وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

جامع تعلیمی سربراہ اجلاس 2026 کے دوسرے دن ماہرین کی بصیرت کے تبادلے کے ساتھ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے جامع اور مؤثر تعلیمی راستوں کو مضبوط بنانے پر سنجیدہ غور و خوض جاری ہے

प्रविष्टि तिथि: 22 JAN 2026 8:48PM by PIB Delhi

محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی (ڈی او ایس ای ایل)، وزارتِ تعلیم نے جامع تعلیمی سربراہ اجلاس 2026 کے دوسرے دن خصوصی ضروریات کے حامل بچوں (سی ڈبلیو ایس این) کے لیے شمولیتی تعلیم کو مضبوط بنانے پر غور و خوض کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ اجلاس 21 تا 23 جنوری 2026 کو دی للت، نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ سربراہ اجلاس قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 اور حقوقِ افرادِ معذوری ایکٹ (آر پی ڈبلیو ڈی) 2016 کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں منصفانہ، قابلِ رسائی اور سیکھنے والے مرکزی تعلیمی نظام کو فروغ دینا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001R21V.jpg

سمٹ کے دوسرے دن کا موضوع ’’شمولیتی تعلیمی راستے‘‘ تھا، جس میں شمولیتی تعلیم کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قومی اقدامات، ڈیجیٹل آلات، اساتذہ کی صلاحیت بڑھانے کے فریم ورک اور بین شعبہ جاتی تعاون کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر محترم سنجے کمار، سکریٹری،ڈی او ایس ای ایل؛ محترمہ اے سریجا، اکنامک ایڈوائزر، ڈی او ایس ای ایل اور ڈی او ایس ای ایل، وزارت تعلیم کے سینئر اہلکاروں کے ساتھ قومی اداروں، ریاستوں/مرکزی علاقوں اور شراکتی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0026169.jpg

دن کا آغاز محترمہ ایرا سنگھل، ڈپٹی سکریٹری، ڈی او ایس ای ایل کی جانب سے ایک سیاق و سباق پر مبنی جائزے سے ہوا، جنہوں نے  پرشست 2.0، نئے سرے سے تیار شدہ معذوری اسکریننگ ٹول کا تعارف کرایا۔ انہوں نے زور دیا کہ پرشست  2.0 بچوں کے لیے جلد شناخت، منظم اسکریننگ اور بروقت معاونت کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو اسکولی سطح پر شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ہدفی مداخلت کو ممکن بناتا ہے۔ جناب رام سنگھ، جوائنٹ ڈائریکٹر، ڈی او ایس ای ایل نے اسکولوں میں بچوں کے اندراج کے کلیدی اعداد و شمار پیش کیے، اور شمولیتی تعلیم کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کو مضبوط بنانے میں ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جناب پربھات مشرا، جوائنٹ ڈائریکٹر، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر(این آئی سی) ، ڈی او ایس ای ایل نے پرشست  2.0کا لائیو ڈیمو پیش کیا، جس میں اس کی ڈیجیٹل خصوصیات،یو ڈی آئی ایس ای + کے ساتھ انضمام اور بچوں کی موثر اسکریننگ، ڈیٹا کی گرفت، ٹریکنگ اور مانیٹرنگ کے افعال کو دکھایا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003BKAP.jpg

ریاستی سطح کے اقدامات کا تعارف آندھرا پردیش اور مغربی بنگال کے نمائندوں نے کرایا، جنہوں نے شمولیتی تعلیم کے مخصوص تناظر اور قابلِ توسیع ماڈلز کو نمایاں کیا۔ ڈاکٹر سندھیا رائے، ڈائریکٹر، ایس سی ای آر ٹی، اور جناب سکانتو گوسوامی، شمولیتی تعلیم کے کوآرڈینیٹر، مغربی بنگال نے پرشستکے ذریعے بچوں کی ابتدائی شناخت اور مضبوط ریسورس روم سپورٹ سسٹمز کے تحت فراہم کی جانے والی بچے پر مرکوز مداخلتوں پر روشنی ڈالی۔جناب سرینیواس راؤ، اسٹیٹ پروجیکٹ ڈائریکٹر، سمگر شکشا، آندھرا پردیش نے 125 آٹزم سپورٹ سینٹرز کے قیام کو اجاگر کیا اور اسے آٹزم کے شکار بچوں کو شمولیتی تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کی سمت ایک انقلابی قدم قرار دیا۔

خصوصی تعلیم میں اصلاحات کے سیشن میں جناب آشش ٹھاکرے، ممبر سکریٹری، ریہیبلیٹیشن کونسل آف انڈیا(آر سی آئی) نےاپنے خطاب میںکہا، جنہوں نے آر سی آئی  کی پیشہ ورانہ معیار، تربیت اور خصوصی تعلیم میں ضابطہ کاری کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے جاری اقدامات کو اجاگر کیا اور تمام طلباء کے لیے شمولیتی اور قابل رسائی تعلیم کے لیےآر سی آئی  کے عزم کو دوبارہ تصدیق کی۔

اساتذہ کی تعلیم اور تدریس دن کے دوران ایک اہم توجہ کا مرکز رہی۔ ڈاکٹر شرد سنہا، پروفیسر اور ہیڈ، ڈیپارٹمنٹ آف ٹیچر ایجوکیشن،این سی ای آر ٹی نے ایک منظم 8 ماڈیول فریم ورک پیش کیا جس کا مقصد استاد کی تربیتی پروگراموں میں شمولیتی تدریس کو مرکزی حیثیت دینا ہے، اور تمام طلباء کے لیے رسائی سے حصول تک کے سفر پر زور دیا۔ پروفیسر اکھلیش مشرا، چیئرمین،این آئی او ایس نے قابل رسائی ای-مواد، لچکدار داخلہ اور امتحانی نظام اور اوپن اسکولنگ کے لیے شمولیتی تعلیم کی پالیسی (2022) کے ذریعے اسکول تعلیم کے عالمی سطح پر فروغ کے لیے این آئی او ایس کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ پروفیسر پنکج ارورا، چیئرمین،این سی ٹی ای نے استاد کی تعلیم کے بنیادی نصابی فریم ورک میں شمولیتی تعلیم کے انضمام اور شمولیتی عملی اقدامات کی حمایت میں نیشنل مینٹرنگ مشن کے کردار پر زور دیا۔

محترمہ رچا چوہان اور محترمہ کیلاش کوشل، اسپیشل اولمپکس بھارت سے، نے ذہنی اور نشوونما سے متعلق معذوری رکھنے والے بچوں کے لیے کھیلوں کے فروغ کے اقدامات کو اجاگر کیا اور ملک بھر میں جاری پروگراموں کے ذریعے شمولیت بڑھانے میں تنظیم کے قومی اسپورٹس فیڈریشن کے کردار کو نمایاں کیا۔جناب ڈیوڈ ابلسم، آنریری جنرل سیکرٹری، انڈین بلائنڈ اسپورٹس ایسوسی ایشن، نے بصارت سے محروم بچوں کے لیے کھیلوں کی اہمیت پر گفتگو کی اور کھیلوں کو اعتماد، خودمختاری، نقل و حرکت اور مساوی مواقع کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

ڈاکٹر شلپا منوگنا، ایسوسی ایٹ پروفیسر،ڈی ای جی ایس این، این سی ای آر ٹی  نے موجودہ ریسورس سینٹرز کی ترقی اور نئے ریسورس سینٹرز اور ریسورس رومز کے قیام کے ذریعے شمولیتی تعلیم کو مضبوط بنانے پر زور دیا، جو مختلف ضروریات والے طلباء کی بہتر معاونت کریں گے۔ محترمہ امیتا ٹنڈن، ایجوکیشن اسپیشلسٹ،یونیسف نے معذوری کے لحاظ سے شمولیتی زبان کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ شمولیتی مواصلات رویوں کو تشکیل دینے،بدنامی کو کم کرنے اور بامعنی شمولیت کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پروفیسر بھارتی کوشک، سی آئی ای ٹی، این سی ای آر ٹی نے پی ایم ای – ودیا آئی ایس ایل چینل 31 کے ذریعے شمولیتی سیکھنے والی کمیونٹی کے قیام میں اس کے کردار کو اجاگر کیا اور ’’کتاب ایک، پڑھے انیک‘‘  کا مظاہرہ کیا، جو یونیورسل ڈیزائن فار لرننگ (یو ڈی ایل)کے اصولوں کے تحت تیار کی گئی ہے، اور ایک ہی نصاب کے ذریعے متعدد، قابل رسائی سیکھنے کے راستے فراہم کرتی ہے۔

دن کا اختتام ریاستوں اور مرکزکےزیرانتظامعلاقوں کے ساتھ اوپن ہاؤس ڈسکشن کے ساتھ ہوا، جس میں تجربات کے اشتراک اور باہمی مسائل کے حل کو ممکن بنایا گیا۔ جامع تعلیمی سمٹ کے دوسرے دن کی غور و خوض نے پالیسی اور عملی اقدامات کو مضبوط بنانے، معاون ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل اختراعات کو فروغ دینے، ادارہ جاتی تیاری بڑھانے اور بچوں کے لیے تعلیم، کھیل اور روزگار کو جوڑنے والے مستقبل کے راستوں کی نشاندہی کرنے کے مقاصد کو مضبوط کیا۔

****

ش ح ۔ ش ت۔ م الف

U. No : 981


(रिलीज़ आईडी: 2217850) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी