ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: صاف ستھری اور کم کاربن توانائی کے لیے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 6:24PM by PIB Delhi
بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز نے توانائی کے زیادہ استعمال والے شعبوں کے لیے کیپٹو پاور پلانٹس کے طور پر تعیناتی، ریٹائر ہونے والے حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی گھروں کی ازسرِنو فعالیت، اور ایسے دور دراز علاقوں میں جہاں گرڈ کنیکٹیویٹی موجود نہیں، چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی ڈیزائننگ، تیاری اور قیام کا کام شروع کیا ہے۔ نیوکلیائی توانائی مشن کے تحت 2033 تک مقامی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی تحقیق و ترقی کے لیے بھی فنڈ مختص کیے گئے ہیں۔
محکمۂ جوہری توانائی نے حال ہی میں درج ذیل چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے ڈیزائن اور ترقی کا آغاز کیا ہے:
- 220 میگاواٹ الیکٹرک بھارت اسمال ماڈیولر ری ایکٹر (بی ایس ایم آر-200)، جس کا لیڈ(سیسہ) یونٹ مہاراشٹر کے تاراپور ایٹمی بجلی گھر کے مقام پر مجوزہ ہے۔
- 55 میگاواٹ الیکٹرک اسمال ماڈیولر ری ایکٹر (ایس ایم آر-55)، جس کا سیسہ یونٹ بھی تاراپور میں تعمیر کیے جانے کی تجویز ہے۔
مزید برآں، ہائیڈروجن کی تیاری کے لیے 5 میگاواٹ تھرمل تک صلاحیت کے حامل بہت زیادہ درجہٗحرارت والے گیس کولڈ ری ایکٹر کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے، جسے آندھرا پردیش کے وِزاگ میں بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز کے مقام پر تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔
حکومتِ ہند نے نیوکلیائی توانائی مشن کے تحت چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی تحقیق، ڈیزائن، ترقی اور تعیناتی کے لیے فنڈ فراہم کیے ہیں۔ اس سلسلے میں بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز نے ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے لیے محکمۂ جوہری توانائی کے مقامات پر سیسہ یونٹس کی تعمیر پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ڈیزائن اور ترقی کا عمل شروع کیا ہے۔ بی ایس ایم آر-200 کے مظاہراتی یونٹ کی متوقع لاگت تقریباً 27 کروڑ روپے فی میگاواٹ الیکٹرک ہے۔ ٹیکنالوجی کے کامیاب مظاہرے کے بعد ڈیزائن کے معیاری ہونے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے باعث لاگت میں کمی متوقع ہے۔
ایٹمی توانائی ضابطہ جاتی بورڈ کو ایٹمی توانائی ایکٹ 1962 کی دفعہ 27 کے تحت قانونی حکم کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے تاکہ دفعات 16، 17 اور 18 کے تحت حفاظتی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو نافذ کیا جا سکے۔ یہ ادارہ جوہری بجلی گھروں کی حفاظتی نگرانی کا ذمہ دار ہے، جو لائسنسنگ، حفاظتی جائزے اور باقاعدہ معائنوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے۔ بورڈ کو حفاظتی ضابطے، معیارات اور رہنما اصول مرتب کرنے اور ان پر عمل درآمد کرانے کا اختیار حاصل ہے۔ اس نے جوہری اور تابکاری حفاظت کے ایسے تقاضے وضع کیے ہیں جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معیار اور عالمی بہترین طریقوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔
بھارت میں مختلف اقسام کے جوہری بجلی گھر ایٹمی توانائی ریگولیٹری بورڈ کے ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن، تعمیر، عمل آوری اور آپریشن کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ بورڈ سائٹنگ، تعمیر، عمل آوری، آپریشن اور ڈی کمیشننگ کے تمام مراحل میں حفاظتی جائزہ لیتا ہے۔ سائٹنگ، تعمیر اور کمیشننگ کے مراحل میں اطمینان بخش جائزے کے بعد بورڈ جوہری بجلی گھر کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے لیے کام کرنے کا لائسنس جاری کرتا ہے۔ اس مدت کے دوران حفاظتی کارکردگی کی نگرانی ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق باقاعدہ جائزوں اور معائنوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ہر جوہری بجلی گھر کو ضابطہ جاتی تقاضوں کے تحت ہر دس سال بعد جامع وقفے وقفے سے حفاظتی جائزے سے گزرنا لازمی ہے۔ اس جائزے کے دوران پلانٹ کی عمر رسیدگی کے اثرات، تکنیکی تبدیلیاں، آپریشنل تجربات اور موجودہ حفاظتی معیار سے موازنہ کرتے ہوئے ضروری حفاظتی تجدید کاری کی نشاندہی اور عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
جوہری بجلی گھروں کی لائسنسنگ کے لیے ایٹمی توانائی ضابطہ جاتی بورڈ کے حفاظتی اور ضابطہ جاتی تقاضے زیادہ تر ٹیکنالوجی نیوٹرل ہیں۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے میدان میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے پیش نظر بورڈ نے اپنے موجودہ ضابطہ جاتی فریم ورک کا جائزہ لیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہی فریم ورک جدید ری ایکٹرز جیسے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز پر بھی عمومی طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے، البتہ چند مخصوص تکنیکی پہلوؤں کے لیے تفصیلی سائٹ اور ڈیزائن کی معلومات موصول ہونے پر مزید جائزہ لیا جائے گا۔ بورڈ بین الاقوامی فورمز میں بھی شرکت کرتا ہے تاکہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے ضابطہ جاتی تقاضوں میں ہونے والی عالمی پیش رفت سے باخبر رہ سکے اور ضرورت کے مطابق انہیں اپنایا جا سکے۔
یہ معلومات وزیرِ اعظم کے دفتر کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 4 فروری 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1662 )
(ریلیز آئی ڈی: 2223409)
وزیٹر کاؤنٹر : 3