اقلیتی امور کی وزارتت
اقلیتی امور کی وزارت اور آئی آئی ٹی دہلی نے اسکیم کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے ’مبنی برشمولیت ہنرمندی والا مستقبل: پی ایم وکاس کے لیے ایک ملٹی – اسٹیک ہولڈر ڈائیلاگ‘ ورکشاپ کا انعقاد کیا
प्रविष्टि तिथि:
27 JAN 2026 6:36PM by PIB Delhi
اقلیتی امور کی وزارت (ایم او ایم اے) نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) دہلی کے مینجمنٹ اسٹڈیز کے محکمے کے تعاون سے آج آئی آئی ٹی دہلی کے ریسرچ اینڈ انوویشن پارک میں ’’مبنی برشمولیت ہنرمندی والا مستقبل: پی ایم وکاس کے لیے ایک ملٹی – اسٹیک ہولڈر ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ایک ورکشاپ منعقد کی۔
ورکشاپ نے سینئر پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، صنعت کے رہنماؤں، اور بین الاقوامی تنظیموں کے ماہرین کو پردھان منتری وراثت کا سموردھن (پی ایم وکاس) اسکیم کو مضبوط بنانے پر غور و فکر کرنے کے لیے اکٹھا کیا۔ اس مکالمے کا مقصد پی ایم وکاس کو لیبر مارکیٹ کی ابھرتی ہوئی ضروریات، صنعت کی طلب، اور وکست بھارت 2047 کے قومی وژن سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ورکشاپ کے دوران، آئی آئی ٹی دہلی نے مہارت کے لیے ایک جامع فریم ورک پیش کیا، جس کی شناخت سخت ثانوی تحقیق کے ذریعے کی گئی، تاکہ ثبوت پر مبنی پالیسی کی سفارشات فراہم کی جاسکیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، اقلیتی امور کی وزارت کے سکریٹری، ڈاکٹر چندر شیکھر کمار نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی وسائل کی ترقی وکست بھارت 2047 کی جانب ہندوستان کے سفر میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لیبر فورس کی شرکت کو بڑھانے کے لیے خواتین میں صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے ہدفی مداخلتیں کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سی ایس کمار نے اسکول کی تعلیم سے آگے کی مہارتوں میں مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت پر مزید روشنی ڈالی۔ انہوں نے انٹرپرائزز کو مائیکرو سے میڈیم اور بڑے انٹرپرائزز تک بڑھانے کے چیلنج پر روشنی ڈالی اور ایک ایسے نظام کی وکالت کی جو نوجوانوں کو صنعتی شراکت کے ذریعے اجرت سے متعلق روزگار سے انٹرپرینیورشپ کی طرف منتقل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

آئی آئی ٹی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر رنگن بنرجی نے علم اور صلاحیت سازی کے ذریعہ اثر پیدا کرنے کے لیے ادارے کی عہدبستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قبائلی زبانوں کے لیے مستقبل کی ہنرمندیوں کو سیکھنے کے لیے ماڈلوں کے طو رپر مخصوص تکنیکی مداخلتوں مثلاً اے آئی پر مبنی مترجم ’آدی وانی‘ اور قبائلیوں کی خاطرخواہ آبادی علاقوں میں مخصوص تربیتی پہل قدمیوں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے لیے 10 سالہ وژن کا خاکہ پیش کیا تاکہ وزارت کے اقدامات کی حمایت کی جائے اور ایک جامع معاشرے کی تشکیل میں مدد کی جائے۔
ورکشاپ میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال شامل تھا، ان میں نئے ہنر کی پیشگوئی، خواتین صنعت کاران، خاطرخواہ فنانسنگ، شمولیت اور نتائج کا پتہ لگانا جیسے موضوعات شال تھے۔ ورکشاپ قومی ترجیحات کے ساتھ مضبوطی سے ہم آہنگ مطالبے پر مبنی ہنرمندی ایکونظام پر اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

کلیدی نتائج میں اجرت پر ملازمت کے مساوی متبادل کے طور پر کاروبار کو فروغ دینے اور ہدف بند ایکسلریٹر اور سرپرستی کے ذریعے خواتین کی افرادی قوت کی شرکت کو بڑھانے پر مضبوط توجہ کی ضرورت کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ متعلقہ فریقوں نے تکنیکی ترقیات جیسے کہ اے آئی ٹولز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو روایتی ہنر مندی کے شعبوں میں مربوط کرنے کی اہم ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ ورثے کے دستکاری کو جدید بنایا جا سکے۔ روڈ میپ میں صنعتی شراکت داری کو ادارہ جاتی بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ تمام ہنر مندی کے اقدامات کو وکست بھارت @2047 کے مستقبل کے لیے تیار اہداف کے لیے محنت سے تیار کیا گیا ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:1154
(रिलीज़ आईडी: 2219311)
आगंतुक पटल : 6