون کے وزراء کی قومی کانفرنس اور 6 جولائی 2025 کو وزارت تعاون کے چوتھے یوم تاسیس کے موقع پر انند، گجرات میں ایک قومی تقریب شامل ہیں۔
- وزارت کی میڈیا پہنچ کو مضبوط کرنا: گزشتہ چار سالوں میں وزارت تعاون نے اپنے ڈیجیٹل اور میڈیا پہنچ کو نمایاں طور پر مضبوط کیا تاکہ تعاون کے شعبے کے بارے میں عوامی شمولیت اور آگاہی میں اضافہ ہو۔ روایتی اور ڈیجیٹل دونوں پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزارت نے مستقل بنیادوں پر پریس ریلیزز اور مضامین شائع کیے، اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی بڑھائی۔ تمام قومی سطح کے پروگرام، جن کی صدارت معزز وزیر اعظم اور معزز وزیر داخلہ و تعاون کرتے ہیں، وزارت کے ویڈیو چینل پر براہِ راست نشر کیے جاتے ہیں۔ پریس ریلیزز، خبریں، اور کامیابیاں باقاعدگی سے سرکاری ویب سائٹ پر شیئر کی جاتی ہیں، جس تک کئی زبانوں میں رسائی ممکن ہے۔ آج وزارت کا مشترکہ پیروکاروں/سبسکرائبرز کی تعداد مختلف پلیٹ فارمز جیسے ٹوئیٹر، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، لنکڈان، اور واٹس ایپ پر 6 لاکھ سے زائد ہے، جبکہ یوٹیوب پر کل ویڈیوز کے دیکھنے کی تعداد 1.46 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزارت تعاون یوٹیوب اور ویب سائٹ کی مصروفیت میں تمام وزارتوں میں ٹاپ دس میں شامل ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، وزارت ریاستی حکومتوں، تعاون تنظیموں کے رجسٹراروں، اور قومی تعاون فدریشنز کو فعال طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے وزارت کی پوسٹس اور مواد کو شیئر کریں، تاکہ تعاون کے ماحولیاتی نظام میں وسیع اور مربوط مواصلاتی پہنچ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایک مخصوص پورٹل بھی 24 دسمبر 2025 کو قائم کیا گیا، جو بین الاقوامی تعاون سال کی سرگرمیوں اور وزارت اور اس کے متعلقہ فریقین کی میڈیا سرگرمیوں کا ڈیٹا محفوظ کرتا ہے۔
- ماہانہ اشاعتوں کے ذریعے تعاون کی آگاہی کو فروغ دینا: تعاون کے شعبے میں رسائی، آگاہی، اور صلاحیت سازی کو بڑھانے کے لیے وزارت تعاون دو ماہانہ رسالے شائع کر رہی ہے—’’سہکار اُدھ‘‘ اور ’’سہکار جرگن‘‘۔ یہ رسالے اپریل 2023 سے شائع ہو رہے ہیں۔ یہ رسالے ہندی، اردو اور 11 علاقائی زبانوں میں شائع کیے جاتے ہیں اور وزارت اور تعاون تحریک کی اہم پالیسیوں، اسکیموں، اقدامات اور کامیابیوں کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ سہکار اُدھ تقریباً 3 لاکھ نسخے ماہانہ شائع کرتا ہے، جبکہ سہکار جگرن کی ماہانہ اشاعت تقریباً 2.75 لاکھ نسخے ہے۔ یہ رسالے تعاون کے اراکین کو بروقت، متعلقہ اور متاثر کن معلومات فراہم کر کے ان کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔
- ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز
- کثیر ریاستی تعاون تنظیمیں (ترمیمی) ایکٹ، 2023: کثیر ریاستی تعاون تنظیمیں ایکٹ، 2002 میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ گورننس کو مضبوط بنایا جا سکے، شفافیت میں اضافہ ہو، جوابدہی بڑھائی جا سکے، انتخابی عمل میں اصلاحات کی جا سکیں، اور 97ویں آئینی ترمیم کے دفعات کو کثیر ریاستی تعاون تنظیموں میں شامل کیا جا سکے۔
- تعاوناتی آفس بمین: کثیر ریاستی تعاون تنظیمیں ایکٹ، 2002 میں ترمیم کے بعد، تعاوناتی آفس بمین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ دفتر مکمل طور پر فعال ہے اور کثیر ریاستی تعاون تنظیموں کے اراکین کی جانب سے جمع کردہ رقم، تعاون تنظیموں کے منصفانہ فوائد یا کسی بھی ایسے مسئلے سے متعلق شکایات اور اپیلوں کو دیکھتا ہے جو متعلقہ رکن کے انفرادی حقوق کو متاثر کرتا ہو۔
- تعاوناتی انتخابی اتھارٹی: کثیر ریاستی تعاون تنظیمیں ایکٹ، 2002 میں ترمیم کے بعد، تعاوناتی انتخابی اتھارٹی قائم کی گئی ہے تاکہ گورننس اور جوابدہی کو مضبوط کیا جا سکے اور تمام کثیر ریاستی تعاون تنظیموں میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جا سکیں۔ 31 دسمبر 2025 تک 222 سے زائد تنظیموں میں انتخابات کامیابی سے منعقد کیے جا چکے ہیں۔
- تعاون تنظیموں کا سرکاری ای-مارکیٹ پلیٹ فارم پر خریدار کے طور پر اندراج: حکومت نے تعاون تنظیموں کو سرکاری ای-مارکیٹ پلیٹ فارم پر خریدار کے طور پر اندراج کی اجازت دی ہے، جس سے وہ 102.5 لاکھ سے زائد فروشندگان سے اشیاء اور خدمات کی خریداری کر سکتے ہیں، تاکہ اقتصادی خریداری اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اب تک 727 تعاون تنظیمیں خریدار کے طور پر اس پلیٹ فارم پر شامل ہو چکی ہیں۔
- صحیح سرمایہ کاروں کو رقم کی واپسی – سہارا گروپ کے تعاون تنظیمیں: صحیح جمع کنندگان کو شفاف طریقے سے ادائیگی کرنے کے لیے ایک پورٹل قائم کیا گیا ہے۔ شناخت اور جمع شدہ رقم کے ثبوت جمع کروانے کے بعد ادائیگی شروع ہو چکی ہے۔ اب تک 39,28,648 درخواست دہندگان کو 8,340.75 کروڑ روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔
- دیگر اقدامات
- سویگی انسٹامارٹ کے فوری کاروباری پلیٹ فارم کے ذریعے تعاوناتی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانا: وزارت تعاون نے 25 اپریل 2025 کو سویگی لمیٹڈ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تاکہ تعاوناتی مصنوعات کے ڈیجیٹل اور مارکیٹ انضمام کو بہتر بنایا جا سکے، پالیسی مباحثوں کو فروغ دیا جا سکے اور تعاوناتی شعبے میں صارفین کی شمولیت کو بڑھایا جا سکے، جس کا مقصد بھارتی تعاوناتی شعبے کو فروغ دینا اور "سہکار سے سمردھی" کے ویژن کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد وزارت تعاون اور سویگی کے درمیان ایک اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنا ہے تاکہ خصوصاً دودھ اور نامیاتی شعبے میں تعاوناتی مصنوعات کی ڈیجیٹل انضمام اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے اور تعاوناتی اداروں کی صلاحیت سازی میں معاونت فراہم کی جا سکے، جیسے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، لاجسٹکس اور صارف ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ اس مفاہمتی یادداشت کا دائرہ کار درج ذیل امور پر مشتمل ہے۔
- سویگی وزارت تعاون کے اشتراک سے بھارت میں تعاوناتی تحریک/تنظیموں/مصنوعات کے بارے میں آگاہی مہم چلائے گا۔
- تعاوناتی دودھ کی مصنوعات کو پلیٹ فارم پر شامل کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور سویگی کے انسٹامارٹ پلیٹ فارم کے ذریعے تعاوناتی مصنوعات کے لیے ترجیحی رسائی کی حمایت فراہم کی جائے گی۔
- سویگی، وزارت تعاون کے تعاون سے، تعاوناتی برانڈز کی مارکیٹنگ، پروموشن، صارف ٹیکنالوجی اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں معاونت فراہم کرے گا۔
- سویگی اپنے پلیٹ فارم پر تعاوناتی مصنوعات کے لیے ایک علیحدہ زمرہ تیار کرے گا، جس میں ایسے برانڈز پر توجہ دی جائے گی جو تعاوناتی تنظیموں کے ذریعے فروغ پاتے ہیں، جیسے کہ نامیاتی مصنوعات، دودھ کی مصنوعات، دلیہ جات، دستکاری وغیرہ۔
- یہ اقدام ڈیجیٹل رسائی کو بڑھائے گا، پائیدار ترقی کے مواقع پیدا کرے گا، ڈیجیٹل معیشت میں تعاوناتی اداروں کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرے گا اور باہمی متفقہ منصوبوں کے ذریعے تعاوناتی اداروں کی صلاحیت سازی کرے گا۔
- وزارت تعاون شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اور وقتبند طریقہ کار پر پُرعزم ہے۔ مالی سال 2024-2025 کے دوران وزارت تعاون نے مرکزی عوامی شکایات ازالہ اور نگرانی نظام (سی پی جی آر اے ایم ایس) پورٹل کے ذریعے موصول ہونے والی 33,821 سے زیادہ شکایات کو نمٹایا، جس میں اوسطاً سب سے کم بند ہونے کا وقت صرف 2 دن رہا۔
- وزارت نے کامیابی کے ساتھ تعاوناتی تعلیماتی فنڈ (سی ای ایف) کا اکاؤنٹ این سی یو آئی سے وزارت تعاون منتقل کیا، بعد ازاں ملٹی-اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) ایکٹ، 2023 کے نفاذ کے بعد اس کے انتظام اور استعمال کے لیے ایک مخصوص فریم ورک قائم کیا۔
- دودھ کے شعبے میں پائیداری اور سرکولیریٹی: وائٹ ریولوشن 2.0 میں ایک اہم مقصد دودھ کے شعبے میں پائیداری اور سرکولیریٹی کو فروغ دینا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکمت عملی یہ ہوگی کہ دودھ کی پیداوار کی پوری زنجیر میں پائیداری اور سرکولیریٹی کو شامل کیا جائے، موسمیاتی ماہر طریقوں، وسائل کے مؤثر استعمال، اور قابل تجدید حل کو فروغ دے کر ایک کم-اخراج، آمدنی پیدا کرنے والا ماحولیاتی نظام بنایا جائے۔ دودھ کے شعبے میں پائیداری اور سرکولیریٹی پر ایک ورکشاپ کا افتتاح محترم وزیر داخلہ و تعاون نے 03.03.2025 کو کیا۔ دودھ کے شعبے میں پائیداری اور سرکولیریٹی کی کارروائی "کچرے سے کچن" کے ویژن کے تحت کی جا رہی ہے۔
- دودھ کے شعبے میں پائیداری اور سرکولیریٹی کے تحت، ایک کثیر ریاستی تعاوناتی سوسائٹی، جس کا نام کوآپریٹو ان پٹس اینڈ سروسز ڈیلیوری ملٹی-اسٹیٹ لمیٹڈ ہے، 31.12.2025 کو رجسٹر کی گئی۔ اس سوسائٹی کا مقصد دودھ دینے والے جانوروں کی پیداوار میں اضافہ اور دودھ دینے والے کسانوں کے منافع کو بہتر بنانا ہے، تاکہ وہ بروقت اور معیاری وسائل اور ضروری معاون خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
- اسی شعبے میں ایک اور کثیر ریاستی تعاوناتی سوسائٹی، جس کا نام گومے سہکاری سمیتی ملٹی-اسٹیٹ لمیٹڈ ہے، 31.12.2025 کو رجسٹر کی گئی۔ اس سوسائٹی کا مقصد گوبر کی مینجمنٹ کے طریقے فروغ دینا ہے، جو دیہی کمیونٹیز کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع پیدا کریں، جبکہ قابل تجدید توانائی کے اہداف اور نامیاتی کھاد کے پائیدار استعمال کی حمایت بھی کریں۔
- دودھ کے شعبے میں پائیداری اور سرکولیریٹی کی پہل کے تحت، گرے ہوئے مویشیوں اور بھینسوں کی کھال، ہڈیاں اور سینگ کے انتظام کے لیے ایک نئی کثیر ریاستی تعاوناتی سوسائٹی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
- سردار پٹیل کوآپریٹو ڈیری فیڈریشن لمیٹڈ (ایس پی سی ڈی ایف) کا قیام: ایک نئی کثیر ریاستی تعاوناتی سوسائٹی، سردار پٹیل کوآپریٹو ڈیری فیڈریشن لمیٹڈ، محترم وزیر داخلہ و تعاون نے 06.07.2025 کو 200 کروڑ روپے کے ابتدائی سرمایہ کے ساتھ شروع کی۔ ایس پی سی ڈی ایف کے ذریعے 20 لاکھ سے زائد دودھ دینے والے کسان 20,000 سے زائد دیہاتوں میں 20 ریاستوں میں منظم تعاوناتی ڈھانچے کے براہِ راست رکن بن سکیں گے۔ ایس پی سی ڈی ایف کے ذریعے کسانوں کو یقینی دودھ کی خریداری، بہتر ویٹرنری دیکھ بھال، بہتر مویشیوں کی غذائیت اور جدید ڈیری طریقوں کے فوائد حاصل ہوں گے۔ مضبوط کولڈ چین انفراسٹرکچر، چِلنگ سینٹرز اور مؤثر پروسیسنگ سہولیات میں سرمایہ کاری سے معیار کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور محفوظ و صحت مند دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جائے گا۔
- کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز آرگنائزیشن ملٹی-اسٹیٹ لمیٹڈ برائے ایم پی اوز: ایک نئی کثیر ریاستی تعاوناتی سوسائٹی، جس کا نام کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز آرگنائزیشن ملٹی-اسٹیٹ لمیٹڈ ہے، 31.12.2025 کو رجسٹر کی گئی۔ اس سوسائٹی کا مقصد موجودہ دودھ کے پولنگ پوائنٹس کو 9 ریاستوں (آندھرا پردیش، بہار، گجرات، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش اور مغربی بنگال) میں کثیر مقصدی دیہاتی تعاوناتی سوسائٹیوں کے تحت مربوط کرنا ہے (تقریباً 20,000 وی سی ایس)۔
- سی پی ایس ایز میں پی ایس ای بی کے بورڈ سطح کے عہدوں کے لیے تعاوناتی فیڈریشنز کی شمولیت: وزارت کے مداخلت سے، قومی اور ریاستی سطح کی تعاوناتی فیڈریشنز کے درخواست دہندگان کو اب "پرائیویٹ کیٹیگری" کے تحت مرکزی عوامی شعبے کے اداروں (سی پی ایس ایز) کے بورڈ سطح کے عہدوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ مقررہ اہلیت کی شرائط پوری ہوں، جس سے انہیں دیگر کاروباری اداروں کے درخواست دہندگان کے برابر سلوک حاصل ہو۔
- تعاوناتی اداروں کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون: کابینہ کی منظوری کے بعد، بھارت کی حکومت کی وزارت تعاون اور زامبیا کی حکومت کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ترقی کی وزارت (ایم ای ایس ایم ای ڈی) کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ ایک اور مفاہمتی یادداشت بھارت کی حکومت کی وزارت تعاون اور منگولیا کی حکومت کے درمیان تعاوناتی اصولوں کے فروغ اور متعلقہ ممالک کی تعاوناتی تنظیموں کے درمیان تعاون کے لیے دستخط کی گئی۔ یہ اقدامات دوستانہ اور باہمی مفید تعلقات کو فروغ دینے اور تعاوناتی اداروں کے درمیان تجارتی اتحاد کے قیام کے لیے ضروری سہولیات اور میکانزم فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
یہ معلومات وزیر داخلہ و تعاون جناب امت شاہ نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-1667
(ریلیز آئی ڈی: 2223542)
وزیٹر کاؤنٹر : 5