صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی بجٹ 27–2026: صحت اور خاندانی بہبود کے شعبے میں نمایاں اضافہ
مرکزی بجٹ 27–2026کے تحت وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے لیے 1,06,530.42 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 26–2025 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے تقریباً 10 فیصد اضافہ ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں صحت کے بجٹ میں مجموعی طور پر 194 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے
پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ بنیادی ڈھانچہ مشن کے لیے الاٹمنٹ میں 67.66 فیصد اضافہ کرتے ہوئے بجٹ تخمینہ 27–2026کے میں رقم 4,770 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح پردھان منتری سواستھ سُرکشا یوجنا کے تحت مالی سال 27–2026کے کے لیے الاٹمنٹ بڑھا کر 11,307 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جو 27–2026کے کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے 407 کروڑ روپے (3.73 فیصد) زیادہ ہے۔ اس سے نئے ایمز ، موجودہ اداروں اور میڈیکل کالجوں کی جدید کاری کو مدد ملے گی
نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کے لیے بجٹ تخمینہ 27–2026کے میں الاٹمنٹ بڑھا کر 3,477 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جو 30.64 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس سے خون کے عطیے سے متعلق خدمات کو تقویت ملے گی اور قومی عوامی صحت کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے گا
مرکزی بجٹ میں طبی تحقیق کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔ محکمۂ صحت تحقیق کے لیے الاٹمنٹ بڑھا کر 4,821 کروڑ روپے سے زائد کر دی گئی ہے، جو تقریباً 24 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’بایو فارما شکتی‘ کے نام سے 10,000 کروڑ روپے کی قومی پہل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد بایولوجکس، بایوسملرز کو فروغ دینا اور دواسازی کے شعبے میں تحقیق کو تقویت دینا ہے
ادویات کے ضابطہ جاتی لائحہء عمل کو مضبوط بنانے کے لیے سی ڈی ایس سی او کی سائنسی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں نوجوانوں کی ہنر سازی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس کے تحت الائیڈ طبی اداروں اور علاقائی میڈیکل ہبز قائم کیے جائیں گے
عام شہریوں کے لیے سستی اور مسلسل طبی سہولتیں فراہم کرنے کے مقصد سے ہر ضلع اسپتال میں 24×7 ایمرجنسی نگہداشت کے لیے ٹراما سینٹرز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کینسر اور نایاب بیماریوں کی ادویات پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، تاکہ علاج کی لاگت اور عوام پر پڑنے والے ذاتی اخراجات کم کیے جا سکیں
مجموعی طور پر، مرکزی بجٹ 27–2026کے صحت کے شعب
प्रविष्टि तिथि:
01 FEB 2026 3:46PM by PIB Delhi
مرکزی بجٹ 27–2026کے میں صحت کے شعبے کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے لیے بجٹ الاٹمنٹ میں نمایاں اضافہ اور ہدفی پالیسی مداخلتوں کے ذریعے بھارت کے صحت کے نظام میں ہمہ جہت تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا اور جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے عالمگیر صحت سہولت (یونیورسل ہیلتھ کوریج) اور جامع ترقی کے عزم کو مضبوطی سے اجاگر کیا۔
مرکزی بجٹ 27–2026کے حکومت کی جانب سے بھارت کے صحت نظام کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے لیے الاٹمنٹ بڑھا کر 1,06,530.42 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو مالی سال 2025–26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے تقریباً 10 فیصد اضافہ ہے۔ اس میں محکمۂ صحت تحقیق کے لیے 4,821.21 کروڑ روپے کی مضبوط مالی معاونت بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر یہ اضافہ 194 فیصد سے زائد بنتا ہے، جو مالی سال 2014–15 کے صحت بجٹ کے مقابلے 70,349.75 کروڑ روپے اضافی رقم کے مترادف ہے۔ عوامی اخراجات میں یہ مسلسل اضافہ صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، طبی تحقیق و اختراع کو فروغ دینے اور تمام شہریوں کے لیے سستی و معیاری صحت خدمات یقینی بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت اسکیم جزو میں 6,175.96 کروڑ روپے (10.78 فیصد) اور نان اسکیم جزو میں 2,500.96 کروڑ روپے (6.32 فیصد) کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافی مالی گنجائش کی بنیاد پر بجٹ 27–2026کے میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی اہم اسکیموں کے تحت نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد صحت تک رسائی، بنیادی ڈھانچے، خدمات کی فراہمی اور انسانی وسائل کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے لیے بجٹ تخمینہ 27–2026کے میں الاٹمنٹ بڑھا کر 9,500 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو مالی سال 2025–26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے 500 کروڑ روپے (5.56 فیصد) زیادہ ہے، تاکہ مستفیدین کی تعداد میں توسیع، خدمات کے معیار میں بہتری اور اسپتال نیٹ ورک کو مضبوط کیا جا سکے۔
اسی طرح قومی صحت مشن کے لیے الاٹمنٹ بڑھا کر 39,390 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو مالی سال 26–2025 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے 2,289.93 کروڑ روپے (6.17 فیصد) زیادہ ہے۔ اس کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بنیادی صحت خدمات، زچہ و بچہ کی نگہداشت اور بیماریوں پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے پردھان منتری آیوشمان بھارت صحت بنیادی ڈھانچہ مشن کے تحت بجٹ تخمینہ 27–2026کے میں 4,770 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 26–2025 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے 1,925 کروڑ روپے (67.66 فیصد) زیادہ ہیں۔ اس کا مقصد کریٹیکل کیئر بلاکس، مربوط عوامی صحت لیبارٹریز، ضلعی و ذیلی ضلعی اسپتالوں اور دیگر صحت سہولیات میں توسیع ہے۔
مرکزی بجٹ 2026–27 میں صحت کے بنیادی ڈھانچے اور طبی تعلیم کی توسیع و جدید کاری کو بھی مضبوط ترجیح دی گئی ہے۔ کینسر مراکز کے قیام، ٹراما و ایمرجنسی خدمات کی توسیع، سپر اسپیشلٹی بلاکس، ٹرانسپلانٹ یونٹس، روبوٹک سرجری مراکز اور اے آئی پر مبنی مراکز کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایم بی بی ایس، پوسٹ گریجویٹ، سپر اسپیشلٹی اور نرسنگ نشستوں میں نمایاں اضافہ کر کے تدریس، تربیت اور تحقیق کو فروغ دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
پردھان منتری سواستھیا سرکشا یوجنا کے تحت، نئے ایمز کے قیام سمیت مالی سال 27–2026کے کے لیے کل الاٹمنٹ 11,307 کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جو مالی سال 2025–26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے 407 کروڑ روپے (3.73 فیصد) زیادہ ہے۔ اس سے نئے ایمز کی تعمیر، موجودہ اداروں کے عملی آغاز اور سرکاری میڈیکل کالجوں کی اپ گریڈیشن کو تقویت ملے گی۔
بیماریوں پر قابو اور عوامی صحت کے پروگراموں کے تحت نیشنل ایڈز و ایس ٹی ڈی کنٹرول پروگرام کے لیے بجٹ تخمینہ 2026–27 میں الاٹمنٹ بڑھا کر 3,477 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو مالی سال 2025–26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے کے مقابلے 30.64 فیصد اضافہ ہے۔ اس میں خون کا عطیہ خدمات کے لیے 275 کروڑ روپے شامل ہیں، تاکہ خون کی دستیابی، حفاظت اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
عمر رسیدہ آبادی، غیر متعدی بیماریوں میں اضافے اور تربیت یافتہ صحت پیشہ ورافراد کی بڑھتی عالمی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے آئندہ تین برسوں میں 980 کروڑ روپے کی مرحلہ وار سرمایہ کاری کی تجویز دی ہے، جس کے تحت الائیڈ صحت اور صحت کے پیشہ ور افراد کی تعلیم کو مضبوط کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت دس اہم شعبوں میں ادارے قائم اور جدید بنائے جائیں گے، جن سے آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً ایک لاکھ تربیت یافتہ پیشہ ور تیار ہوں گے، جبکہ 1.5 لاکھ بزرگ نگہداشت کرنے والوں کی تربیت بھی کی جائے گی۔
ڈیجیٹل صحت کے فروغ کے لیے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت بجٹ تخمینہ 27–2026کے میں الاٹمنٹ بڑھا کر 350 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جس سے ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز، ٹیلی میڈیسن اور مربوط اسپتال نظام کو وسعت ملے گی۔
نان اسکیم جزو کے تحت بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ایمز، نئی دہلی کے لیے الاٹمنٹ بڑھا کر 5,500.92 کروڑ روپے، سی جی ایچ ایس اور پنشنرز کے لیے 8,697.86 کروڑ روپے اور مرکزی اسپتالوں کے لیے 4,599.66 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ اسی طرح پی جی آئی چنڈی گڑھ کے لیے الاٹمنٹ بڑھا کر 2,504.65 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
طبی تحقیق و اختراع کو فروغ دینے کے لیے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے لیے بجٹ تخمینہ 27–2026کے میں الاٹمنٹ بڑھا کر 4,000 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’بایو فارما شکتی‘ کے نام سے 10,000 کروڑ روپے کی قومی پہل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد بایولوجکس اور بایوسملرز کی ملکی پیداوار، تحقیق اور عالمی مسابقت کو فروغ دینا ہے۔
مریضوں کو براہِ راست راحت پہنچانے کے لیے، خاص طور سے کینسر کے مریضوں کو، 17 جان بچانے والی ادویات پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، جبکہ مزید سات بہت کم ہونے والی بیماریوں کو ذاتی درآمد پر ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ذہنی صحت کے شعبے میں رانچی اور تیجپور کے اداروں کی جدید کاری اور شمالی بھارت میں نِمہانس کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ضلع اسپتال میں 24×7 ایمرجنسی اور ٹراما کیئر مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر مرکزی بجٹ 27–2026کے ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ صحت نظام کی تعمیر کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی توثیق کرتا ہے، تاکہ وکست بھارت@2047 کے وژن کے تحت تمام شہریوں کو سستی اور معیاری صحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1384 )
(रिलीज़ आईडी: 2221844)
आगंतुक पटल : 6