وزارتِ تعلیم
مرکزی وزیرِ تعلیم نے تاریخی بجٹ 27-2026 کو سراہا، اسے یووا شکتی پر مبنی اور وکست بھارت کے لیے انسانی سرمایہ کا بجٹ قرار دیا
بجٹ میں وزارتِ تعلیم کے لیے مختص رقم کُل 1,39,289.48 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو بجٹ تخمینے 26-2025 کے مقابلے میں 8.27 فیصد اضافہ ہے
بجٹ کے تحت پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ قائم کی جائیں گی، جہاں متعدد یونیورسٹیاں، کالج، تحقیقی ادارے، ہنر کے مراکز اور رہائشی کمپلیکس ہوں گے
مزید برآں، ہر ضلع میں ایک لڑکیوں کا ہاسٹل قائم کیا جائے گا
اسی طرح ’تعلیم سے روزگار اور آنترپرائز‘ کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی مستقل کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو خاص طور پر خدمات کے شعبے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عملی اقدامات کی سفارش کرے گی
प्रविष्टि तिथि:
01 FEB 2026 5:52PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے بجٹ 2026–27 کو سراہتے ہوئے اسے یووا شکتی پر مبنی بجٹ قرار دیا، جو تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو فروغ دیتا ہے اور ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے ایک واضح خاکہ پیش کرتا ہے۔
وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم کے لیے مجموعی بجٹ مختص رقم 1,39,289.48 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو بجٹ تخمینے 2025–26 کے مقابلے میں 8.27 فیصد اضافہ ہے۔
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026–27 بھارت کی ترقی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے، تمام طبقات میں جامع ترقی کو فروغ دینے اور ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کے وژن کے حصول کے لیے ایک مضبوط خاکہ ہے۔ انہوں نے مستقبل بین، یووا شکتی پر مبنی، عوام دوست، روزگار پر مرکوز اور ترقی کو رفتار دینے والا بجٹ پیش کرنے پر وزیرِ اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ بجٹ سب کو شامل کرتا ہے، عوامی فلاح پر زور دیتا ہے اور بالخصوص غریبوں اور متوسط طبقے کے لیے خوش خبری لاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ خزانہ کی جانب سے بیان کردہ تین کرتویہ—(1) اقتصادی ترقی کو تیز اور پائیدار بنانا، (2) سب کی امنگوں کی تکمیل اور صلاحیتوں کی تعمیر، اور (3) ہر خاندان اور برادری تک وسائل، مواقع اور سہولیات کی رسائی—سے متاثر ہو کر وکست بھارت بجٹ تمام شعبوں میں ہمہ جہت ترقی کو فروغ دے گا اور اسٹریٹجک و جدید محاذوں پر خود کفالت کو تقویت دے گا۔ اس سے سہولتِ زندگی بہتر ہوگی، تعلیم، اختراع اور اسکلنگ کے منظرنامے کو نئی توانائی ملے گی، ایم ایس ایم ایز مضبوط ہوں گی، سیاحت کو فروغ ملے گا، صحت کے شعبے میں اضافہ ہوگا اور دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کو نئے ترقیاتی مراکز میں بدلا جائے گا۔ یوں ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ کو رفتار ملے گی اور اقتصادی ترقی کے فوائد 140 کروڑ سے زائد شہریوں تک ٹھوس انداز میں پہنچیں گے۔
وزیرِ تعلیم نے کہا کہ مذکورہ تین کرتویہ میں، دیگر امور کے ساتھ، آتم نربھر بھارت کے ہدف کے لیے نوجوانوں کی صلاحیت مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ بھارت نے عالمی سطح پر اسٹیم تعلیم میں خواتین کی شمولیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک حاصل کی ہے۔ لڑکیوں کے اندراج کو مزید بڑھانے کے لیے ہر ضلع میں ایک گرلز ہاسٹل قائم کیا جائے گا، جس کے لیے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ اور سرمایہ جاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
مزید یہ کہ بجٹ میں بڑے صنعتی اور لاجسٹک کوریڈورز کے نزدیک پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ قائم کرنے کی تجویز ہے، جہاں متعدد جامعات، کالجز، تحقیقی ادارے، ہنر کے مراکز اور رہائشی کمپلیکس ہوں گے۔
انہوں نے اطلاع دی کہ ’ایجوکیشن ٹو ایمپلائمنٹ اینڈ انٹرپرائز‘ کے نام سے ایک اعلیٰ سطحی قائمہ کمیٹی تجویز کی گئی ہے جو خدماتی شعبے پر توجہ دیتے ہوئے سفارشات پیش کرے گی—جو وکست بھارت کا بنیادی محرک ہے۔ کمیٹی ابھرتی ٹیکنالوجیوں، بشمول مصنوعی ذہانت ، کے روزگار و ہنر پر اثرات کا جائزہ لے گی، اسکول کی سطح سے نصاب میں اے آئی کے انضمام اور اساتذہ کی تربیت کے لیے ریاستی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت اداروں کو جدید طرز کا بنانے سمیت مخصوص اقدامات تجویز کرے گی۔
آخر میں، وزیرِ تعلیم نے 15,000 سیکنڈری اسکولوں اور 500 کالجوں میں اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اور کامکس کنٹینٹ کریئیٹر لیبز کے قیام کی ستائش کی۔ اس منصوبے کا مقصد 2030 تک بڑھتے ہوئے AVGC شعبے کے لیے 20 لاکھ پیشہ ور افراد کو پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
بجٹ کی تخصیص کے اہم نکات 2026-27
اعلیٰ تعلیم
- مالی سال 2026-27 میں مجموعی بجٹ کی تخصیص 55727.22 کروڑ روپے ہے، جس میں سے اسکیموں کے لیے 10142.40 کروڑ روپے اور غیر اسکیم اخراجات کے لیے 45584.82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں مالی سال 2026-27 کے دوران اعلیٰ تعلیم کے محکمے کے بجٹ میں 5649.27 کروڑ روپے (11.28%) کا مجموعی اضافہ ہوا ہے۔
بڑے خود مختار اداروں کے لیے رقم کی تخصیص (اعلیٰ تعلیم)
- مرکزی یونیورسٹیوں کے لیے تخصیص 17440.00 کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جو کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 748.69 کروڑ روپے (4.49%) زیادہ ہے۔
- یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے لیے 2026-27 میں 3709.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 373.03 کروڑ روپے (11.18%) زیادہ ہے۔
- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے لیے 2026-27 میں 12123.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 774.00 کروڑ روپے (6.82%) زیادہ ہے۔
- نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) کے لیے مالی سال 2026-27 میں 6260.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں 572.53 کروڑ روپے (10.07%) کا اضافہ کیا گیا ہے۔
- ڈیمڈ یونیورسٹیوں کے لیے 2026-27 میں 650.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 46 کروڑ روپے (7.62%) زیادہ ہے۔
- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کی مدد کے لیے 2026-27 میں 292.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 40.11 کروڑ روپے (15.92%) زیادہ ہے۔
اعلیٰ تعلیم کی بڑی اسکیموں کے لیے تخصیص
- اسکیم 'پی ایم ون نیشن ون سبسکرپشن' کے لیے مالی سال 2026-27 میں 2200.00 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
- اسکیم 'پی ایم ریسرچ چیئر'، جو کہ 2026-27 میں ایک نئی اسکیم ہے، اس کے لیے مالی سال 2026-27 میں 200.00 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
- اسکیم 'تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سینٹر آف ایکسی لینس'، جو کہ 2026-27 میں ایک نئی اسکیم ہے، اس کے لیے مالی سال 2026-27 میں 100.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- عالمی معیار کے اداروں کے لیے 900.00 کروڑ روپے کی تخصیص رکھی گئی ہے، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 424.88 کروڑ روپے (89.43%) زیادہ ہے۔
- اسکیم 'ٹیکنیکل ایجوکیشن میں کثیر جہتی تعلیم اور تحقیق کی بہتری (میرٹ)' کے لیے مالی سال 2026-27 میں 300 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 80.00 کروڑ روپے (36.36%) زیادہ ہے۔
- مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں '3 سینٹرز آف ایکسی لینس کے قیام' کی اسکیم کے لیے مالی سال 2026-27 میں 250 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 50.00 کروڑ روپے (25.00%) زیادہ ہے۔
- 'پی ایم اوشا' کے لیے مالی سال 2026-27 کا بجٹ 1850 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 35.00 کروڑ روپے (1.93%) زیادہ ہے۔
- اسکیم 'وزیراعظم اعلیٰ تعلیم حوصلہ افزائی یوجنا' کے لیے مالی سال 2026-27 میں بجٹ کی تخصیص 1560 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
- اسکیم 'قومی اپرنٹس شپ تربیتی اسکیم' کے لیے مالی سال 2026-27 میں 1250.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے 72.00 کروڑ روپے (6.11%) زیادہ ہے۔
- اسکیم 'پی ایم ریسرچ فیلوشپ' کے لیے مالی سال 2026-27 میں 600 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- اسکیم 'آئی سی ٹی کے ذریعے تعلیم میں قومی مشن' کے لیے مالی سال 2026-27 میں 650 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسکول کی تعلیم اور خواندگی
- مالی سال 2026-27 کے لیے 83562 کروڑ روپے کا بجٹ اسکول کی تعلیم اور خواندگی کے محکمے کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ بجٹ ہے۔
- مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں مالی سال 2026-27 میں اسکول کی تعلیم اور خواندگی کے محکمے کے بجٹ میں 4990 کروڑ روپے (6.35%) کا مجموعی اضافہ ہوا ہے۔ اگر مالی سال 2025-26 کے ترمیمی تخمینے سے موازنہ کیا جائے تو یہ اضافہ 12995 کروڑ روپے (18.42%) ہے۔
- سب سے زیادہ بجٹ کی تخصیص خود مختار اداروں 'کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن' اور 'نوودے ودیالیہ سمیتی' کے لیے بالترتیب 10129.41 کروڑ روپے اور 6025 کروڑ روپے دیکھی جا سکتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے مقابلے میں کیندریہ ودیالیہ میں 625.57 کروڑ روپے اور نوودے ودیالیہ میں 719.77 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
- مالی سال 2026-27 میں اہم اسکیموں کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے، جیسے 'سمگرا شکشا' میں (850.02 کروڑ روپے کا اضافہ) اور 'پی ایم پوشن' میں (250.00 کروڑ روپے کا اضافہ)۔ مالی سال 2025-26 کے ترمیمی تخمینے کے مقابلے میں، سمگرا شکشا میں 4100.00 کروڑ روپے (10.79%)، پی ایم پوشن میں 2150.00 کروڑ روپے (20.28%) اور پی ایم شری میں 3000 کروڑ روپے (66.67%) کا اضافہ ہوا ہے۔
- اسکول کی تعلیم اور خواندگی کے محکمے کے تحت مرکزی شعبے کی اسکیموں میں ایک نئی اہم مہم 'اٹل ٹنکرنگ لیبز' کے نام سے شروع کی گئی ہے اور مالی سال 2026-27 کے لیے اس اسکیم میں 3200 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- مالی سال 2026-27 کے مجموعی بجٹ 83562.26 کروڑ روپے میں سے اسکیموں کے لیے 66641.02 کروڑ روپے اور غیر اسکیم اخراجات کے لیے 16921.24 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں اسکیموں کے لیے رقم کی فراہمی میں 3552.02 کروڑ روپے (5.63فیصد) کا اضافہ ہوا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1381 )
(रिलीज़ आईडी: 2221807)
आगंतुक पटल : 11