ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

درآمد شدہ اے پی آئیز پر بھارت کا انحصار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 FEB 2026 2:49PM by PIB Delhi

مالی سال 25-2024 میں ایچ ایس این (ہارمونائزڈ سسٹم آف نومنکلیچر)پر مبنی درآمدی اعداد و شمار کے مطابق، بھارت نے 200 اقسام کے اے پی آئیز، بلک ڈرگز اور ڈرگ انٹرمیڈیٹس تقریباً 4.35 ارب امریکی ڈالر مالیت کے درآمد کیے۔ ان درآمدات میں چین کا حصہ تقریباً 73.7 فیصد رہا۔ زیادہ درآمدی انحصار رکھنے والے بڑے ممالک کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔زیادہ درآمدی انحصار رکھنے والے  علاج کے شعبوں میں اینٹی بایوٹکس، اینٹی فنگل، اینٹی ایموبک، معدے کے امراض، ذیابیطس کے خلاف ادویات، اینڈوکرائن اور ہارمونل امراض، قلبی امراض، آنکولوجی، خواتین میں بانجھ پن، مانع حمل ادویات، اعصابی امراض/نشہ آور اشیاء کے استعمال سے متعلق امراض، اور ضروری امینو ایسڈ کی کمی شامل ہیں۔

جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث اے پی آئیز کی درآمد سے متعلق ممکنہ خطرات میں واحد ذریعہ پر انحصار، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور استحصالی قیمتوں کا تعین شامل ہیں۔ اس طرح کی واحد ذریعہ پر مبنی کمزوریاں خود انحصاری اور دواسازی کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتی ہیں، جیسا کہ کووڈ-19 کے دوران تجربہ کیا گیا۔

 

ضمیمہ

درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے والے بڑے ماخذ ممالک کی فہرست:

 

نمبرشمار

بلک ادویات اور فارماسیوٹیکل انٹرمیڈیٹس کے لیے بیرون ملک سے درآمدات

قدر (ملین ڈالر میں)

حصہ(فیصد)

1

چین

3,204.67

73.71

2

یورپی یونین

593.13

13.64

3

سنگاپور

108.27

2.49

4

ریاست ہائے متحدہ امریکہ

85.18

1.96

5

جاپان

78.97

1.82

6

سوئٹزرلینڈ

44.67

1.03

7

میکسیکو

34.79

0.80

8

برطانیہ

33.25

0.76

9

ہانگ کانگ

22.99

0.53

10

ملیشیا

22.37

0.51

11

دوسرے ممالک

119.47

2.75

 

کل

4,347.75

100.00

 

ماخذ: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشیل انٹیلی جنس اور شماریات(ڈی جی سی آئی ایس )

یہ جانکاری کیمیکل اور کھاد کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب دی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ع ح۔ت ا

U-1509


(ریلیز آئی ڈی: 2222629) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी