وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

حیدرآباد میں منعقدہ وِنگز انڈیا 2026 پروگرام میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وزیرِ اعظم کے خطاب کا اصل متن

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 7:18PM by PIB Delhi

مرکزی وزارتی کونسل میں میرے معزز رفقا، جناب رام موہن نائیڈو جی اور جناب مرلی دھر موہول جی، دنیا بھر سے تشریف لائے معزز وزراء، عالمی ہوابازی صنعت کے قائدین، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان، معزز مندوبین، معزز خواتین و حضرات!

نمسکار !

ونگز انڈیا کے اس اہم پلیٹ فارم پر میں صنعت کے تمام قائدین(انڈسٹری لیڈر)، ماہرین اور سرمایہ کاروں کو  مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جیسا کہ آپ سب بخوبی واقف ہیں، ہوا بازی کی صنعت کا اگلا مرحلہ بے شمار امنگوں اور امکانات سے بھرپور ہے، اور ہندوستان اس میں ایک نمایاں عالمی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ طیارہ سازی، پائلٹ تربیت، ایڈوانسڈ ایئر موبیلٹی، اور ایئرکرافٹ لیزنگ جیسے شعبوں میں ہندوستان آپ کے سامنے وسیع مواقع کے ساتھ موجود ہے۔ اسی لیے ونگز انڈیا کی یہ سربراہی کانفرنس ہم سب کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

دوستو!

گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان کے ہوا بازی کے شعبے میں ایک تاریخی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان اُن ممالک میں شمار ہوتا تھا جہاں ہوائی سفر صرف ایک محدود طبقے تک ہی ممکن تھا، لیکن آج منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوابازی منڈی ہے۔مسافروں کی آمدورفت میں بے مثال اضافہ ہوا ہے اور ہندوستانی ایئر لائنز کے بیڑے میں تیزی سے وسعت آئی ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہندوستانی ایئر لائنز نے 1,500 سے زائد طیاروں کے آرڈرز دیے ہیں۔

دوستو!

یہ تیز رفتار ترقی اس لیے ممکن ہو سکی ہے کیونکہ ہماری حکومت ایک طویل مدتی وژن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہندوستان میں ہوائی سفر اب خصوصی نہیں بلکہ جامع بنتا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ ملک کے ہر شہری کے لیے ہوائی سفر کو آسان اور قابلِ رسائی بنایا جائے۔ اسی سوچ کے تحت ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں کو ہوائی اڈوں کے نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے۔
2014 میں جہاں ہندوستان میں صرف 70 ہوائی اڈے تھے، وہیں آج یہ تعداد بڑھ کر 160 سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی محض ایک دہائی میں ہوائی اڈوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم نے ملک بھر میں 100 سے زائد ہوائی پٹیوں کو فعال کیا ہے اور ساتھ ہی شہریوں کے لیے سستی پروازوں کی اسکیم شروع کی ہے۔
اُڑان اسکیم کے تحت اب تک تقریباً 1.5 کروڑ مسافر ایسے راستوں پر سفر کر چکے ہیں جو پہلے موجود ہی نہیں تھے۔

دوستو!

جیسے جیسے ہندوستان ترقی کے نئے اہداف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، فضائی سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔ اندازہ ہے کہ 2047 تک ملک میں ہوائی اڈوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر جائے گی، جو ایک وسیع اور مضبوط نیٹ ورک ہوگا۔ حکومت اُڑان اسکیم کے اگلے مرحلے پر بھی کام کر رہی ہے، جس سے علاقائی اور سستے ہوائی رابطے کو مزید تقویت ملے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ سمندری طیاروں کے آپریشنز(سی پلین خدمات کے آپریشنز) میں بھی توسیع کی جا رہی ہے، تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں تک فضائی رابطے کو مضبوط بنایا جا سکے۔

دوستو!

حکومت ہند سیاحت کے شعبے کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ملک بھر میں نئے سیاحتی مقامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ان مقامات تک پہنچنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ہوائی سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ہوائی سفر کی مانگ میں مزید غیر معمولی اضافہ ہوگا، جس سے آپ سب کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

دوستو!

