نیتی آیوگ
نیتی آیوگ نے جے پور میں بھارت میں اینڈ آف لائف وہیکل (ای ایل وی)، فاضل ٹائروں، ای۔ویسٹ اور لیتھیئم آئن بیٹریوں میں سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے موضوع پر تین رپورٹوں کا اجرا کیا
प्रविष्टि तिथि:
27 JAN 2026 7:14PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ نے 22 جنوری 2026 کو جے پور میں میٹیریل ری سائیکلنگ ایسوسی ایشن آف انڈیا (ایم آر اے آئی) کی جانب سے منعقدہ انٹرنیشنل میٹیریل ری سائیکلنگ کانفرنس (آئی ایم آر سی) کے موقع پر ”بھارت میں اینڈ آف لائف وہیکل (ای ایل وی)، فاضل ٹائروں، ای۔ویسٹ اور لیتھیئم آئن بیٹریوں میں سرکلر اکانومی کو فروغ دینا“ کے موضوع پر تین رپورٹوں کا اجرا کیا۔ ان رپورٹوں میں بھارت کے سرکلر اکانومی ایکو سسٹم کو درپیش چیلنجوں کا تجزیہ کیا گیا ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، شعبے کی باضابطہ تشکیل، ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر رسپانسبلٹی (ای پی آر) کے فریم ورک کو مضبوط بنانے اور آمدنی کے حصول کے لیے معاشی امکانات میں اضافے سے متعلق سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
معزز وزیر اعظم کے وکست بھارت 2047 کے وژن کو کم کاربن اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی ترقیاتی راستے کی جانب منتقلی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جس کے لیے صاف توانائی کے نظاموں کی بڑے پیمانے پر تنصیب ناگزیر ہے۔ الیکٹرانک اور برقی آلات، لیتھیئم آئن بیٹریاں اور آٹوموٹو گاڑیاں ڈیجیٹلائزیشن کو تقویت دینے، نقل و حرکت کو بہتر بنانے اور مجموعی توانائی منتقلی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 2016 میں 50 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 20.8 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک مجموعی گاڑیوں کی فروخت میں ای وی کا حصہ 30 فیصد حاصل کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں لیتھیئم آئن بیٹریوں کی طلب 2025 میں 29 گیگاواٹ فی گھنتہ سے بڑھ کر 2035 تک 248 گیگاواٹ فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بھارت میں اینڈ آف لائن وہیکل کی تعداد 2025 میں 23 ملین سے بڑھ کر 2030 تک 50 ملین ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح ای۔ویسٹ 2024 میں 6.19 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2030 تک 14 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اینڈ آف لائن وہیکل، فاضل ٹائروں، ای۔ویسٹ اور لیتھیئم آئن بیٹریوں کے پائیدار انتظام سے متعلق نمایاں چیلنج درپیش ہیں۔ اس پس منظر میں، ان شعبوں کے لیے سرکلر اکانومی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک ناگزیریت بھی ہے، جو پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کے وکست بھارت 2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
اہم شراکت داروں، جن میں متعلقہ وزارتیں، ریگولیٹر، صنعت اور علمی شراکت دار شامل ہیں، کے ساتھ وسیع مشاورت کے ذریعے تیار کی گئی یہ رپورٹ موجودہ چیلنج کا بروقت اور جامع جائزہ پیش کرتی ہیں اور سرکلر اکانومی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کے لیے قابل عمل سفارشات فراہم کرتی ہیں۔ یہ اقدامات وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنائیں گے، مواد کی سلامتی کو مضبوط کریں گے اور بھارت میں پائیداری کو فروغ دیں گے۔
- بھارت میں اینڈ آف لائن وہیکل (ای ایل وی) کی سرکلر اکانومی کو بہتر بنانا:
https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-01/Enhancing-Circular-Economy-of-End-of-Life-Vehicles-ELVs-in-India.pdf
- بھارت میں فاضل ٹائروں کی سرکلر اکانومی کو بہتر بنانا:
https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-01/Enhancing-Circular-Economy-of-Waste-Tyres-in-India.pdf
- بھارت میں فاضل الیکٹرانک اور برقی آلات (ای۔ویسٹ) اور لیتھیئم آئن بیٹریوں کی سرکلر اکانومی کو بہتر بنانا:
https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-01/Advancing-Circular-Economy-of-Waste-Electronic-and-Electrical-Equipment-Ewaste-and-Lithium-Ion-Batteries-in-India.pdf

********
ش ح۔ ف ش ع
U: 1160
(रिलीज़ आईडी: 2219413)
आगंतुक पटल : 3