سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر نتن گڈکری نے سڑک حادثات کو کم کرنے کے مقصد سے گاڑی سے گاڑی کے رابطے کے لیے 30 گیگا ہرٹز ریڈیو فریکوئنسی دینے کا اعلان کیا


سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی مشاورتی کمیٹی نے سڑک حادثات اور اموات میں کمی کے لیے کثیر جہتی اقدامات پر زور دیا

प्रविष्टि तिथि: 23 JAN 2026 5:36PM by PIB Delhi

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری کی صدارت میں سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سڑک تحفظ کے اہم مسئلے پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزرائے مملکت جناب ہرش ملہوترا اور جناب اجے تمتا بھی موجود تھے۔

 

اجلاس میں ”سڑک حادثات اور اموات میں کمی کے اقدامات“ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سڑک حادثات پر قابو پانے اور قیمتی جانیں بچانے کے لیے کثیر جہتی اور مربوط حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ چیئرمین این ایچ اے آئی نے کمیٹی کو وزارت کی جانب سے قومی شاہراہوں پر سڑک تحفظ کو بہتر بنانے اور حادثات میں کمی کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔

 

اس کے بعد ایڈیشنل سیکریٹری (ٹرانسپورٹ) نے ایک تفصیلی پیشکش پیش کی، جس میں سڑک تحفظ کے چار ستونوں — انجینئرنگ، نفاذِ قانون، تعلیم اور ہنگامی طبی امداد — کے تحت اہم اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا۔ اس پیشکش میں اب تک کی کامیابیوں، موجودہ چیلنج اور موجودہ اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ نئی سڑک تحفظ مداخلتیں متعارف کرانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ سکریٹری، آر ٹی اینڈ ایچ نے کمیٹی کو آئی آئی ٹی کانپور کے اشتراک سے تیار کی جا رہی اے آئی سے مزین سڑک تحفظ ٹیکنالوجیز کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

 

وزارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے، کمیٹی کے اراکین نے ملک بھر میں سڑک حادثات اور اموات کی مسلسل بلند تعداد پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سڑک تحفظ کے لیے انجینئرنگ میں بہتری، عوامی آگاہی میں اضافہ اور مؤثر نظام پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔

اراکین نے بلیک اسپاٹس کی اصلاح، بعض قومی شاہراہوں کے حصوں کی چوڑائی میں اضافہ، شاہراہوں کے ساتھ ٹراما کیئر سہولیات کی دستیابی، سڑک حادثات کے متاثرین کے لیے معاوضے میں اضافہ، سڑکوں کی دیکھ بھال اور مرمت اور ریاستی شاہراہوں کے لیے ریاستی حکومتوں کے ساتھ بہتر تال میل جیسے اہم امور اٹھائے۔ ضلعی سطح پر اراکین پارلیمنٹ روڈ سیفٹی کمیٹی کے اجلاسوں کے بے ضابطہ انعقاد، مناسب روڈ مارکنگ کی عدم موجودگی اور سائن بورڈ و ریفلیکٹر کے ناقص معیار پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ یہ تجویز بھی دی گئی کہ لینڈ سلائیڈ کے خدشے والے مقامات کو بلیک اسپاٹس کی طرز پر شناخت کیا جائے اور مناسب اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ دیگر تجاویز میں اسکولی نصاب میں سڑک تحفظ کو شامل کرنا، روڈ سیفٹی کے لیے ایک مرکز قائم کرنا اور ہر ضلع میں کم از کم ایک ٹراما سینٹر کے قیام کی سفارش شامل تھی۔

ان خدشات کے جواب میں جناب نتن گڈکری نے کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے 30 گیگا ہرٹز ریڈیو فریکوئنسی گاڑی سے گاڑی رابطہ  نظام کی تیاری کے لیے مختص کی گئی ہے، جس سے سڑک حادثات اور اموات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں کے حکام کو اس بات کی اہمیت سے آگاہ کریں کہ ضلعی سطح پر ایم پی آر ایس سی کے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں، جن میں ڈسٹرکٹ کلکٹر، پولیس، پی ڈبلیو ڈی اور دیگر متعلقہ محکموں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

 

اجلاس کے دوران وزیر موصوف نے روڈ سیفٹی ترانہ بھی پیش کیا، جس کا 22 علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے معزز اراکین پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اسکولوں، عوامی اجتماعات اور دیگر عوامی مقامات پر علاقائی زبانوں میں روڈ سیفٹی ترانے کی تشہیر اور اس کے بجانے کو فروغ دیں۔

مرکزی وزیر نے تمام افسران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ملک بھر میں محفوظ سڑک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں، اور بھارتی سڑکوں پر قیمتی جانیں بچانے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 997


(रिलीज़ आईडी: 2217903) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi