الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن اور نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے درمیان مفاہمت نامے(ایم او یو) پر دستخط

प्रविष्टि तिथि: 19 JAN 2026 6:46PM by PIB Delhi

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے چنتن شیویرآیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم)—کے قومی جائزہ اجلاس میں شرکت کی، جو 19 جنوری 2026 کو بھونیشور، اڈیشہ میں منعقد ہوا۔اس جائزہ میٹنگ کا اہتمام نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) نے کیا تھا، جس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں، تکنیکی اداروں اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد پیش رفت کا جائزہ لینا اور ملک بھر میں ڈیجیٹل صحت کے اقدامات کو اپنانے کے عمل میں تیزی لانا تھا۔

گفتگو کو مصنوعی ذہانت پر مبنی اختراعات اور جامع لسانی رسائی کے ذریعے ڈیجیٹل صحت کو فروغ دینے کے قومی مقصد سے ہم آہنگ کیا گیا، جس میں اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی کہ ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز لسانی اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر قابلِ استعمال، قابلِ رسائی اور مؤثر ہوں۔

پروگرام کے پہلے دن کی ایک نمایاں پیش رفت نیشنل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے درمیان ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط تھا، جس کا مقصد آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) سمیت این ایچ اے کے ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز میں کثیر لسانی ترجمہ کی خدمات اور اے آئی پر مبنی لسانی معاونت کو فعال بنانا ہے۔

افتتاحی اجلاس کے دوران حکومتِ اڈیشہ، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی اور شراکت دار اداروں کی سینئر قیادت کی موجودگی میں اس مفاہمت نامے کا تبادلہ کیا گیا۔ یہ اشتراک بھاشنی کی لسانی ٹیکنالوجیز—بشمول ترجمہ اے پی آئی، تقریر کی شناخت اور ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ٹولز—کو مستفیدین اور انتظامی ایپلی کیشنز میں مربوط کرے گا، جس سے آخری سطح تک خدمات کی فراہمی کو تقویت ملے گی اور شہریوں کی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔

قومی جائزہ اجلاس کا آغاز سکریٹری ، صحت ، حکومت اڈیشہ کے استقبالیہ خطاب سے ہوا ، جس کے بعد نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ افتتاحی اجلاس میں حکومتِ اڈیشہ کے وزیرِ صحت جناب مکیش مہالنگ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر شراکت دار اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ ہیلتھ بینیفٹ پیکیج مینوئل اور آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت بہترین طریقۂ کار کے مجموعے کا بھی اجرا کیا گیا۔

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ ناگ نے مفاہمت نامے پر دستخط میں شرکت کی اور "اے آئی پر مبنی اختراع اور جامع لسانی رسائی کے ساتھ ڈیجیٹل صحت کو فروغ دینا" کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جیسے جیسے ملک بھر میں ڈیجیٹل صحت کے نظام کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنانا ایک فطری اور ناگزیر پیش رفت بن جاتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان جیسے لسانی اعتبار سے متنوع ملک میں مصنوعی ذہانت کو بامعنی عوامی قدر فراہم کرنے کے لیے اس کا کثیر لسانی اور آواز پر مبنی ہونا ضروری ہے، تاکہ زبان صحت کی دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی میں رکاوٹ نہ بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبان پر مبنی اے آئی شہریوں کی شمولیت، شکایات کے ازالے کے طریقۂ کار، طبی دستاویزات اور ڈیجیٹل عوامی صحت کے پلیٹ فارمز کی مجموعی رسائی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

چنتن شیویر کے مباحثوں کے دوران آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے جوائنٹ سکریٹری جناب کرن گوپال واسکا نے صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں زبان پر مبنی مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وائس ٹو ٹیکسٹ اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ جیسے اے آئی سے چلنے والے ٹولز، مریض اور معالج کے درمیان بلا رکاوٹ رابطے کو ممکن بنا کر، ڈاکٹروں کو درپیش وقت کی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کی خودکار تیاری کو بھی ممکن بناتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کو بھی تقویت ملے گی۔

اس شراکت داری کے تحت ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن، ذمہ دارانہ ڈیٹا گورننس، محفوظ نظامی انضمام، اور حقیقی دنیا میں استعمال و فیڈ بیک کے ذریعے زبان کے ماڈلز کی مسلسل بہتری کے اصولوں کے ساتھ، مستفیدین اور انتظامی پلیٹ فارمز میں کثیر لسانی اور آواز پر مبنی حل تعینات کرنے میں نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کی معاونت کرے گا۔

یہ مفاہمت نامہ حکومتِ ہند کے اس وسیع تر وژن سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت ہندوستانی زبانوں کو ملک کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے میں ضم کیا جا رہا ہے اور صحت کے شعبے میں شہریوں پر مرکوز، مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

***

UR-791

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2216260) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी