سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت ہند نے مقامی ڈیجیٹل ہیلتھ انوویشن (اختراعات) کو آگے بڑھایا:ٹی ڈی بی-ڈی ایس ٹی ہند-کینیڈا باہمی تعاون پر مبنی تحقیق و ترقی پروگرام کے تحت اگلی نسل کی مسلسل صحت کی نگرانی کی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے معاونت فراہم کر رہا ہے

प्रविष्टि तिथि: 21 JAN 2026 3:47PM by PIB Delhi

احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کو مستحکم بنانے، مقامی طور پر تیار کردہ طبی ٹیکنالوجیز کے فروغ، اور تحقیق کو قابلِ عمل صحت کے حل میں تبدیل کرنے کے حکومتِ ہند کے عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے، ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی)، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)، حکومتِ ہند نے مہاراشٹر کی کمپنی میسرز ڈاکٹر اسٹور ہیلتھ کیئر سروس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ ڈیجیٹل ہیلتھ کے شعبے میں ایک باہمی تعاون پر مبنی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) منصوبے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

اس پہل کے تحت، ٹی ڈی بی نے "ذیابیطس کی مسلسل نگرانی کے ساتھ ساتھ قلبی امراض کی بروقت تشخیص کے لیے کارڈیو ویسکولر بایومارکرز پر مبنی ملٹی وائٹل کنٹینیوئس گلوکوز مانیٹرنگ (سی جی ایم) ڈیوائس" کے عنوان سے منصوبے کے لیے گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ یہ منصوبہ ہند–کینیڈا باہمی تعاون پر مبنی صنعتی تحقیق و ترقی پروگرام کے تحت معاونت حاصل کر رہا ہے۔

ہند–کینیڈا باہمی تعاون پر مبنی صنعتی تحقیق و ترقی پروگرام محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی، حکومتِ ہند، اور نیشنل ریسرچ کونسل کینیڈا (این آر سی) نیز گلوبل افیئرز کینیڈا کے درمیان قائم ایک دو طرفہ فریم ورک ہے، جس کا مقصد صنعت پر مبنی اور منڈی پر مرکوز تحقیق و ترقی کے ایسے منصوبوں کی معاونت کرنا ہے جو سماجی افادیت کے ساتھ تجارتی نوعیت کی ٹیکنالوجیز کی تشکیل کا باعث بنیں۔ ہندوستانی منصوبہ کینیڈا کے پروجیکٹ لیڈ، ایم/ایس نینو اسپیڈ ڈائیگنوسٹکس انکارپوریٹڈ، کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے۔

یہ معاونت یافتہ منصوبہ جدید کارڈیو میٹابولک بایومارکرز—بشمول بی ٹائپ نیٹریوریٹک پیپٹائڈ (بی این پی)، ٹروپونن-آئی اور اعلیٰ حساسیت سی-ری ایکٹیو پروٹین (ایچ ایس-سی آر پی)—کو مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ (سی جی ایم) نظام کے ساتھ یکجا کرنے پر مرکوز ہے۔ انٹرسٹیشل فلوئڈ کے تجزیے پر مبنی موجودہ سی جی ایم طریقۂ کار سے استفادہ کرتے ہوئے، اس ٹیکنالوجی کا مقصد گلوکوز کی سطح اور قلبی خطرات کے ابتدائی اشاریوں کی بیک وقت اور مسلسل نگرانی کو ممکن بنانا ہے، تاکہ ذیابیطس سے وابستہ اہم ہم عوارض سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔

توقع ہے کہ یہ ٹیکنالوجی قلبی امراض کی بروقت تشخیص، دور دراز نگرانی اور روک تھام پر مبنی انتظام میں مددگار ثابت ہوگی، بالخصوص زیادہ خطرے والی آبادیوں میں، جبکہ قسط وار تشخیص اور اسپتال پر مرکوز نگہداشت پر انحصار میں کمی آئے گی۔ یہ منصوبہ سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی، ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ اور جدید طبی آلات کی مقامی تیاری سے متعلق قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

میسرز ڈاکٹر اسٹور ہیلتھ کیئر سروس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، جو 2015 میں قائم کی گئی، احتیاطی اور دور دراز صحت کی نگرانی کے حل تیار کرنے میں مصروف ہے۔ ٹی ڈی بی کی معاونت سے اس منصوبے کا مقصد ٹیکنالوجی کی قابلِ عملیت کی توثیق کرنا اور ہندوستانی صحت کی ضروریات کے مطابق ایک مربوط، کثیر الجہتی صحت نگرانی پلیٹ فارم کی تجارتی تعیناتی کے لیے واضح راستہ ہموار کرنا ہے۔

منصوبے کے متوقع اہم نتائج درج ذیل ہیں:

  • گھر پر مبنی اور آپریشن کے بعد کی نگہداشت کے لیے گلوکوز اور قلبی بایومارکرز کی ریئل ٹائم، دور دراز نگرانی۔
  • ذیابیطس اور زیادہ خطرے کے حامل مریضوں میں قلبی عوارض کی بروقت تشخیص اور روک تھام پر مبنی انتظام۔
  • ذیابیطس، قلبی امراض اور سانس کی بیماریوں سمیت دیگر امراض کے مؤثر نظم کے لیے اسمارٹ ہیلتھ ڈیوائسز پر مشتمل مربوط ماحولیاتی نظام کی تیاری۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ٹی ڈی بی کے سکریٹری جناب راجیش کمار پاٹھک نے کہا کہ “ٹیکنالوجی پر مبنی احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کے حل طویل مدتی بیماریوں کے بوجھ میں کمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ہند–کینیڈا پروگرام جیسے بین الاقوامی اشتراکی فریم ورکس کے تحت معاونت یافتہ منصوبے ہندوستانی صنعت کو عالمی علم اور مہارت تک رسائی فراہم کرتے ہیں، جس کے ذریعے قومی صحت کی ترجیحات کے مطابق مقامی اور قابلِ توسیع حل تیار کیے جا سکتے ہیں۔

یہ پہل صنعت پر مبنی اختراع، بین الاقوامی ٹیکنالوجی تعاون اور مقامی صحت کی دیکھ بھال کی ٹیکنالوجیز کی تجارتی کاری کو فروغ دینے کے لیے ٹی ڈی بی کے مینڈیٹ کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد صحت کے بہتر نتائج کا حصول اور ہندوستان کے میڈیکل ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

***

UR-889

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2217037) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English , Tamil