خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
مرکزی بجٹ 27–2026 خواتین کی قیادت پر مبنی ترقی اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی توثیق ہے: مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال، محترمہ انّاپورنا دیوی
خواتین محض ترقی کی مستفید نہیں بلکہ اس کی محرک قوت ہیں: محترمہ انّاپورنا دیوی
کُل مرکزی بجٹ میں خواتین بجٹ کا حصہ مالی سال 27–2026 میں بڑھ کر 9.37 فیصد ہو گیا ہے، جو مالی سال 26–2025 میں 8.86 فیصد تھا، اس سے صنفی حساس حکمرانی کے لیے حکومت کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی ہوتی ہے
مرکزی بجٹ ’وکست بھارت‘ کے وژن کے تحت خواتین اور بچوں پر مرکوز ترقی کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرتا ہے
प्रविष्टि तिथि:
01 FEB 2026 5:43PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ خزانہ اور کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2026–27 پیش کیا (01-2026)۔ یہ مرکزی بجٹ ہندوستان کے ترقیاتی سفر کو وکست بھارت کی سمت آگے بڑھانے کے لیے ایک واضح اور جامع روڈ میپ پیش کرتا ہے، جو وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ایک جامع، خودکفیل اور مستقبل کے لیے تیار ہندوستان کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
بجٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال ترقی، محترمہ انّاپورنا دیوی نے کہا:
“مرکزی بجٹ 2026–27 خواتین کی قیادت پر مبنی ترقی اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی واضح توثیق ہے۔ نگہداشت کو ایک معاشی اور سماجی ترجیح کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، مہارت سازی اور کاروباریت کو مضبوط بنا کر، صحت اور تعلیم تک رسائی کو وسعت دے کر اور معذور افراد کے لیے وقار اور شمولیت کو یقینی بنا کر، یہ بجٹ ایک زیادہ جامع اور بااختیار وکست بھارت کی تعمیر کے ہمارے اجتماعی عزم کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواتین محض ترقی کی مستفید نہیں بلکہ اس کی محرک قوت ہیں۔”
مرکزی بجٹ 2026–27 میں صنفی حساس بجٹ کو نمایاں تقویت دی گئی ہے۔ مجموعی مرکزی بجٹ میں خواتین بجٹ کا حصہ مالی سال 2026–27 میں بڑھ کر 9.37 فیصد ہو گیا ہے، جو مالی سال 2025–26 میں 8.86 فیصد تھا۔ یہ صنفی حساس حکمرانی کے لیے حکومت کے گہرے اور مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مالی سال 2026–27 کے لیے خواتین بجٹ اسٹیٹمنٹ کے تحت خواتین اور لڑکیوں کی فلاح کے لیے 5.00 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025–26 کے 4.49 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں 11.36 فیصد اضافہ ہے۔ یہ نمایاں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت مختلف شعبوں میں صنفی پہلوؤں کو مرکزی دھارے میں لانے اور اس امر کو یقینی بنانے پر مسلسل توجہ دے رہی ہے کہ سرکاری اخراجات صحت، غذائیت، تعلیم، روزگار، تحفظ اور نگہداشت کی خدمات میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے دیرپا اور قابلِ پیمائش نتائج فراہم کریں۔
مرکزی بجٹ کی ایک اہم خصوصیت مضبوط نگہداشت معیشت کی تشکیل پر زور ہے، جس میں نگہداشت کے کام کو سماجی ضرورت کے ساتھ ساتھ روزگار کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ بزرگ شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، بچوں اور دیگر نگہداشت خدمات کے شعبوں میں 1.5 لاکھ کثیر ہنر مند نگہداشت فراہم کرنے والوں کی تربیت کی تجویز سے نہ صرف خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی بلکہ بالخصوص خواتین کے لیے باوقار روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
صحت کے شعبے میں خواتین کی شرکت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل تعلیم میں توسیع کی جا رہی ہے۔ موجودہ اداروں کو جدید بنایا جائے گا اور سرکاری و نجی شعبوں میں نئے ادارے قائم کیے جائیں گے، جن میں آپٹومیٹری، ریڈیالوجی، اینستھیزیا، او ٹی ٹیکنالوجی، اطلاقی نفسیات اور رویہ جاتی صحت سمیت دس اہم شعبے شامل ہوں گے۔ اس اقدام کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز تیار کیے جائیں گے۔
خواتین کی نچلی سطح پر معاشی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے مرکزی بجٹ میں اپنی مدد آپ انٹرپرینیور مارٹس کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کمیونٹی کی ملکیت والے ریٹیل مراکز کلسٹر سطح کی فیڈریشنز کے تحت قائم ہوں گے اور خواتین کی قیادت والے اپنی مدد آپ گروپوں کی تیار کردہ مصنوعات کے لیے مستقل اور منظم بازار تک رسائی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، مقامی اقدار کے سلسلے مضبوط ہوں گے اور بالخصوص دیہی و نیم شہری علاقوں میں خواتین کو کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ روزگار فراہم کرنے والوں کے طور پر فروغ ملے گا۔
مرکزی بجٹ میں خواتین کی قیادت والے گروپوں کو ماہی گیری اور ساحلی روزگار کے شعبے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اس ضمن میں اسٹارٹ اپس، خواتین کی قیادت والے گروپوں اور فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کے ساتھ بازار روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ 500 آبی ذخائر اور امرت سرووروں کی مربوط ترقی کی تجویز شامل ہے۔
اس کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد پر مشتمل روایتی شعبوں کے لیے بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ قومی ہینڈلوم اور دستکاری پروگرام کے ذریعے موجودہ اسکیموں کو یکجا کیا جائے گا، جبکہ مہاتما گاندھی گرام سوراج پہل کے تحت کھادی، ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبوں کو تربیت، مہارت سازی، معیار میں بہتری اور عالمی منڈی سے جوڑنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
مرکزی بجٹ معذور افراد کے وقار، شمولیت اور بااختیاری کے لیے حکومت کے عزم کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ اس میں صنعت سے ہم آہنگ مہارت سازی کے لیے دیویانگجن کوشل یوجنا، معیاری معاون آلات تک بروقت رسائی کے لیے دیویانگ سہارا یوجنا، پی ایم دیویاشا کیندروں کو جدید ریٹیل طرز کے مراکز کے طور پر مضبوط کرنا اور اے ایل آئی ایم سی او کو تحقیق، پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی بشمول مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اضافی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ملک بھر میں معذور افراد کے روزگار کے مواقع، خودمختاری اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
ذہنی صحت کو مجموعی فلاح و بہبود کا لازمی حصہ تسلیم کرتے ہوئے مرکزی بجٹ میں نِمہانس-2 کے قیام اور رانچی و تیزپور کے قومی ذہنی صحت اداروں کی جدید کاری کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ضلع اسپتالوں میں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر مراکز قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو 24×7 بروقت اور معیاری ہنگامی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
اعلیٰ تعلیم میں مساوات اور تحفظ کو فروغ دینے کے لیے مرکزی بجٹ میں ہر ضلع میں ایس ٹی ای ایم اداروں کے لیے لڑکیوں کے ہاسٹل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے علاقائی اور سماجی تفاوت کم ہوگا، داخلے اور تعلیم جاری رکھنے کی شرح میں اضافہ ہوگا اور ابھرتے ہوئے تکنیکی شعبوں میں نوجوان خواتین کی شمولیت بڑھے گی۔
مرکزی بجٹ 2026–27 انسانی ترقی پر مضبوط زور دیتا ہے اور خواتین و بچوں کو ہندوستان کی طویل مدتی ترقی اور سماجی تبدیلی کا مرکز قرار دیتا ہے۔ ہدفی سرمایہ کاری، ادارہ جاتی مضبوطی اور کمیونٹی پر مبنی حلوں کے ذریعے یہ بجٹ ایک ایسے وکست بھارت کے وژن کو تقویت دیتا ہے جہاں خواتین اور بچے بااختیار، محفوظ اور اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل ہوں۔
خواتین و اطفال ترقی کی وزارت ریاستی حکومتوں، شراکت دار وزارتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور کمیونٹی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مرکزی بجٹ کے اعلانات اور وعدے زمینی سطح پر مؤثر نفاذ کے ساتھ قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل ہو سکیں۔
*****
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1386 )
(रिलीज़ आईडी: 2221854)
आगंतुक पटल : 7