خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

  پارلیمانی سوال: خلائی معیشت میں نجی شعبے کی شمولیت

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 2:30PM by PIB Delhi

  تاحال، مختلف خلائی سرگرمیوں کے لیے ان-اسپیس ڈیجیٹل پلیٹ فارم (آئی ڈی پی) پر اپنی صلاحیتیں درج کرانے والی نجی کمپنیوں کی کل تعداد تقریباً 1050 ہے۔

بھارتی خلائی پالیسی 2023 نجی اداروں کو مکمل طور پر خلائی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت اور سہولت فراہم کرتی ہے، جن میں لانچز کی انجام دہی، سیٹلائٹس کی تیاری اور آپریشنز، ڈیٹا کا حصول اور ترسیل، گراؤنڈ اسٹیشنز کا قیام و انتظام وغیرہ شامل ہیں۔

اب تک ان-اسپیس سیڈ فنڈ اور پری اِنکیوبیشن انٹرپرینیورشپ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 2.36 کروڑ روپے کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔

ان-اسپیس کی دہائی پر محیط وژن رپورٹ بھارت کی خلائی معیشت کو 2022 میں 8.4 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 2033 تک 44 ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کا دس سالہ روڈ میپ فراہم کرتی ہے، جس میں 11 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات بھی شامل ہیں۔ یہ دہائی وژن پلیٹ فارمز کی تعمیر، صنعتی ایکو سسٹم کی تشکیل، صنعت کو فعال بنانے اور بین الاقوامی رسائی پر مبنی ہے۔
ان-اسپیس نے اس وژن کو ایک دہائی وژن اسٹریٹیجی میں تقسیم کیا ہے، جو تین بنیادی ستونوں پر قائم ہے: آمدنی کی پیداوار، ایکو سسٹم کی ترقی، اور خلائی شعبے کی سرگرمیوں کو مہمیز دینا۔ آمدنی کی پیداوار لانچ سروسز کی کمرشلائزیشن، سیٹلائٹ اور گراؤنڈ آپریشنز، ارتھ آبزرویشن، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، سیٹلائٹ نیویگیشن اور مدار میں معیشت   کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔

خلائی معیشت کو مانگ میں اضافے، بین الاقوامی تعاون، اور خلائی ثقافت کے فروغ کے لیے ہدفی اقدامات کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے، تاکہ منڈیوں میں وسعت آئے، صارفین کی شمولیت بڑھے، اور صنعت کو خدمات کے پھیلاؤ اور برآمدات میں اضافے کے قابل بنایا جا سکے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :   1232 ) 


(रिलीज़ आईडी: 2220304) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी