سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
چنئی–بنگلورو ایکسپریس وے کی تکمیل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JAN 2026 4:21PM by PIB Delhi
سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن جےرام گڈکری جی نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں بتایا کہ قومی شاہراہ این ایچ 48- کے سریپرمبدور - کرئی پیٹائی سیکشن کو چھ لین کا کرنے کا کام پونامالے - والاجاہ پیٹ سیکشن این ایچ- 48 کے چھ لین منصوبے کا حصہ تھا، جسے 2012 میں بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (بی او ٹی )-ٹول موڈ کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ تاہم، بی او ٹی کنسیشنیر کی جانب سے وعدوں کی عدم تکمیل کے باعث 2016 میں کنسیشن معاہدہ منسوخ کر دیا گیا اور باقی ماندہ کام کو 3 علیحدہ پیکیجز میں دوبارہ الاٹ کیا گیا۔
سر یپرمبدور – کرئی پیٹائی سیکشن کا کام، جوای پی سی موڈ کے تحت لیا گیا تھا، بنیادی طور پر تھرمل پاور پلانٹس کی جانب سے سائٹ پر پونڈ/فلائی ایش کی فراہمی نہ ہونے کے سبب مکمل نہ ہو سکا۔ یہ اشیاءسڑک کے پشتوں کی تعمیر، خاص طور پر کراسنگ اسٹرکچرز کے اپروچز جیسے کہ وہیکولر انڈر پاسز (وی یو پیز) ، پیڈسٹرین انڈر پاسز (پی یو پیز)، فلائی اوورز وغیرہ کی تعمیر کے لیے درکار تھا۔
کل 34 کلومیٹر میں سے 17.2 کلومیٹر کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی ماندہ 16.8 کلومیٹر کے کام کو تازہ بولی کے عمل کے ذریعے 341.50 کروڑ روپے کی لاگت سے 07.11.2024 کو الاٹ کیا گیا۔ اس کام کا آغاز 27.01.2025 کو ہوا اور اس کی مقررہ تکمیل اکتوبر 2026 ہے۔ تاحال اس منصوبے میں 20 فیصد فیزیکل پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔ منصوبے کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بنگلور – چنئی ایکسپریس وے کے فیز-III کا کام، جس کی مجموعی طوالت 106 کلومیٹر ہے (جس میں 94 کلومیٹر تمل ناڈو اور 12 کلومیٹر آندھرا پردیش میں واقع ہیں)، کو ہائبرڈ اینوئٹی ماڈ(ایچ اے ایم) کے تحت 4 پیکیجز میں شروع کیا گیا ہے۔
کام کے ابتدائی مرحلے میں زمین کا حصول، یوٹیلٹیز کی منتقلی، خاص طور پر ایکسٹرا ہائی ٹینشن(ای ایچ ٹی) لائنز/ٹاورز، ریلوے کلیئرنس، جنگلات کی منظوری وغیرہ سے متعلق مسائل سامنے آئے تھے۔ تاہم، اب یہ تمام مسائل حل کر دیے گئے ہیں اور موجودہ تاریخ تک کوئی بھی مسئلہ زیر التواء نہیں ہے۔
کل 4 پیکیجز میں سے 3 پیکیجز (80.2 کلومیٹر) میں کام جاری ہے جس کی فیزیکل پیش رفت تقریباً 90 فیصد ہے اور یہ امکان ہے کہ جولائی 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔ باقی ماندہ پیکیج (25.5 کلومیٹر) میں کام مئی 2025 سے بند ہے کیونکہ کنسیشنیر کی مالی مشکلات ہیں۔ کنسیشنیر کی جگہ کسی نئے کنسیشنیر کو لانے کا عمل زیر التواء ہے۔
موجودہ سڑک کو ٹریفک کے لیے قابلِ استعمال حالت میں برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم، مختلف ڈھانچوں کی تعمیر جاری ہونے کی وجہ سے مین کیریج وے پر ٹریفک کو سروس روڈ / ڈائی ورژن روڈ کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے، جس سے ٹریفک میں کچھ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے سروس روڈ کے حصے پر نیا اوورلے پہلے ہی مکمل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، چھ لین کے کام کے ساتھ ساتھ تمام اہم چوراہوں پر مناسب کراسنگ ڈھانچے فراہم کیے گئے ہیں، جیسے کہ وی یوپی، پی یو پی ، فلائی اوور، گریڈ سیپریٹر وغیرہ، جو پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے محفوظ کراسنگ کو یقینی بنائیں گے۔ ایسے مقامات جو بار بار حادثات کے باعث بلیک اسپاٹس کے طور پر شناخت کیے گئے ہیں، وہاں بھی مناسب کراسنگ ڈھانچے فراہم کیے گئے ہیں۔
****
ش ح۔ ع ح۔
U.NO.1252
(ریلیز آئی ڈی: 2220419)
وزیٹر کاؤنٹر : 7