ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: جوہری شعبے میں نجی آپریٹروں کی ضابطہ بندی
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 5:00PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت کی جانب سے جن اداروں کو جوہری تنصیبات قائم کرنے یا جوہری توانائی سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے کا لائسنس دیا گیا ہے، وہ جوہری مواد کی مسلسل نگرانی، حساب داری اور نگہداشت کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان اداروں پر پیدا ہونے والے تابکار فضلے کے محفوظ انتظام، تابکاری سے ہونے والے نقصانات، جوہری حادثات کی صورت میں متاثرین کو فوری معاوضے کی ادائیگی اور جوہری تنصیبات کے محفوظ اور محفوظ طریقے سے آپریشن کی ذمہ داری عائد ہوگی، جس میں جوہری تنصیب کی عمر پوری ہونے کے بعد اس کی مرحلہ وار بندش بھی شامل ہے۔
شانتی ایکٹ کے تحت جوہری بجلی گھر کے آپریٹر کو جوہری حادثات کی صورت میں جوہری نقصانات کے فوری معاوضے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ آپریٹر پر لازم ہے کہ وہ ان معاوضوں کی ادائیگی کے لیے مناسب مالی تحفظ یا بیمہ برقرار رکھے۔ جوہری حادثے کی صورت میں آپریٹر کی جانب سے ادا کیا جانے والا معاوضہ جوہری تنصیب کی نوعیت کی بنیاد پر طے کیا جائے گا، جس کی وضاحت شانتی ایکٹ کے شیڈول میں بھی کی گئی ہے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، وزیرِ مملکت وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے امور کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-1259
(रिलीज़ आईडी: 2220437)
आगंतुक पटल : 4