وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

محکمہ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی نے آئی سی اے آر- سی آئی بی اے، چنئی کا دورہ کیا اور جھینگا  مچھلی  کے کسانوں سے بات چیت کی


حکومت ہند کی توجہ مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی، آب و ہوا کے لحاظ سےاسمارٹ آبی زراعت اور وسائل کے موثر استعمال پرمرکوز ہے

प्रविष्टि तिथि: 19 JAN 2026 5:22PM by PIB Delhi

محکمہ ماہی پروری (ڈی او ایف)، حکومتِ ہند کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی نے آج تمل ناڈو کے چنئی میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ – سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف بریکش واٹر ایکوا کلچر (آئی سی اے آر- سی آئی بی اے) اور اس کے مٹوکاڈو ایکسپیریمنٹل اسٹیشن کا دورہ کیا۔

اپنے فیلڈ دورے کے دوران، سکریٹری نے جھینگا مچھلی کے کسانوں اور کاروباری افراد سےبات  چیت کی، جنہوں نے پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کے مختلف مراحل میں اپنے کامیابی کے قصے، بہترین طریقے اور درپیش مشکلات شیئر کیے۔

0.jpg

ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی نے پینائیس انڈیکس جینیٹک امپروومنٹ پروگرام کے مرکز کا بھی دورہ کیا، جو آئی سی اے آر- سی آئی بی اے کے ذریعے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ہندوستان میں جینیاتی لحاظ سے افزودہ سفیدجھینگا ( پی انڈیکس)کی ترقی کے ذریعے جھینگامچھلی کی سائنسی افزائش کو مضبوط بنانا ہے۔

سکریٹری نے آئی سی اے آر- سی آئی بی اے کے سائنسدانوں سے بات چیت کی اور کئی تحقیقی سہولیات کا معائنہ کیا، بشمول فن فش، کرسٹیشین، آرنامنٹل فش اور شریمپ کی اکائیوں کے ساتھ ساتھ فیڈ مل کا بھی دورہ کیا۔ اس دورے سے بریکش واٹر ایکوا کلچر کے شعبے میں شروع کی جانے والی متنوع تحقیق، ترقی، اور اختراعی سرگرمیوں سے براہ راست  روشناسی حاصل ہوئی۔

1.jpg

مرکزی محکمہ ماہی پروری کے سکریٹری کا یہ دورہ جھینگا  کی پیداوار کے سیکٹر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جھینگا ہندوستان کی سب سے بڑی سمندری خوراک کی برآمداتی مصنوعات میں سے ایک ہے، جس کا حصہ ملک کی کل سمندری خوراک کی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد  ہے جو تقریباً 130 ممالک کو برآمد ہوتی ہے۔ فارمر اور کاروباری افراد کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے حاصل ہونے والے تجربات سے محکمہ کو مناسب پالیسی اقدامات اور اقدامات تیار کرنے میں مدد  ملے گی تاکہ ماہی پروری کے شعبے کی مسلسل ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ ماہی پروری، حکومتِ ہند نے جھینگا مارکیٹ کو وسیع کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے 58 فیصد ٹیریف کے نفاذ کے باوجود اس شعبے نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا، اور اپریل تا اکتوبر 2025 کے دوران برآمداتی مالیت میں 21 فیصد اور برآمداتی مقدار میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔

آئی سی اے آر-سی آئی بی اے جھینگا فیڈ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور پی ایم ایم ایس وائی کی فنڈنگ سے دو بڑے منصوبے نافذ کر رہا ہے، جن کا مقصد سائنسی ایکوا کلچر کو فروغ دینا اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانا ہے۔

پہلا منصوبہ، ’’مقامی جھینگا ایکوا کلچر کی ترقی: پینایس انڈیکس جینیٹک امپروومنٹ پروگرام‘‘کا ہے، جس کی کل لاگت 25.04 کروڑ  روپےہے، جس کا مقصد جینیاتی طور پر افزودہ مقامی جھینگا لائن کی ترقی ہے۔ دوسرا منصوبہ، ’’ زمین، پانی اور فیڈ کے درست استعمال کے لیے نیو ایج شریمپ سسٹم‘‘، جسے2.21 کروڑ  روپےکی لاگت سے  منظوری دی گئی ہے، اس کا مقصد ماحولیاتی لحاظ سے اسمارٹ اور وسائل کے لحاظ سے جھینگا فارمنگ کے مؤثر ماڈل کو فروغ دینا ہے۔ڈاکٹرابھیلکش لیکھی نے اپنے دورے کے دوران دونوں اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

اس دورے کے دوران ہندوستان کے مقامی اور پائیدار جھینگا فیڈ کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی کی موجودگی میں دو مفاہمت ناموں( ایم او یو)  پردستخط کیے گئے۔

  • پہلا مفاہمت نامہ، آئی سی اے آر-سی آئی بی اے اورایم /ایس  سیلے ہیچری  ٹیک ،مراکنم کے درمیان دستخط کیا گیا،جو ہندوستان کی پہلی دیسی جھینگے کے لاروا فیڈ کو تجارتی شکل دینے سے متعلق ہے۔
  • دوسرا مفاہمت نامہ، آئی سی اے آر- سی آئی بی اے اورایم/ایس  بی آر سی میرین پروڈکٹس، اڈیشہ کے درمیان دستخط کیاگیا،جو چاول پر مبنی رائس ڈسٹلر کے خشک اناجوں کا محلول (ڈی ڈی جی ایس)کے استعمال سے متعلق ہے جو کہ پینایس وانامئی جھینگے کی خوراک میں سستی اور پائیدار پروٹین کے ذریعہ ہے۔

آئی سی اے آر – سی آئی بی اے نے  محکمہ ماہی پروری، حکومت ہند  کےسکریٹری کی موجودگی میں ایک ڈرون نمائش کا بھی اہتمام کیا، جہاں فیڈ اسپرے اور ٹرانسپورٹ کی لائیو  نمائش کی گئی۔ ماہی پروری کے شعبے میں ڈرون کے استعمال کی تلاش کی جا رہی ہے، جس کے لیے محکمہ ماہی پروری نے 1.16 کروڑ روپے کے پروجیکٹ لاگت کے ساتھ پائلٹ پروجیکٹس آئی سی اے آر- سی آئی ایف آر آئی، بیرک پور، کولکاتہ کو سونپے ہیں۔

1. دیسی جھینگا فیڈ کی پیداوار کا فروغ

شریمپ لاروا فیڈ جو فی الحال زیادہ قیمتوں پر درآمد کیے جاتے ہیں طویل عرصے سے ہیچری کے لیے رکاوٹ  بنی ہوئی ہیں، اور لاروا فیڈ فارمولیشن پر سی آئی بی اے  کی تحقیق ایک قابل عمل مقامی متبادل کی ترقی کا باعث بنی ہے۔سی آئی بی اے میں تیار کردہ تجرباتی فیڈکا تقریباً ایک سال تک تامل ناڈو اور آندھرا پردیش میں پچاس سے زیادہ ہیچریوں میں انکیوبٹی پارٹنرس کے ذریعے کامیاب تجربہ کیا گیا، جو ان کی افادیت اور مارکیٹ کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان نتائج سے حوصلہ پاکر،ایم/ایس سیل ہیچری ٹیک اب سی آئی بی اے کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پی ایم ایم ایس وائی اسکیم کے تحت بڑے پیمانے پر پیداواری سہولت قائم کرے گا، جو لاروا فیڈ کی پیداوار میں خود انحصاری کی جانب اہم قدم ہے۔

2. شریمپ کی خوراک میں پروٹین کے بطورچاول پر مبنی ڈی ڈی جی ایس کا استعمال کرکے مہنگی درآمدات پر انحصارمیں کمی

دوسرے مفاہمت نامے پر آئی سی اے آر- سی آئی بی اے اورایم/ایس بی آر سی میرین پروڈکٹس، اڈیشہ کے درمیان دستخط ہوئے، جو  پینیئس وانامئی کے لیے شریمپ فیڈ میں ایک سستی اور پائیدار پروٹین کے ذریعہ کے طور پر چاول پر مبنی رائس ڈسٹلرکے خشک محلول (ڈی ڈی جی ایس) کے استعمال پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ڈی ڈی جی ایس ، چاول کی بنیاد پر ایتھنول کی پیداوار کے لحاظ سے، آئی سی اے آر- سی آئی بی اے نے سویا بین خوراک جیسے مہنگے روایتی پروٹین  کے مرکبات کے ممکنہ متبادل کے طور پر آزمایا ہے۔ لیبارٹری مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ترقی یا صحت پر منفی اثرات کے بغیر ڈی ڈی جی ایس کو شریمپ فیڈ میں 7.5 سے 10 فیصد تک شامل کیا جا سکتا ہے ۔ حوصلہ بخش تحقیقی نتائج کی روشنی میں،بی آر سی میرین پروڈکٹس نے بڑے پیمانے پر فیلڈ ٹرائل اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے سی آئی بی اے کی تکنیکی مدد کی درخواست کی۔ اس اقدام سے مچھلی کی خوراک کی قیمتوں میں 5 سے 6 فیصد تک کمی آنے کی توقع ہے جبکہ مقامی طور پر دستیاب، قیمت کے لحاظ سےموثر مرکبات کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا جو کہ مہنگے درآمداتی پروٹین کے ذرائع کے بجائے استعمال کیے جائیں گے۔

دورے کے دوران، ڈاکٹرابھیلکش لیکھی نے راجستھان، ہریانہ، اور اتر پردیش سمیت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے حکام کے ساتھ ہائبرڈ میٹنگ کی صدارت بھی کی۔ اپنے خطاب میں، انہوں نے قومی آبی زراعت کی ترقی میں آئی سی اے آر- سی آئی بی اے کی شراکت کی تعریف کی اور کسانوں کو اختراعات کی بروقت اور مؤثر منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقی اداروں، صنعت کے شراکت داروں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دیسی ٹیکنالوجی کی ترقی، آب و ہوا کے لحاظ سےا سمارٹ آبی زراعت، اور وسائل کے موثر استعمال پر حکومت ہند کی توجہ کو اجاگر کیا۔

اجلاس کے دوران، ڈی او ایف، حکومت ہند کے جوائنٹ سکریٹری (ان لینڈ) جناب ساگر مہرا؛ آئی سی اے آر- سی آئی بی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کےکے وجین اور ڈاکٹر جے کے جینا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فشریز)، آئی سی اے آر نے تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیں۔ رسمی کارروائی کا آغاز نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی)کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر بی کے بہیرا کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا۔

****

 (ش ح –م ش ع۔اش ق)

U. No. 781

 


(रिलीज़ आईडी: 2216240) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil