پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
آئی ای ڈبلیو 2026:بھارت میں بائیو انرجی کی شرحِ نمو توانائی کی مجموعی طلب سے بڑھ سکتی ہے،پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے سکریٹری کا گلوبل انرجی کنکلیو میں خطاب
آئی ای اے بائیو انرجی آؤٹ لک اور پی پی اے سی جرنل میں پالیسی پر مبنی توسیع اور توانائی کے تحفظ میں ریاستوں کے کردار پر روشنی ڈالی گئی
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 7:35PM by PIB Delhi
بھارت کا حیاتیاتی توانائی سے متعلق شعبہ ملک کی توانائی کی مجموعی طلب کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیزی سے ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور توانائی کے تحفظ، اخراج میں کمی اور دیہی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے سکریٹری نیرج متل نے ’انڈیا انرجی ویک 2026‘ کے تیسرے دن کیا، جو 27 جنوری سے 30 جنوری 2026 تک گوا میں منعقد ہو رہا ہے۔
آئی ای اے انڈیا بائیو انرجی مارکیٹ رپورٹ: 2030 تک مائع اور گیس کے بائیو فیولز کا آؤٹ لک اور پی پی اے سی جرنل کے پانچویں ایڈیشن توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا: ریاستی توانائی کی پالیسیوں کا کردار کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر متل نےپائیدار توانائی کے حل کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ’’فی کس بنیاد پر بھارت کی توانائی کا استعمال عالمی سطح پر نچلے حصے میں ہے، لیکن اس کی شرحِ نمو عالمی اوسط سے تقریباً دو گنا ہے۔ اگلی دہائی میں، بھارت کی توانائی کی ترقی عالمی نمو سے دو گنا یا اس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔‘‘
پالیسیوں کے کامیاب نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر متل نے ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کو ایک عالمی معیار کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ’’2014 میں ایتھنول بلینڈنگ صرف 1.4 فیصد تھی۔ آج ہم 20 فیصد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اگر ٹیکنالوجی اور قومی وژن ہمیں وہاں لے جائے تو ہمارے پاس اس سے آگے بڑھنے کے لیے وافر مقامی ایتھنول موجود ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسی طرح کے اہداف بائیو ڈیزل، کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) اور پائیدار ہوا بازی کے ایندھن (ایس اے ایف) کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جو کم کاربن توانائی کی ترقی کے تئیں بھارت کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
سیشن کے دوران توانائی سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ آئی ای اے انڈیا بائیو انرجی مارکیٹ رپورٹ میں 2030 تک مائع اور گیس پر مبنی بائیو فیولز کے حوالے سے مضبوط ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اہم نتائج پیش کرتے ہوئے، آئی ای اے میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر پاولو فرینکل نے کہا کہ بھارت نے 2020 سے اب تک جدید بائیو انرجی کے استعمال کو پہلے ہی تین گنا کر دیا ہے، جس کی وجہ بلینڈنگ کے لازمی اہداف، مراعات، تحقیقی تعاون اور سپلائی چین کی ترقی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر پالیسی نفاذ کے تحت، بھارت 2030 تک بائیو فیول کے استعمال کو دوبارہ دوگنا کر سکتا ہے، جس سے یہ عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی بائیو انرجی مارکیٹوں میں سے ایک بن جائے گا۔
ڈاکٹر فرینکل نے ملک میں زرعی باقیات اور نامیاتی کچرے کی وسیع تر صلاحیت کے پیشِ نظرکمپریسڈ بائیو گیس(سی بی جی) کو بھارت کے لیے ایک بڑے ابھرتے ہوئے موقع کے طور پر نمایاں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیداواری خام مال (فیڈ اسٹاک) کی بہتر فراہمی، بنیادی ڈھانچے سے قربت اور مستحکم خریداری کے طریقۂ کار ترقی کو برقرار رکھنے اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
آئی ای اے کی رپورٹ کے ساتھ ساتھ، پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل(پی پی اے سی) نے اپنے چھ ماہی تکنیکی جرنل کا پانچواں ایڈیشن جاری کیا۔ پی پی اے سی کے ڈائریکٹر جنرل، پی منوج کمار نے کہا کہ یہ ایڈیشن توانائی کی دستیابی، استطاعت اور لچیلے پن کو مضبوط بنانے میں ریاستی سطح کی پالیسیوں کے کلیدی کردار پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جرنل ریاستوں، پالیسی سازوں اور اداروں کے اشتراک کو یکجا کرتا ہے، جو توانائی کے شعبے میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور تعاون پر مبنی وفاقیت کو تقویت دیتا ہے۔
ورلڈ بائیو گیس ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو، شارلٹ مورٹن نے پینل کی مشاورت کے دوران بائیو گیس کے لیے ایک مربوط قومی فریم ورک کی ضرورت پر اہم بصیرت فراہم کی۔ انہوں نے بائیو گیس کو ایک کثیر مقاصدی حل کے طور پر اجاگر کیا جو کچرے کے بندوبست، دیہی روزگار، اخراج میں کمی اور توانائی کے غیر مرکزی نظاموں کو سہارا دیتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پالیسیوں، مالیات اور مارکیٹوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پر زور دیا۔
انڈیا انرجی ویک کے بارے میں
انڈیا انرجی ویک ملک کا ایک ممتاز عالمی توانائی پلیٹ فارم ہے، جو ایک محفوظ، پائیدار اور سستی توانائی کے مستقبل کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے حکومتی رہنماؤں، صنعت کے ایگزیکٹوز اور اختراع کاروں کو یکجا کرتا ہے۔ ایک غیر جانبدار بین الاقوامی فورم کے طور پر، انڈیا انرجی ویک (آئی ای ڈبلیو) سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور تکنیکی اشتراک کو فروغ دیتا ہے جو عالمی توانائی کے منظر نامے کو تشکیل دے رہے ہیں۔
******
(ش ح – ک ح ۔ م ش)
U. No. 1273
(रिलीज़ आईडी: 2220675)
आगंतुक पटल : 6