پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
آئی ای ڈبلیو 2026: بھارت میں فی کس توانائی کے استعمال کو تین گنا کرنے کے ہدف کے تحت کوئلہ توانائی کا بنیادی ستون برقرار رہے گا
جدید صاف کوئلہ ٹیکنالوجیز اور کوکنگ کوئلہ بھارت–امریکہ تعاون اور دوطرفہ تجارت کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JAN 2026 7:29PM by PIB Delhi
بھارت کی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں، وِکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے فی کس توانائی کے استعمال کو تین گنا کرنے کے سفر میں کوئلہ بھارت کے توانائی مکس میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انڈیا انرجی ویک 2026 کے تیسرے دن منعقدہ ایک لیڈرشپ پینل سے خطاب کرتے ہوئے کوئلے کی وزارت میں سکریٹری جناب وکرم دیو دت نے یہ بات کہی۔ یہ تقریب گوا میں منعقد کی جا رہی ہے۔
ریزیلینس اسٹیج پر منعقدہ اجلاس “محفوظ توانائی مکس میں کوئلے کا بدلتا ہوا کردار: ایک متوازن اور عملی نقطۂ نظر کی تشکیل”سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری موصوف نے توانائی کی منتقلی سے متعلق مباحثے میں حقیقت پسندی کی ضرورت پر زور دیا۔
سکریٹری موصوف نے کہا، “کوئلہ جلدی کہیں جانے والا نہیں ہے۔ بھارت کے لیے سستی اور قابلِ اعتماد بیس لوڈ بجلی کوئی اختیار نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اصل منتر ’فیز آؤٹ‘ نہیں بلکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار اور متوازن انداز میں ’فیز ڈاؤن‘ ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ کوئلہ بھارت کی ترقیاتی ضروریات کی بنیاد ہے اور قابل تجدید توانائی کے فروغ اور ماحولیاتی عہد کے ساتھ ساتھ آئندہ بھی یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس کے تعلق سے عالمی تناظر کو اجاگر کرتے ہوئے، امریکہ کے توانائی کے محکمے میں ہائیڈروکاربنز اینڈ جیوتھرمل انرجی کے اسسٹنٹ سکریٹری کائل ہوسٹویٹ نے کہا کہ دنیا بھر میں توانائی کے تحفظ کے لیے کوئلہ اب بھی ایک اہم عنصر ہے۔
سکریٹری موصوف نے کہا، “کوئلے نے جدید دنیا کو توانائی فراہم کی ہے اور یہ کہیں جانے والا نہیں۔ قابل اعتماد، سستی اور محفوظ توانائی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور یہ کہ کوئلہ موسم یا منڈی کی غیر یقینی صورتحال سے قطع نظر استحکام فراہم کرتا ہے۔”
کائل ہوسٹویٹ نے صاف کوئلہ ٹیکنالوجیز، کوئلہ گیسفکیشن، کاربن کے استعمال اور اعلیٰ معیار کے میٹالرجیکل کوئلے کی تجارت میں بھارت–امریکہ تعاون کے مضبوط امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
صنعتی نقطۂ نظر سے بات کرتے ہوئے، کول انڈیا لمیٹڈکے چیئرمین کم مینیجنگ ڈائریکٹر جناب بی۔ سائی رام نے کہا کہ کوئلہ بھارت کی توانائی منتقلی میں پل اور سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا، “بھارت میں فی کس توانائی کا استعمال ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں بمشکل ایک تہائی ہے۔ جیسے ہی یہ ما نگ تین گنا ہوگی، کوئلہ مضبوط اور قابل ترسیل بجلی فراہم کرے گا، جبکہ قابل تجدید توانائی اور ذخیرہ سازی کے نظام میں بتدریج مضبوطی آئے گی۔”کول انڈیا کے سی ایم ڈی نے مزید کہا کہ گھریلو پیداوار میں اضافہ درآمدات کم کرنے اور زرِ مبادلہ کی بچت میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔
پینل کے شرکاء نے کوئلہ گیسفکیشن، کوئلہ سے کیمیکلز اور صاف کوئلہ ٹیکنالوجیز میں ابھرتے ہوئے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔ سکریٹری دت نے کہا کہ حکومت کا تعاون جس میں وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ اور سطحی اور زیر زمین کوئلہ گیسفکیشن کے اہم منصوبے شامل ہیں،ان ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئلے سے حاصل ہونے والی آمدنی ماحول کے لیے سازگار توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مالی معاونت میں مدد دے سکتی ہے، جس سے متوازن توانائی منتقلی ممکن ہوگی۔
انڈیا انرجی ویک کے بارے میں
انڈیا انرجی ویک ملک کا نمایاں عالمی توانائی سے متعلق پلیٹ فارم ہے جو حکومتی قائدین، صنعت کے سربراہان اور جدت کاروں کو ایک جگہ یکجا کرتا ہے تاکہ محفوظ، پائیدار اور سستی توانائی کے مستقبل کی جانب پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔ ایک غیر جانب دار بین الاقوامی فورم کے طور پر آئی ای ڈبلیو سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیتا ہے، جو عالمی توانائی کے منظرنامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ش م ۔ع ن)
U. No. 1271
(ریلیز آئی ڈی: 2220667)
وزیٹر کاؤنٹر : 10