قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی، بھارت کے معذور افراد سے متعلق کور گروپ کی جانب سے’معذور سرکاری ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی دوبارہ تصدیق اور ازسرِنو جانچ سے پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ پر غور و خوض


چیئرمین، جسٹس جناب وی۔ راماسبرامنیم نے قانونی مضمرات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تجویز دی کہ تمام معذور ملازمین کی اجتماعی (ماس) دوبارہ تصدیق کے بجائے صرف مخصوص شبہات پر مبنی معاملات کی ہی جانچ کی جائے۔

اجلاس میں، جس میں این ایچ آر سی کے اراکین، سینئر افسران، سرکاری نمائندگان اور مختلف متعلقہ فریقین نے شرکت کی، معذوری کے سرٹیفکیٹس کے اجرا کے عمل کو مؤثر اور منظم بنانے سمیت دیگر اہم تجاویز پر بھی زور دیا گیا۔

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 5:24PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت نے نئی دہلی میں معذور سرکاری ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی دوبارہ تصدیق اور ازسرِنو جانچ سے پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے موضوع پر ہائبرڈ طرز میں کور گروپ کا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کی صدارت قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے چیئرمین جسٹس وی۔ راماسبرامنیم نے کی۔ اجلاس میں کمیشن کے اراکین جسٹس (ڈاکٹر) بِدیُت رنجن سارنگی اور محترمہ وجیا بھارتی سیانی، سکریٹری جنرل جناب بھارت لال، کور گروپ کے اراکین، خصوصی مدعوین، دیگر سینئر افسران، سرکاری نمائندگان اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔

جسٹس راماسبرامنیم  نے کہا کہ یہ بات فطری طور پر قابلِ فہم ہے کہ مرکز کی جانب سے 15 اکتوبر 2025 کو جاری کردہ نظرِ ثانی شدہ رہنما ہدایات اور معیاری عملی طریقۂ کار، جو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں معذوری کی تصدیق سے متعلق ہیں، کا اطلاق صرف آئندہ کے لیے نئے درخواست گزاروں پر ہونا مقصود ہے، نہ کہ ماضی سے تمام موجودہ مستفیدین کی ازسرِنو جانچ کے لیے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ تمام موجودہ مستفیدین پر اس معیاری طریقۂ کار کا ماضی سے اطلاق قانونی مضمرات کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا، اجتماعی یا بڑے پیمانے پر تصدیق کے بجائے جانچ کو صرف اُن معاملات تک محدود رکھا جانا چاہیے جہاں کسی مخصوص شبہے کی بنیاد موجود ہو۔

alt

انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط قوانین موجود ہیں، تاہم ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ بعض مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مستحق معذور افراد سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض معاملات میں مستفیدین سے متعلق قوانین کے غلط استعمال کے واقعات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

alt alt

جسٹس راماسبرامنیم  نے کہا کہ بعض اوقات متعلقہ حکام تک رسائی ایک مشکل عمل بن جاتی ہے اور عموماً صرف بااثر یا تعلیم یافتہ خاندان ہی نظام تک مؤثر انداز میں پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے شرکائے اجلاس سے اپیل کی کہ وہ معذور افراد (پی ڈبلیو ڈیز) کے حقوق کے تحفظ اور ان کی عزت و وقار کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات تجویز کریں جو قانونی فریم ورک اور اس کے نفاذ میں موجود نظامی خامیوں کے ازالے میں معاون ثابت ہوں۔

alt

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بِدیُت رنجن سارنگی نے کہا کہ معذوری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کو مناسب طبی نگہداشت اور درست سرٹیفکیشن فراہم کیا جانا ناگزیر ہے تاکہ انہیں قانونی فوائد تک رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے غلط یا جعلی معذوری سرٹیفکیٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناکافی یا کم درجے کی جانچ کے باعث اکثر افراد اپنے جائز حقوق اور مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں، جس کے لیے طبی جانچ بورڈز کی جانب سے مزید سخت اور مؤثر تصدیقی عمل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سماجی انصاف کے محکمے کے ذریعے معذور افراد کے لیے بحالی اور روزگار سے متعلق معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معذور افراد کی باعزت زندگی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اور ہمدردانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور معذوری کے سرٹیفکیٹس کے اجرا کے عمل کو مؤثر، شفاف اور منظم بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

