صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بجٹ اجلاس کے آغاز پر صدر جمہوریہ کے خطاب میں صحت عامہ کے نظام کی مضبوطی کو اجاگرکیاگیا


آیوشمان بھارت جن آروگیہ یوجنا کے آغاز سے اب تک 11 کروڑ سے زیادہ اسپتالوں میں علاج فراہم کیے گئے ہیں ، جس سے گزشتہ سال 2.5 کروڑ غریب اور ان شہریوں کو فائدہ پہنچاجنہیں بیماریوں کازیادہ خطرہ لاحق ہے:  محترمہ  دروپدی مرمو

تقریباً ایک کروڑ آیوشمان ویے وندنا کارڈ جاری کیے گئے، تقریباً 8 لاکھ بزرگ شہریوں کو صحت کی مفت دیکھ بھال فراہم کی گئی

ملک بھر میں 1.80  لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر کام کر رہے ہیں، جس سے قابل رسائی بنیادی صحت خدمات کو یقینی بنایا جا رہا ہے

صدرجمہوریہ نے مشن موڈ عوامی صحت کی کامیابیوں کو اجاگر کیا، جن میں سیکل سیل انیمیا مشن کے تحت 6.5 کروڑ افراد کی جانچ اور جاپانی انسفیفلیٹس پر قابو پانے کے اقدامات شامل ہیں

نئے میڈیکل کالجوں، کینسر انسٹی ٹیوٹ اور خواتین اور بچوں کے اسپتال کے ذریعے شمال مشرق میں صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا: صدر جمہوریہ ہند

’سوستھ ناری ، سشکت پریوار‘کے ذریعے 7  کروڑ خواتین مستفید ہوئیں، صدر جمہوریہ نے خواتین کی صحت اورانہیں بااختیار بنانے کے عزم پر زور دیا

صدرجمہوریہ کے خطاب میں صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بڑھانے کے لیے حکومت کی کوششوں پر زور دیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 1:22PM by PIB Delhi

معزز صدرجمہوریہ ہند، محترمہ دروپدی مرمو، نے بجٹ اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں اپنے رسمی خطاب میں حکومت کے وژن ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘  کا خاکہ پیش کیا اور عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور تمام شہریوں کے لیے صحت کے نتائج کو بہتر بنانے پر حکومت کے مسلسل اقدامات کو اجاگر کیا۔ خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت اور فلاح و بہبود انسانی سرمایہ کی ترقی اور قومی پیش رفت کے لیے ایک نہایت اہم ستون ہیں، اور خاص طور پر غریب، کمزور اورجنہیں بیماری کا زیادہ خطرہ لاحق ہے ان طبقات کے لیے معیاری، قابل رسائی اور سستی طبی سہولیات کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

صدرجمہوریہ کے خطاب میں صحت کو جامع قومی ترقی کے ایک کلیدی ستون کے طور پر اجاگر کیا گیا اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کےصحت کے سلسلے میں اہم اقدامات کے تحت حاصل ہونے والی قابلِ قدر پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ صدرجمہوریہ نے خاص طور سے کہا کہ آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت آغاز سے اب تک 11 کروڑ سے زائد افراد کو مفت طبی علاج فراہم کیا گیا، جس سے ثانوی اور جدید درجے کی طبی سہولیات تک رسائی میں اضافہ ہوا۔ صرف پچھلے سال میں ہی تقریباً 2.5  کروڑ غریب اور بیماریوں میں زیادہ  مبتلا ہونے والےشہریوں نے سرکاری صحت کے منصوبوں کے تحت مفت علاج حاصل کیا۔

بزرگ شہریوں کے لیے متعلقہ اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے خطاب میں یہ بات کہی گئی کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تقریباً 1 کروڑ آیوشمان ویے وندنا کارڈز جاری کیے گئے، جن کے ذریعے تقریباً 8 لاکھ بزرگ شہریوں کو مفت طبی خدمات فراہم کی گئیں۔

صدرجمہوریہ نے ملک بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا، جس کے تحت فی الحال 1.80  لاکھ آیوشمان آروگیہ مندروں کی قومی سطح پر سرگرم ہیں۔ یہ مراکز خاص طور پر دیہی، دور دراز اور محروم علاقوں میں جامع بنیادی صحت کی خدمات کی ہرکسی تک فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔

امراض کی روک تھام اور عوامی صحت کے انتظام کے لیے حکومت کے مشن موڈ کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہوئے، خطاب میں کہا گیا کہ نیشنل سیکل سیل انیمیا کوختم کرنے کے مشن کے تحت 6.5  کروڑ سے زائد افراد کی جانچ کی گئی، خاص طور پر دور دراز، دیہی اور قبائلی علاقوں میں، جس سے بیماری کی بروقت تشخیص اور مؤثر روک تھام ممکن ہوئی۔ مسلسل اقدامات کے نتیجے میں خاص طور پر اتر پردیش کے وبائی اضلاع میں جاپانی انسفیفلیٹس اور متعلقہ بیماریوں پر بھی مؤثر کنٹرول حاصل ہوا۔

ساتھ ہی، یہ دہائی شمال مشرقی بھارت میں صحت اور سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی ہے۔ایٹانگر میں اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ اور شیو ساگر، آسام میں ایک میڈیکل کالج کے قیام سے لاکھوں کنبوں کے علاج میں نمایاں مدد ملے گی۔ اسی طرح، سکم کے سیچے میں ایک میڈیکل کالج اور اگرتلہ میں خواتین و بچوں کے اسپتال کی تعمیر سے اہم صحت کی سہولیات فراہم ہوں گی۔ ایسے اقدامات شمال مشرقی بھارت میں مضبوط اور جامع صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں قابلِ قدر رول ادا کر رہے ہیں۔

معزز صدرجمہوریہ نے حکومت کے اس عزم کو بھی اجاگر کیا کہ وہ نہ صرف خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کوشاں ہے بلکہ ان کی مجموعی فلاح و بہبود، بشمول غذائیت، صحت اور تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ ستمبر میں منعقد کی گئی ‘سوستھ ناری، سشکت پریوار’ مہم کے تحت تقریباً 7 کروڑ خواتین کی صحت کی جانچ کی گئی، جس سے ملک بھر میں خواتین کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملی۔ حکومت کے ترقی پسندانہ نظریے اور پالیسیوں کے نتیجے میں خواتین نے قومی سطح کے ہر حوصلہ افزا شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

صدرجمہوریہ نے یہ بھی فخر کے ساتھ کہاکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھارت کو ٹرایکومہ سے مبرا ملک قرار دیا ہے، جو ملک کی عوامی صحت کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور بھارت کی روک تھام کی جانے والی بیماریوں کو ختم کرنے کی مسلسل کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی علامت ہے۔

صدر جمہوریہ کے خطاب نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرے، اہم صحت منصوبوں کے تحت کوریج میں اضافہ کرے اور شہریوں پر مرکوز اصلاحات کو جاری رکھے تاکہ ملک کے لیے ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے لیے تیار صحت کا نظام قائم کیا جا سکے۔

******

( ش ح ۔ اع خ ۔ م ا )

Urdu.No-1186


(रिलीज़ आईडी: 2219599) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali-TR