جب ہندوستان ایک بڑا عالمی ہوابازی مرکز بن رہا ہے، تو یہ ضروری ہے کہ ہم اس شعبے میں دوسروں پر انحصار کم کریں اور خود کفالت کی سمت مضبوطی سے آگے بڑھیں۔ یہی سوچ ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی سودمند ثابت ہوگی۔ اسی وژن کے تحت ہندوستان طیاروں کے ڈیزائن، تیاری اور ایم آر او ایکو سسٹم پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
آج بھی ہندوستان طیاروں کے پرزہ جات کا ایک بڑا مینوفیکچرر اور سپلائر ہے۔ ہم فوجی اور ٹرانسپورٹ طیاروں کی تیاری کا آغاز کر چکے ہیں اور شہری طیاروں کی تیاری کی سمت بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ہندوستان کی جغرافیائی حیثیت، مضبوط گھریلو فیڈر نیٹ ورک اور مستقبل میں لانگ ہال پروازوں کی توسیع ہماری بڑی طاقت ہیں۔

دوستو!

وہ دن دور نہیں جب ہندوستان میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اور لینڈنگ (ای وی ٹی او ایل) طیارے ہوا بازی کے شعبے کو ایک نئی جہت دیں گے۔ یہ ٹیکنالوجی سفر کے وقت میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ہم پائیدار ہوابازی ایندھن پر بھی نمایاں پیش رفت کر رہے ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں ہندوستان گرین ایوی ایشن فیول کا ایک بڑا پیدا کنندہ اور برآمد کنندہ بننے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

دوستو!

ہم ہوا بازی کے شعبے میں مسلسل اصلاحات کر رہے ہیں، جن کی بدولت ہندوستان گلوبل ساؤتھ اور دنیا کے درمیان ایک اہم فضائی گیٹ وے بن کر ابھر رہا ہے۔ یہ صورتِ حال سرمایہ کاروں اور مینوفیکچررز کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے۔

دوستو!

آج ہندوستان نہ صرف مختلف خطوں کو بلکہ وہاں کی منڈیوں کو بھی آپس میں جوڑ رہا ہے۔ ہمارے شہر بندرگاہوں سے کثیر النوع ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کے ذریعے منسلک ہو رہے ہیں۔ ہندوستان کا ہوابازی وژن فضائی کارگو پر بھی مساوی طور پر مرکوز ہے۔
کارگو کی نقل و حمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے حکومت تمام ضروری ریگولیٹری اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل کارگو پلیٹ فارمز پورے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنا رہے ہیں، جبکہ آف ایئرپورٹ پروسیسنگ کے انتظامات سے ہوائی اڈوں پر دباؤ کم ہو رہا ہے۔ جدید گوداموں کی تعمیر سے کارگو ہینڈلنگ تیز اور مؤثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں لاجسٹک لاگت اور ترسیلی وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔
آنے والے وقت میں ہندوستان ایک مضبوط اور مسابقتی ٹرانس شپمنٹ ہب کے طور پر ابھرے گا۔

دوستو!

میں تمام سرمایہ کاروں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ہندوستان کے گودام سازی، فریٹ فارورڈنگ، ایکسپریس لاجسٹکس اور ای کامرس جیسے شعبوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

دوستو!

دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جہاں ہوا بازی کی صنعت کے لیے اتنا وسیع پیمانہ، اتنا مضبوط پالیسی استحکام اور اتنا سازگار تکنیکی ماحول موجود ہو۔ میں دنیا کے تمام ممالک، صنعت کے قائدین اور اختراع کاروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ہمارے ترقیاتی سفر میں طویل مدتی شراکت دار بنیں۔
میں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہندوستان کی پرواز کے شریک پائلٹ بن کر ہمارے ساتھ شامل ہوں۔

آخر میں، میں ایک بار پھر ونگز انڈیا کے کامیاب انعقاد پر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-1221


(रिलीज़ आईडी: 2219775) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati