عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

طویل عرصے سے زیر التواء 1,087پنشن شکایات کے ازالے سے متعلق کامیابی کی کہانیاں


پندرہویں پنشن عدالت آئی آئی پی اے، نئی دہلی میں 24 دسمبر 2025 کو محترمہ رچنا شاہ، سکریٹری ڈی او پی ٹی، ڈی اے آر پی جی اور ڈاو پی پی ڈبلیو کی صدارت میں منعقد کی گئی

شکایات کے تیز تر حل کو یقینی بنانے اور پنشنروں کے وقار اور مالی تحفظ کو بڑھانے کا عزم

प्रविष्टि तिथि: 23 JAN 2026 4:12PM by PIB Delhi

وزارت دفاع، وزارت داخلہ، مالیات، پوسٹس، ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرز، سول ایوی ایشن وغیرہ کے تحت 30 محکموں/وزارتوں سے متعلق سپر سینئر اور فیملی پنشنرز کی شکایات سے متعلق 1087 شکایات کو عدالت میں اٹھایا گیا جن کے ازالے کے لیے موقع پر ہی ان کا ازالہ کیا گیا جس سے پنشنروں  کو بروقت انصاف کی فراہمی میں اس اقدام کی کارکردگی اجاگر ہوئی۔

  ایک فالو اپ میٹنگ 16 جنوری 2026کوپنشن عدالت کے دوران زیر غور مقدمات کے حل نہ ہونے کے بارے میں بات کرنے کے منعقد ہوئی۔ فالو اپ میٹنگ کے بعد بہت سی دل کو گرما دینے والی کامیابی کی کہانیاں سامنے آئیں۔ ذیل میں کچھ  معاملات کے اقتباسات کا تذکرہ کیا گیا ہے تاکہ پنشنروں کی جدوجہد کی تعریف کی جا سکے  جس پنشن عدالت کے طریقہ کار نے انہیں اپنے دیرینہ واجب الادا واجبات حاصل کرنے کے قابل بنایا۔

جناب پون کمار گپتا

 

جناب پون کمار گپتا، ساکن گاؤں ٹیما، بستی، اتر پردیش کی شکایت 100 دن سے زائد عرصہ تک زیر التوا رتھی۔ یہ شکایت  20 مارچ 2023  کوطبی بنیاد پر سروس سے فارغ کیے جانے کے بعد ان کے این پی ایس (این پی ایس) کارپس کی عدم ادائیگی سے متعلق تھی۔ انہیں درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی شکایت کو عدالت میں اٹھایا گیا، جس میں انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگکے ذریعے شرکت کی۔ فالو اَپ میٹنگ کے دوران بی ایس ایف کے افسران نے بتایا کہ مکمل کارروائی کے بعد معاملہ حل کر لیا گیا ہے اور 10.35 لاکھ روپئے  کی بقایا رقم انہیں ادا کر دی گئی ہے۔

 

جناب رسیکا ڈگّی

 

جناب رسیکا ڈگّی، ضلع مغربی سنگھ بھوم، جھارکھنڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی شکایت 200 دن سے زائد عرصہ تک زیر التوا رہی، جو ان کی پنشن کی بحالی سے متعلق تھی۔ نومبر 2007 سے لائف سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے کے باعث گزشتہ 17 برس سے ان کی پنشن بند تھی۔ طویل عرصے تک پنشن کی عدم ادائیگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا معاملہ عدالت میں زیر غور لایا گیا، جس میں انہوں نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔ پینشن عدالت کی فالو اَپ میٹنگ میں سی آر پی ایف کے افسران نے اطلاع دی کہ معاملہ حل ہو چکا ہے اور انہیں 41.00 لاکھ  روپئےکی رقم ادا کی جا چکی ہے۔

 

محترمہ پرمیلا تھاپا

 

محترمہ پرمیلا تھاپا، آنجہانی سنجے گرونگ کی غیر شادی شدہ معذور بیٹی ہیں، جنہیں نومبر 2018 سے خاندانی پنشن نہیں مل رہی تھی۔ ان کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی شکایت کو پینشن عدالت میں شامل کیا گیا، جس میں ان کے بھائی جنابسنجے گرونگ نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔ 16 جنوری 2026 کو منعقدہ  فالو اَپ میٹنگ کے بعد ایس ایس بی کی جانب سے بتایا گیا کہ 16 جنوری 2026 کو  12.78 لاکھ  روپئےکی بقایا رقم ادا کر دی گئی ہے۔ اس ماہ سے ان کی ماہانہ خاندانی پنشن بھی شروع ہو جائے گی۔

 

جناب نسیم اختر

 

جناب نسیم اختر، جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے نومبر 2008 سے جولائی 2020 تک ایل ٹی اے  کی عدم ادائیگی سے متعلق شکایت درج کرائی تھی۔ نو ماہ گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا تھا۔جناب نسیم اختر کی شکایت کو پینشن عدالت میں اٹھایا گیا، جس میں ان کے بیٹے نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔ فالو اَپ میٹنگ کے دوران متعلقہ افسر نے اطلاع دی کہ نومبر 2008 سے جولائی 2020 کے عرصے کی ایل ٹی اے مد میں /-21,14,991  کی رقم انہیں ادا کر دی گئی ہے۔

************

ش ح۔ع و ۔ ق ر

 (U: 988)


(रिलीज़ आईडी: 2217762) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English