alt

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کی رکن محترمہ وجیا بھارتی سَیانی نے کہا کہ معذوری ایسی کیفیت نہیں ہے جسے بار بار ثابت کرنے کی ضرورت ہو۔ معذور افراد کی مسلسل ازسرِنو تصدیق کے عمل کے باعث ان میں ذہنی دباؤ، خوف اور عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے، بالخصوص ملازمت کے تسلسل کے حوالے سے۔ انہوں نے طبی جانچ بورڈز تک ناکافی رسائی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ناقابلِ واپسی معذوریوں کے معاملات میں بار بار جانچ کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے معذوری کی عملی صلاحیت اور سہولت پر مبنی جانچ، گھر پر تصدیق اور خدمات کی فراہمی، مقررہ مدت میں طریقۂ کار کی تکمیل، سرکاری افسران کے لیے معذور افراد کے حقوق سے متعلق تربیت، برقی ذرائع کے ذریعے رسائی میں بہتری، اور شکایات کے ازالے کے لیے مخصوص شکایتی مراکز کے قیام پر زور دیا۔

alt

اس سے قبل، اجلاس کے ایجنڈے کا تعین کرتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے سکریٹری جنرل جناب بھارت لال نے کہا کہ معذور افراد کے ساتھ عزت و احترام اور وقار کے ساتھ برتاؤ کیا جانا چاہیے، ساتھ ہی قانونی دفعات کے غلط استعمال سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اکتوبر 2025 میں جاری کردہ معیاری عملی طریقۂ کار پر سختی سے عمل درآمد پر زور دیا، جس میں معذوری کے سرٹیفکیٹس کی برقی تصدیق، معذوری کی نوعیت، شرح اور عملی موزونیت کی جانچ، نیز اپیل کے نظام کی فراہمی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ معذوری کی ازسرِنو جانچ بعض اوقات مداخلت آمیز محسوس ہوتی ہے اور اس سے متعلقہ افراد کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے وقار کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ 2016 کے قانون کے تحت ریزرویشن کی شرح 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دی گئی، تاہم غلط استعمال اور سماجی اقدار کی کمزوری کے باعث حقیقی معذور افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرکاری افسران اور ماہرین کی فعال شرکت اور اجتماعی غور و خوض کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر سفارشات اور تجاویز سامنے آئیں گی۔

alt

اس سے قبل، قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کی جوائنٹ سیکریٹری محترمہ سیدنگپوئی چھکچھواک نے اجلاس کے تین تکنیکی سیشنوں کا اجمالی خاکہ پیش کیا۔ یہ سیشن درج ذیل موضوعات پر مشتمل تھے:انتظامی نگرانی کو معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون 2016 کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، تصدیقی عمل میں وقار کے تحفظ اور عدم امتیاز کو یقینی بنانا اور معذور افراد کی منفرد شناختی نظام کے فریم ورک کے تحت برقی تصدیق کو مضبوط بنانا۔

محکمۂ بااختیار بنائے جانے برائے معذور افراد کے جوائنٹ سیکریٹری جناب راجیو شرما نے کیمپ کے طرز پر معذوری کی جانچ کے عمل سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے محکموں، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کی جانب سے جعلی معذوری سرٹیفکیٹس سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کا اعتراف کیا۔ ازسرِنو جانچ کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمے کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے اور سرکاری ملازمتوں میں تقرری کے مرحلے پر پوری احتیاط اور جانچ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون 2016 کی دفعہ 91 کا حوالہ دیا، جس کے تحت جعلی دعووں پر سزا، بشمول قید اور جرمانہ، مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کی نیت ابتدائی مرحلے پر معذوری کے سرٹیفکیشن کی باریک بینی سے جانچ ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بعض اوقات جعل سازی کے معاملات بعد کے مرحلے میں سامنے آتے ہیں، اور ایسی مثالوں کا حوالہ دیا جن میں ملازمت میں تقرری کے کافی عرصے بعد ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایسے معاملات میں کی جانے والی کارروائی قانون کے تحت جائز ہے۔

ڈاکٹر ایس۔ گووند راج، کمشنر برائے معذور افراد نے کہا کہ تصدیقی طریقۂ کار کو ہدف پر مبنی اور متناسب ہونا چاہیے تاکہ حقیقی معذور افراد کو بلا وجہ دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ رہنما اصول اجتماعی ازسرِنو جانچ کے بجائے توثیق پر زور دیتے ہیں۔

alt

اجلاس میں قومی انسانی حقوق کمیشن کے سینئر افسران سمیت متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں محترمہ انوپما نیلیکر چندرا (ڈائریکٹر جنرل)، جناب جوگندر سنگھ (رجسٹرار، قانون)، جناب سمیر کمار (جوائنٹ سیکریٹری)، ڈاکٹر پوروَا مِتّل (اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ دہلی، اور قومی انسانی حقوق کمیشن کی خصوصی نگران برائے خواتین و معذوری کے امور)، پروفیسر (ڈاکٹر) امیتا دھاندا، ڈاکٹر ستیندر سنگھ (ڈائریکٹر و پروفیسرِ فعلیات، یونیورسٹی کالج آف میڈیکل سائنسز و جی ٹی بی اسپتال)، ڈاکٹر ویبھو بندھاری (بانی، سوولمبن فاؤنڈیشن)، جناب مورلی دھرن وشواناتھ (جنرل سیکریٹری، معذور افراد کے حقوق کا قومی پلیٹ فارم)، جناب راجیو راتوری (کنسلٹنٹ)، جناب ارمان علی (ایگزیکٹو ڈائریکٹر، معذور افراد کے لیے روزگار کے فروغ کا قومی مرکز)، جناب اَکھِل ایس پال (ڈائریکٹر، سینس انٹرنیشنل، بھارت)، اور جناب نِپن ملہوترا (شریک بانی، نِپمین فاؤنڈیشن) کے علاوہ دیگر معزز ماہرین اور نمائندگان شامل تھے۔

alt

غور و خوض کے دوران سامنے آنے والی دیگر اہم تجاویز درج ذیل تھیں:

  • معذور سرکاری ملازمین کی اجتماعی یا بلا امتیاز طبی ازسرِنو جانچ پر پابندی عائد کی جائے،
  • معذور افراد کی منفرد شناخت پر مبنی برقی تصدیق کو بنیادی طریقۂ کار کے طور پر اختیار کیا جائے، جبکہ طبی ازسرِنو جانچ کو صرف واضح، متعین اور شواہد پر مبنی شبہے کی صورت میں بطور استثنیٰ اپنایا جائے،
  • کسی بھی تصدیقی عمل میں حفاظتی اقدامات کو شامل کیا جائے، جن میں تحریری وجوہات کی فراہمی، جواب دینے کا موقع، مقررہ مدت میں فیصلے، واضح حقِ اپیل، اور عمل کے دوران ملازمت سے متعلق کسی منفی کارروائی سے تحفظ شامل ہو،
  • تصدیق کے عمل کے دوران وقار پر مبنی ضابطۂ کار اختیار کیا جائے، جس میں مناسب سہولیات کی فراہمی، رسائی میں بہتری، برقی ذرائع کے اختیارات، اور مستقل و ناقابلِ واپسی معذوریوں کی صورت میں غیر ضروری جانچ سے استثنا شامل ہو،
  • احتسابی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ معیاری طریقۂ کار کے مقاصد اور قانونی تحفظات سے کسی بھی انحراف کو درج کیا جائے، اس کا جائزہ لیا جائے اور مقررہ مدت میں اصلاح کی جائے،
  • ناقابلِ واپسی معذوری کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ملازمین کے لیے معذوری کے سرٹیفکیٹس کے دوبارہ اجرا کی ضرورت کو ختم کیا جائے۔

کمیشن مختلف متعلقہ فریقین کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز اور آراء پر مزید غور و خوض کے بعد حکومت کے لیے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گا، تاکہ معذور افراد کے حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1210


(रिलीज़ आईडी: 2219780) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी