وزارتِ تعلیم
ہمہ گیر اور منصفانہ تعلیم ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کا مرکزی حصہ ہے: جناب دھرمیندر پردھان
جناب دھرمیندر پردھان نے نئی دہلی میں ہمہ گیر تعلیمی سمٹ2026کا افتتاح کیا
प्रविष्टि तिथि:
21 JAN 2026 7:18PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے آج نئی دہلی میں سہ روزہ ہمہ گیر تعلیمی سمٹ 2026 کا افتتاح کیا، جس کا انعقاد محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی، وزارتِ تعلیم کے زیرِ اہتمام 21 سے 23 جنوری 2026 تک کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے نمائش کا بھی افتتاح کیا، جس میں خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معاون آلات کی نمائش کی جا رہی ہے۔
اس تقریب میں محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کے سیکریٹری جناب سنجے کمار، قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل کے ڈائریکٹر جناب دنیش پرساد سکلانی، اسپیشل اولمپکس بھارت کی چیئرپرسن ڈاکٹر ملِکا نڈا، نیز وزارتِ تعلیم، قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل، قومی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب دھرمیندر پردھان نے کہا کہ ہمہ گیر تعلیم سمٹ کا انعقاد ہمہ گیر تعلیم کے تئیں قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمہ گیر تعلیم کسی ایک منصوبے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر بچے کے لیے وقار، مساوی مواقع اور خود کفیل مستقبل کو یقینی بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘‘ کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ایسی تعلیم کے ذریعے رکھی جا سکتی ہے جو منصفانہ، حساس اور ہمہ گیر ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معذوری کے زمروں کو چھ سے بڑھا کر اکیس کرنا اسی ہمہ گیر نقطۂ نظر کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکھنے سے متعلق مشکلات، جیسے پڑھنے اور حساب میں دشواری کی بروقت شناخت نہایت اہم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ہمہ گیر تعلیم صرف اسکولوں یا خاندانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساوی مواقع، وقار اور شمولیت پر مبنی یہی اجتماعی طرزِ عمل ترقی یافتہ بھارت کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔
مرکزی وزیر نے ہمہ گیر تعلیم سمٹ میں لگائی گئی نمائش کا بھی دورہ کیا، جہاں معاون مصنوعات، حل اور جدید ذہین ٹیکنالوجیوں کی نمائش کی گئی تھی۔ انہوں نے تعلیم کو زیادہ ہمہ گیر بنانے اور خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں اور معذور افراد کی متنوع ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھارتی نوخیز اداروں کی جانب سے تیار کردہ اختراعی اور عالمی معیار کے حل کی ستائش کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معذور افراد کی آبادی کے لیے وقار، رسائی اور مساوی مواقع کو یقینی بنانا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے معاون قوانین، قابلِ رسائی بنیادی ڈھانچے، ہمہ گیر پالیسیوں اور مسلسل اختراعی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب سنجے کمار نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ایک ایسے ہمہ گیر تعلیمی نظام کا تصور پیش کرتی ہے جس میں کوئی بھی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے اور جس کا واضح ہدف سن 2030 تک ثانوی سطح پر سو فیصد مجموعی اندراج حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شمولیت محض رسائی تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں داخل ہونے والے ہر بچے کو بامعنی تعلیمی نتائج حاصل ہونے چاہئیں، اسے تحفظ کا احساس ہو، سماجی نشوونما کے مواقع ملیں اور سیکھنے سے متعلق کسی بھی مخصوص دشواری کی بروقت شناخت اور مناسب مدد فراہم کی جائے، بالخصوص ابتدائی برسوں میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ویژن صرف پورے معاشرے اور حکومت کی مشترکہ کوششوں سے ہی حقیقت بن سکتا ہے۔ تمام بچوں اور اساتذہ میں ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ہم سب کی مختلف ضروریات کے تئیں حساس ہو سکیں۔
یہ سمٹ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون 2016 کے مطابق خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے ہمہ گیر تعلیم سے متعلق پالیسیوں، عملی طریقوں اور اختراعات کو مضبوط بنانے کا مقصد رکھتی ہے۔ غور و فکر اور سیکھنے کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر ترتیب دی گئی یہ سمٹ پالیسی سازوں، قومی اداروں، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، تعلیمی بورڈز، ماہرین، سماجی تنظیموں، نوخیز اداروں اور صنعتی شراکت داروں کو ایک جگہ جمع کرتی ہے تاکہ بہترین عملی مثالوں کا تبادلہ کیا جا سکے، نئی اختراعات پیش کی جا سکیں اور بھارت میں ہمہ گیر تعلیم کے مستقبل کے راستے متعین کیے جا سکیں۔
سمٹ کے پس منظر اور مقاصد کی وضاحت محترمہ اے سریجا، اقتصادی مشیر، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سمٹ مختلف فریقین کو یکجا کرتی ہے تاکہ ہر بچے کے لیے مؤثر تعلیمی نظام کی تشکیل کے لیے اجتماعی کوششوں کو تقویت دی جا سکے اور ہمہ گیر تعلیم کے پورے سلسلے، ابتدائی شناخت اور سیکھنے سے لے کر شرکت، مہارتوں اور روزگار تک—پر توجہ دی جا سکے۔ اس میں تعلیمی بورڈز کے ساتھ ہمہ گیر جانچ اور امتحانی سہولتوں پر تبادلۂ خیال، نیز خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے مہارت سازی اور روزگار کے مواقع سے متعلق غور و فکر بھی شامل تھا۔
سمٹ کے اہم توجہاتی شعبے
سہ روزہ سمٹ کو درج ذیل اہم موضوعاتی شعبوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے:
دن1: ہمہ گیر تعلیم کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور معاون آلات سے استفادہ
پہلا دن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور معاون آلات کے کردار پر مرکوز ہوگا، جن کے ذریعے خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے رسائی، شرکت اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بصارت، سماعت، جسمانی نقل و حرکت، ذہنی صلاحیت اور متعدد معذوریوں سے متعلق اختراعی حل نوخیز اداروں، تحقیقی اداروں اور قومی تنظیموں کی جانب سے عملی مظاہروں اور نمائشوں کے ذریعے پیش کیے جائیں گے۔
دن2: ہمہ گیر تعلیم کے راستے — قومی نمونے، آلات اور تربیت
دوسرا دن اہم قومی اقدامات اور صلاحیت سازی کے اقدامات کو اجاگر کرے گا، جن میں شامل ہیں:
- پرشست 2.0: معذوری کی جانچ اور نگرانی کا جدید بنایا گیا آلہ، جو تعلیمی معلومات کے متحدہ ضلعی نظام (پلس) کے ساتھ مربوط ہے۔
- اساتذہ کی تربیت اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حساسیت بڑھانا تاکہ ہمہ گیر جماعتیں قائم کی جا سکیں۔
- مجوزہ قومی رہنما خطوط کے ذریعے وسائل کے کمروں اور وسائل مراکز کو مضبوط بنانا۔
- خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے ہمہ گیر کھیلوں اور پیشہ ورانہ تعلیم کے راستوں کو فروغ دینا۔
سمٹ کے اہم توجہاتی شعبے (تسلسل)
مباحثوں میں وزارتِ تعلیم، قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی)، بحالی کونسل آف انڈیا (آر سی آئی)، معذور افراد کے بااختیار بنانے کا محکمہ (ڈی ای پی ڈبلیو ڈی)، محکمۂ کھیل اور دیگر قومی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے۔
دن 3: مخصوص سیکھنے کی دشواریاں، دماغی تنوع اور خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے مستقبل کے مواقع۔
آخری دن مخصوص سیکھنے کی دشواریوں (ایس ایل ڈی) اور دماغی تنوع کے وسیع دائرے پر مرکوز ہوگا، جس میں شناخت، نصاب کی مطابقت، تدریسی طریقے، جائزہ اور تعلیمی بورڈ کی سطح پر انتظامات کے مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔ مباحثوں میں اصلاحی تعلیم، مہارت کی تربیت اور تعلیم سے روزگار تک کے راستوں پر بھی غور کیا جائے گا، جس میں تعلیمی بورڈز اور نجی شعبے کے متعلقہ فریقین کی شمولیت ہوگی۔
ہمہ گیر تعلیم سمٹ کے مقاصد:
- ہمہ گیر تعلیم کے لیے پالیسی اور عملی طریقوں کو مضبوط بنانا۔
- معاون ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل آلات کو فروغ دینا۔
- اساتذہ کی صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی تیاری کو بڑھانا۔
- شعبہ جات کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا۔
- خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے تعلیم سے روزگار تک کے راستوں کے مستقبل کے امکانات کی نشاندہی کرنا۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno- 902
(रिलीज़ आईडी: 2217091)
आगंतुक पटल : 6