سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی  وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گزشتہ روز کرتویہ پتھ پر یومِ جمہوریہ کی تقریب  میں (پرفارم) مظاہرہ کرنے والی جموں و کشمیر کی جھانکی ٹیم کے لیے چائے پارٹی کا اہتمام کیا


شاندار کندہ شدہ کشمیری سموور سے لے کر ڈوگرہ چھجا تک ، جموں و کشمیر کی جھانکی ہندوستان کے ثقافتی تنوع کی عکاسی کی

جامنی رنگ کے لیونڈر کے کھیت، باشولی کی پیچیدہ چھوٹی مصوری، اور زندہ دل پہاڑی لوک رقص " کڈ " نے منظر کو جاندار بنا دیا

جموں و کشمیر کی جھانکی وزیر اعظم مودی کے ثقافتی ورثے میں مضمر ترقی کے  نقطۂ نظر (وژن )کی عکاسی کرتی ہے

جموں و کشمیر کے دستے سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ثقافتی فخر اور ترقی کو ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے

प्रविष्टि तिथि: 27 JAN 2026 7:46PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج جموں و کشمیر کی جھانکی ٹیم کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی چائے کی تقریب(ہائی ٹی گیٹ ٹو گیدر) کی میزبانی کی، جس نے گزشتہ روز یوم جمہوریہ کی تقریبات میں کرتویہ پتھ پر پرفارم کیا تھا۔

یوم جمہوریہ کی پریڈ کے دوران جموں و کشمیر کی جھانکی کو خطے کے ثقافتی تنوع کی متاثر کن اور گہری تصویر کشی کے لیے وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ اس کے ایک دن بعد، وزیر نے جھانکی کے فنکاروں کے ساتھ فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر تفصیلی بات چیت کی۔ جھانکی نے جموں و کشمیر کو ایک مربوط ثقافتی سلسلے کے طور پر پیش کیا، جہاں ورثہ، معاشرتی زندگی اور فنکارانہ اظہار ایک منظم اور شاندار بصری کہانی میں یکجا نظر آتے ہیں۔

جھانکی سے وابستہ فنکاروں، ڈیزائنرز اور عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کرتویہ پتھ پر ان کی نظم و ضبط پر مبنی پیشکش اور اجتماعی کوشش کے لیے انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ جھانکی جموں و کشمیر کی ثقافتی گہرائی کو ملک بھر کے سامعین تک پہنچانے میں کامیاب رہی، جس سے دور بیٹھے لوگ بھی خطے کی روایات، رنگوں اور ت دھنوں سے جڑنے کا موقع حاصل کر سکے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ اس طرح کی ثقافتی نمائشیں وزیر اعظم نریندر مودی کے وسیع تر قومی وژن سے ہم آہنگ ہیں، جس میں ہندوستان کا ترقیاتی سفر اس کے تہذیبی ورثے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی سطح پر مقامی روایات، دستکاری اور سماجی زندگی کی نمائش اس خیال کی عکاسی کرتی ہے کہ ثقافتی اعتماد اور ترقی کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔

جھانکی کے بصری عناصر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے لیوینڈر کے جامنی رنگ کے کھیتوں، بشولی کے پیچیدہ چھوٹے فن اور متحرک لوک رقص کی روایات کا ذکر کیا، جو مل کر جموں و کشمیر کی فنکارانہ دولت اور ثقافتی تسلسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ علاقائی شناخت کس طرح بڑے قومی تانے بانے میں حصہ لیتی ہے۔

جھانکی کی بصری داستان کا آغاز ایک عظیم الشان کندہ شدہ سموور سے ہوا، جو کشمیری مہمان نوازی کی علامت ہے، اور اس کے بعد روایتی لکڑی کے فن تعمیر اور ہاؤس بوٹ کی نمائندگی کی گئی۔ مرکز میں ایک گاؤں تھڈا پر ڈوگرا چھجا کی پرفارمنس پیش کی گئی، جس میں جموں خطے کی سماجی زندگی اور روایات کے تسلسل کو دکھایا گیا۔ روف، کڈ، جاگرنا، پہاڑی، گوجری اور ڈمہل جیسے پرجوش لوک رقصوں نے تحریک اور توانائی میں اضافہ کیا، جبکہ ولو ٹوکری میں ترتیب دیے گئے رنگین پیپر-ماچے نوادرات کی اختتامی نمائش نے جموں و کشمیر کو تخلیقی صلاحیتوں اور کاریگری کے زندہ کینوس کے طور پر پیش کیا۔

بات چیت کے دوران وزیر موصوف نے دستوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ روایتی فن کی شکلوں کو عصری پلیٹ فارمز کے مطابق ڈھالتے ہوئے ان کے تحفظ اور فروغ کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت @2047 کی طرف ہندوستان کا سفر نہ صرف اقتصادی اور تکنیکی ترقی سے بلکہ اس کی ثقافتی جڑوں اور کمیونٹی کی شرکت کی طاقت سے بھی تشکیل پائے گا۔

وزیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یوم جمہوریہ پریڈ جیسے پلیٹ فارم ہندوستان کے ثقافتی تنوع کو ملک کے طویل مدتی ترقیاتی سفر میں طاقت، اتحاد اور تحریک کے ذریعے کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-1157


(रिलीज़ आईडी: 2219363) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी