الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بی آئی ایس اے جی-این اور کیو این یو لیبز نے ہندوستان کی کوانٹم لچکدار(ریزیلینٹ) سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کے لیے تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے
प्रविष्टि तिथि:
28 JAN 2026 7:46PM by PIB Delhi
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت قائم بھاسکراچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی-این) نے آج کیو این یو لیبز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ یہ اشتراک کوانٹم سے محفوظ سائبر سیکیورٹی حل کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

کامرس و صنعت اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتین پرساد، الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری جناب ایس کرشنن، ایم ای آئی ٹی وائی کے سینئر عہدیداران اور بی آئی ایس اے جی-این اور کیو این یو لیبز کی قیادت کرنے والی ٹیموں کی موجودگی میں اس مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔
عالمی سطح پر کوانٹم کمپیوٹنگ میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں، مستقبل کے سائبر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مستحکم بنانا ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد قومی ترجیحات کے مطابق دیسی، کوانٹم محفوظ سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں کو فروغ دے کر ہندوستان کی تیاریوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت بی آئی ایس اے جی-این کی مقامی کرپٹوگرافک سافٹ ویئر صلاحیتوں، جن میں “ویدک کاوچ” شامل ہے، کو کیو این یو لیبز کی جانب سے فراہم کردہ کوانٹم ہارڈویئر اور محفوظ بنیادی ڈھانچے کے پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ بی آئی ایس اے جی-این نے “ویدک کاوچ” کو تیار کیا ہے اور ہندوستان میں حکومت کی قیادت میں ابتدائی نفاذات میں سے ایک کا آغاز کیا ہے، جس میں کوانٹم لچکدار ویب سرورز اور ایک مقامی محفوظ ویب براؤزر شامل ہیں، جو کوانٹم رینڈم نمبر جنریشن (کیو آر این جی) سے مربوط ہیں۔
یہ مفاہمت نامہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، انضمام اور تعیناتی کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے تحت قابل اطلاق پالیسیوں کے مطابق سرکاری نظاموں، دفاعی نیٹ ورکس، اہم بنیادی ڈھانچے اور پبلک سیکٹر پلیٹ فارمز میں استعمال کے لیے ہارڈویئر پر مبنی، کوانٹم لچکدار سائبر سیکیورٹی حل تیار کیے جا سکیں گے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کامرس و صنعت اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتین پرساد نے کہا کہ ہندوستان نہ صرف آج کی ضروریات بلکہ آئندہ نسلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز تیار کر رہا ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل نظاموں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ آنے والی دہائیوں تک محفوظ اور قابل اعتماد رہیں۔
ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان کا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام مالیات، حکمرانی اور شہریوں پر مرکوز خدمات جیسے شعبوں میں وسعت اختیار کر رہا ہے، ڈیٹا اور ڈیجیٹل لین دین کی طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنانا ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔ حساس معلومات کے تحفظ اور ڈیجیٹل نظاموں پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کوانٹم لچکدار سائبر سیکیورٹی ٹیکنالوجیز کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کیو این یو لیبز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف گروتھ آفیسر نے کہا کہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی کیو این یو لیبز نے ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ہندوستان پر مبنی اور ملک پر مرکوز نقطہ نظر اختیار کیا ہے۔ بی آئی ایس اے جی-این کے ساتھ یہ اشتراک مقامی کوانٹم لچکدار سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں کی تعمیر کی جانب ایک اسٹریٹجک قدم ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہندوستان ابھرتے ہوئے عالمی سلامتی چیلنجوں سے ایک قدم آگے رہے۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ دیسی سافٹ ویئر کو ہندوستان میں ڈیزائن کیے گئے کوانٹم ہارڈویئر کے ساتھ جوڑ کر، یہ شراکت داری قومی ڈیجیٹل سلامتی کو خود کفیل اور مستقبل پر مبنی انداز میں مضبوط بناتی ہے، جو ہندوستان کے طویل مدتی اسٹریٹجک مفادات سے ہم آہنگ ہے۔
سینئر عہدیداران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اشتراک ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی چیلنجوں سے نمٹنے اور تحقیق سے عملی نفاذ کی جانب منتقلی کو ممکن بنانے میں حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تعاون کوانٹم لچکدار سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے بھی ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو ابھرتی ہوئی قومی ضروریات اور بدلتے ہوئے سلامتی کے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہے۔
یہ مفاہمت نامہ قومی کوانٹم مشن، ڈیجیٹل انڈیا، آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت @2047 کے طویل مدتی وژن کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اور محفوظ، قابل اعتماد اور مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ہندوستان کے عزم کو مزید تقویت دیتا ہے۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-1222
(रिलीज़ आईडी: 2219791)
आगंतुक पटल : 4