شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پیمانہ کا نفاذ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 FEB 2026 3:22PM by PIB Delhi

آج راجیہ سبھا میں وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، وزارتِ منصوبہ بندی کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ ثقافت کے وزیرِ مملکت، جناب راؤ اندر جیت سنگھ نے  یہ معلومات فراہم کیں کہ وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ 150 کروڑ روپے یا اس سے زائد لاگت کے جاری مرکزی شعبہ جاتی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی کرے۔ اس مقصد کے لیے (ایم او ایس پی آئی)نے ایک نیا ویب پر مبنی مانیٹرنگ نظام پیمانہ (پی اے آئی ایم اے این اے) یعنی پروجیکٹ اسسمنٹ انفراسٹرکچر مانیٹرنگ اینڈ اینالیٹکس فار نیشن بلڈنگ تیار کیا ہے، جس کا باضابطہ اجرا 25 ستمبر 2025 کو کیا گیا۔ یہ نظام سابقہ او سی ایم ایس 2006 (آن لائن کمپیوٹرائزڈ مانیٹرنگ سسٹم) کی جگہ متعارف کرایا گیا ہے۔’’ون ڈیٹا، ون انٹری‘‘ کے اصول کے تحت، پیمانہ پورٹل کو محکمہ برائے فروغِ صنعت و اندرونی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی ) کے آئی پی ایم پی (انٹیگریٹڈ پروجیکٹ مانیٹرنگ پورٹل) کے ساتھ ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیسز (اے پی آئیز )کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی وزارتوں، محکموں اور منصوبہ نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے رپورٹ کردہ ڈیٹا خودکار طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اس کے مطابق ، پی آئی ایم اے این اے پورٹل کے ذریعے ویب سے تیار کردہ فلیش رپورٹ جولائی 2025 سے شائع کی جارہی ہے اور یہ https://ipm.mospi.gov.in/ReportPage پر دستیاب ہے ۔

دسمبر 2025 تک، مرکزی شعبہ جاتی بنیادی ڈھانچے کے وہ منصوبے جن کی لاگت 150 کروڑ روپے یا اس سے زائد ہے (اور جن میں کسی نہ کسی صورت میں مرکزی معاونت شامل ہے یا جو مرکزی وزارتوں/محکموں کی نگرانی میں ہیں)، 17 وزارتوں اور محکموں میں تقسیم ہیں۔ ان میں وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں، وزارتِ توانائی، وزارتِ شہری ہوا بازی، وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس، محکمۂ ٹیلی مواصلات، وزارتِ کوئلہ، وزارتِ ریلوے، وزارتِ فولاد، محکمۂ آبی وسائل، دریائی ترقی و گنگا کی بحالی، وزارتِ کانکنی، وزارتِ رہائش و شہری امور، وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گذرگاہیں، محکمۂ اعلیٰ تعلیم، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، اور محکمۂ فروغِ صنعت و اندرونی تجارت شامل ہیں۔اس کے علاوہ، محکمۂ کھیل اور وزارتِ محنت و روزگار کو حال ہی میں اس نظام میں شامل کیا گیا ہے۔

دسمبر 2025 تک،  پیمانہ پورٹل نے  ملک بھر میں جاری 1,392 منصوبوں کی صورتحال کا احاطہ کیا ہے، جو 17 مرکزی وزارتوں/محکموں کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی اصل تخمینہ لاگت 29.68 لاکھ کروڑ روپے ہے، جبکہ اب تک مجموعی خرچ 19.01 لاکھ کروڑ روپے ہو چکا ہے۔ متعلقہ لائن وزارتیں، محکمے اور منصوبہ نافذ کرنے والی ایجنسیاں منصوبوں کی پیش رفت کی تفصیلات باقاعدگی سے آئی پی ایم پیپر اپ ڈیٹ کرتی ہیں، جو اے پی آئیز کے ذریعے مزید تجزیے اور رپورٹ سازی کے لیے خودکار طور پر پیمانہ میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ اس انضمام کے نتیجے میں دستی اندراج میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اور وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں، وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس اور وزارتِ کوئلہ سے متعلق تقریباً 60 فیصد منصوبوں کی معلومات پیمانہ پر خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔

یہ پورٹل قومی سطح پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق ڈیٹا کے لیے ایک مرکزی ذخیرہ فراہم کرتا ہے اور ون-کلک ویب پر مبنی تجزیاتی رپورٹس کی تیاری کو ممکن بناتا ہے، جس سے ڈیٹا کی درستگی اور عملی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، رپورٹس میں بہتری، ان پٹ فارمز کو سادہ بنانے، اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے لیے جدید تجزیاتی سہولیات متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔ اضافی شراکت داروں اور منصوبوں کو نظام میں شامل کرنے کی مسلسل کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، جن کے نتیجے میں آئندہ منصوبوں کی تعداد میں اضافے کی توقع ہے۔ ماہانہ جائزہ اجلاسوں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے شراکت داروں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ، شواہد پر مبنی نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

 

*****

(ش ح ۔ م م ۔ش ت)

U.No: 1431


(ریلیز آئی ڈی: 2222134) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी