ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: گھریلو جوہری توانائی کی پیداوار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 5:42PM by PIB Delhi
جوہری توانائی ایک صاف ستھرا اور ماحول دوست، بنیادی بوجھ (بیس لوڈ) فراہم کرنے والا ذریعۂ بجلی ہے جو چوبیس گھنٹے دستیاب رہتا ہے، اور ملک کی طویل مدتی توانائی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ جوہری توانائی کی توسیع سے حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم ہونے اور 2070 تک بالکل صفر کاربن اخراج کے ہدف سے متعلق بھارت کے عزم کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ حکومت نے یونین بجٹ 2025–26 میں اعلان کردہ نیوکلیئر توانائی مشن کے تحت توانائی کے شعبے میں خود انحصاری اور توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے 2047 تک 100 گیگا واٹ الیکٹرک جوہری بجلی پیداوار کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
خود انحصاری کے فروغ اور پائیدار انداز میں طویل مدتی توانائی کو یقینی بنانے کی حمایت کے لیے مقامی تین مرحلہ جاتی جوہری توانائی پروگرام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ جوہری توانائی کے لائف سائیکل اخراج قابلِ تجدید ذرائع جیسے آبی اور ہوائی توانائی کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔
سال 2013-14 کے بعد نصب شدہ جوہری بجلی کی صلاحیت 4780 میگاواٹ سے بڑھ کر موجودہ وقت میں 8780 میگاواٹ آر اے پی ایس-1 کے 100 میگاواٹ کے بغیر ہو چکی ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر 13600 میگاواٹ بشمول پی ایف بی آرکی صلاحیت مختلف مراحل میں زیرِ عمل ہے، جسے مرحلہ وار 2031-32 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
2047 تک 100 گیگا واٹ کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے نیوکلیئر توانائی مشن کے تحت مقامی طور پر تیار کردہ 700 میگاواٹ پی ایچ ڈبلیو آر ری ایکٹروں کے دو نئے فلیٹ، ہر ایک میں 10 ری ایکٹر، اور 500 میگاواٹ کے دو فاسٹ بریڈر ری ایکٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تمام ایف بی آر اور پی ایچ ڈبلیو آر فلیٹ کے کچھ حصے مقامی ایندھن استعمال کریں گے۔
اس کے علاوہ بارک نے توانائی کے زیادہ استعمال والے شعبوں کے لیے کیپٹو پاور پلانٹس کے طور پر نصب کیے جانے کے قابل اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز کے ڈیزائن، تیاری اور قیام پر کام شروع کیا ہے۔ نیوکلیئر توانائی مشن کے تحت 2033 تک مقامی SMRs کی تحقیق و ترقی کے لیے بھی فنڈ مختص کیے گئے ہیں۔
محکمۂ جوہری توانائی اور وزارتِ بجلی نے 2047 تک تقریباً 100 گیگا واٹ جوہری بجلی صلاحیت کے ہدف کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے۔ فی الحال ہریانہ کے سونی پت لوک سبھا حلقے میں کسی جوہری بجلی گھر کے قیام کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ تاہم ہریانہ کے گورکھپور میں 700 میگاواٹ کے دو یونٹس (جی ایچ اے وی پی-1 اور 2) زیرِ تعمیر ہیں جبکہ مزید دو یونٹس (جی ایچ اے وی پی-3 اور 4) مختلف مراحل میں ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں تحریری جواب کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے فراہم کی۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1658 )
(ریلیز آئی ڈی: 2223382)
وزیٹر کاؤنٹر : 4