بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آسام کے کلیابور میں 6,950 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے قازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبے کی بھومی پوجن انجام دی
قازیرنگا محض ایک قومی پارک نہیں—یہ آسام کی روح ہے، بھارت کی حیاتیاتی تنوع کا انمول نگینہ ہے، جسے یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے: وزیرِ اعظم
قازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ بالائی آسام کی کایا پلٹ کرے گا: سربانند سونووال
प्रविष्टि तिथि:
18 JAN 2026 6:59PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج آسام کے کلیابور میں 6,950 کروڑ روپے سے زائد لاگت والے قازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبے (قومی شاہراہ-715 کے کلیابور–نمالی گڑھ حصے کی چار لین تعمیر) کی بھومی پوجن انجام دی۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس قدر بڑی تعداد میں لوگوں کی دعاؤں اور خیرسگالی نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس محبت اور اعتماد کے لیے تہہِ دل سے شکر گزار ہیں۔ وزیرِ اعظم نے قازیرنگا کے دوبارہ دورے پر اپنے سابقہ سفر کی یادیں تازہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل قازیرنگا میں گزارے گئے لمحات ان کی زندگی کے نہایت یادگار تجربات میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں قازیرنگا نیشنل پارک میں رات گزارنے کا موقع ملا اور اگلی صبح ہاتھی سفاری کے دوران انہوں نے اس خطے کی قدرتی خوبصورتی کو نہایت قریب سے محسوس کیا۔
وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس انہوں نے جھوموئیر مہوتسو میں شرکت کی تھی اور اس بار ماگھ بیہو کے موقع پر آسام آنے کا موقع ملا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محض ایک ماہ قبل وہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے آسام آئے تھے، جہاں انہوں نے گوہاٹی میں توسیع شدہ لوک پریہ گوپیناتھ بردولوئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا اور نامروپ میں امونیا یوریا کمپلیکس کا سنگِ بنیاد رکھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایسے مواقع حکومت کے منتر ’’وکاس بھی، وراثت بھی‘‘ کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے آسام کی تاریخ میں کلیابور کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ ماضی، حال اور مستقبل تینوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلیابور قازیرنگا نیشنل پارک کا دروازہ ہے اور بالائی آسام کے لیے رابطے کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ عظیم سپہ سالار لاچت برفوکن نے یہیں سے مغل حملہ آوروں کے خلاف حکمتِ عملی ترتیب دی تھی اور ان کی قیادت میں آسام کے عوام نے حوصلے، اتحاد اور عزم کے ساتھ مغل فوج کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک عسکری فتح نہیں تھی بلکہ آسام کے فخر اور خود اعتمادی کا اعلان بھی تھی۔ وزیرِ اعظم نے نشاندہی کی کہ اہوم دورِ حکومت سے ہی کلیابور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل رہا ہے اور خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت کے تحت یہ خطہ اب رابطے اور ترقی کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نے بھارت رتن ڈاکٹر بھوپن ہزاریکا کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قازیرنگا کی خوبصورتی کو نہایت محبت کے ساتھ بیان کیا تھا، جس میں قازیرنگا سے ان کی وابستگی اور آسام کے عوام کے فطرت سے گہرے رشتے کی جھلک نظر آتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ قازیرنگا محض ایک قومی پارک نہیں بلکہ آسام کی روح اور بھارت کی حیاتیاتی تنوع کا ایک انمول خزانہ ہے، جسے یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قازیرنگا اور اس کی جنگلی حیات کا تحفظ صرف ماحول کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آسام کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے تئیں ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ آخر میں وزیرِ اعظم نے آسام کی سرزمین سے نئے منصوبوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اقدامات وسیع پیمانے پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ قازیرنگا ایک سینگ والے گینڈے کا مسکن ہے، سیلاب کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے وقت جنگلی جانور بلند مقامات کی طرف رخ کرتے ہیں اور قومی شاہراہ عبور کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اکثر پھنس جاتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آمد و رفت کو ہموار رکھا جائے اور ساتھ ہی جنگل اور جنگلی حیات کو بھی محفوظ رکھا جائے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ اسی ویژن کے تحت کلیابور سے نمالی گڑھ تک تقریباً 90 کلو میٹر طویل راہداری تیار کی جا رہی ہے، جس پر لگ بھگ 7,000 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، جس میں 35 کلو میٹر طویل ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور بھی شامل ہے۔ اس منصوبے میں گاڑیاں اوپر سے گزریں گی جبکہ نیچے جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گی۔ اس کا ڈیزائن گینڈوں، ہاتھیوں اور شیروں کی روایتی آمد و رفت کے راستوں کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور بالائی آسام اور اروناچل پردیش کے درمیان رابطے کو بھی بہتر بنائے گا اور نئی ریل خدمات کے ساتھ مل کر عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے آسام کے عوام اور پوری قوم کو ان اہم منصوبوں پر مبارکباد دی۔
وزیرِ اعظم نے آسام کے عوام اور ریاستی حکومت کی ایک اور کامیابی کی ستائش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب گینڈوں کا غیر قانونی شکار ایک سنگین مسئلہ بن چکا تھا اور 2013 اور 2014 میں درجنوں ایک سینگ والے گینڈے مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے یہ طے کیا کہ یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا، چنانچہ سیکورٹی انتظامات کو مضبوط کیا گیا، محکمۂ جنگلات کو جدید وسائل فراہم کیے گئے، نگرانی میں اضافہ کیا گیا اور ’ون درگا‘ کے ذریعے خواتین کی شمولیت بڑھائی گئی۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 2025 میں گینڈوں کے شکار کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا، جو حکومت کے مضبوط سیاسی عزم اور آسام کے عوام کی مشترکہ کوششوں کا ثمر ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ فطرت اور ترقی ایک دوسرے کی مخالف ہیں، لیکن آج بھارت دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ معیشت اور ماحولیات دونوں ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی میں جنگلات اور درختوں کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے اور عوام نے جوش و خروش کے ساتھ ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم میں حصہ لیا ہے، جس کے تحت 260 کروڑ سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد سے ٹائیگر اور ہاتھی ریزروز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور محفوظ و کمیونٹی علاقوں کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ چیتے، جو کبھی بھارت میں ناپید ہو چکے تھے، اب دوبارہ لائے جا چکے ہیں اور ایک نئی کشش بن گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت آبی ذخائر کے تحفظ پر مسلسل کام کر رہا ہے اور ایشیا کا سب سے بڑا رامسر نیٹ ورک بن چکا ہے، جبکہ رامسر مقامات کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ آسام بھی دنیا کو یہ مثال پیش کر رہا ہے کہ ترقی، وراثت کے تحفظ اور فطرت کی حفاظت ساتھ ساتھ ممکن ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ شمال مشرق کا سب سے بڑا درد ہمیشہ فاصلے رہے ہیں، دلوں کے فاصلے اور مقامات کے فاصلے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک اس خطے کے عوام کو یہ احساس رہا کہ ترقی کہیں اور ہو رہی ہے اور انہیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے، جس کا اثر صرف معیشت پر ہی نہیں بلکہ اعتماد پر بھی پڑا۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی جماعت نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کے ذریعے شمال مشرق کی ترقی کو ترجیح دے کر اس سوچ کو بدل دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسام کو سڑکوں، ریلوے، ہوائی راستوں اور آبی راستوں کے ذریعے جوڑنے کے لیے بیک وقت کام شروع کیا گیا۔
ریل رابطے کی توسیع کے سماجی اور معاشی فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے، جو شمال مشرق کے لیے نہایت اہم ہیں، وزیرِ اعظم نے اپوزیشن پر تنقید کی اور کہا کہ جب وہ مرکز میں اقتدار میں تھے تو آسام کو ریل بجٹ میں محض تقریباً 2,000 کروڑ روپے ملتے تھے، جبکہ ان کی حکومت کے تحت یہ رقم بڑھا کر تقریباً 10,000 کروڑ روپے سالانہ کر دی گئی ہے، جو پانچ گنا اضافہ ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی ممکن ہوئی ہے، جس میں نئی ریل لائنوں کی تعمیر، لائنوں کی ڈبلنگ اور برقی کاری شامل ہے، جس سے ریلوے کی صلاحیت اور مسافروں کی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کلیابور سے تین نئی ریل خدمات کے آغاز کا اعلان کیا، جو آسام میں ریل رابطے کی ایک اہم توسیع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وندے بھارت سلیپر ٹرین گوہاٹی کو کولکاتا سے جوڑے گی، جس سے طویل فاصلے کا سفر زیادہ آرام دہ ہو جائے گا، جبکہ دو امرت بھارت ایکسپریس ٹرینیں آسام، مغربی بنگال، بہار اور اتر پردیش کے اہم اسٹیشنوں کا احاطہ کریں گی، جس سے لاکھوں مسافر براہِ راست مستفید ہوں گے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ ٹرینیں آسام کے تاجروں کو نئی منڈیوں سے جوڑیں گی، طلبہ کو تعلیمی مواقع تک آسان رسائی فراہم کریں گی اور ملک کے مختلف حصوں کے درمیان سفر کو سہل بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی رابطہ کاری میں توسیع اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے کہ شمال مشرق اب ترقی کے حاشیے پر نہیں رہا، نہ ہی دور ہے، بلکہ ملک کے دل اور دہلی کے قریب ہے۔
وزیرِ اعظم نے آسام کو درپیش ایک بڑے چیلنج، یعنی اس کی شناخت اور ثقافت کے تحفظ، پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے آسام کی حکومت کی تعریف کی کہ اس نے دراندازی کے مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹا، جنگلات، تاریخی و ثقافتی مقامات اور عوامی زمینوں کو غیر قانونی قبضوں سے آزاد کرایا، جسے وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس کے برعکس اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہائیوں تک انہوں نے محض ووٹوں اور حکومت بنانے کے لیے آسام کی زمین دراندازوں کے حوالے کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے دورِ حکومت میں دراندازی مسلسل بڑھتی رہی اور ان عناصر نے، جنہیں آسام کی تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے کوئی سروکار نہیں تھا، بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضے کیے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ دراندازی کے باعث جانوروں کے کوریڈورز میں تجاوزات ہوئیں، غیر قانونی شکار کو فروغ ملا اور اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم میں اضافہ ہوا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں اور ڈبروگڑھ لوک سبھا حلقے کے رکنِ پارلیمان جناب سربانند سونووال نے کہا کہ قازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور ایک تاریخی منصوبہ ہے جو وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی پائیدار ترقی اور اعلیٰ ترین ماحولیاتی ذمہ داری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6,950 کروڑ روپے کا یہ منصوبہ بالائی آسام، بالخصوص ڈبروگڑھ اور تینسوکیا، میں رابطہ کاری کو یکسر تبدیل اور ہموار کرے گا، جبکہ ایک مخصوص ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور کے ذریعے قازیرنگا کی منفرد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بھی یقینی بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمال مشرق کو شمالی بھارت سے جوڑنے والی نئی امرت بھارت ایکسپریس خدمات کے ساتھ یہ اقدامات نقل و حرکت میں نمایاں بہتری، سلامتی میں اضافہ، سفر کے وقت میں کمی اور آسام بھر میں معاشی ترقی کے نئے امکانات پیدا کریں گے۔
اس موقع پر آسام کے گورنر جناب لکشمن پرساد آچاریہ، وزیرِ اعلیٰ آسام ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما، مرکزی وزیر جناب پبیترا مارگھریٹا اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
پس منظر
وزیرِ اعظم نے 6,950 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے قازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور منصوبے (قلیابور–نومالی گڑھ حصے پر قومی شاہراہ این ایچ-715 کی چار لین کاری) کا بھومی پوجن انجام دیا۔ 86 کلومیٹر طویل قازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور ایک ماحول دوست قومی شاہراہ منصوبہ ہے۔ اس میں قازیرنگا نیشنل پارک سے گزرنے والا 35 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور، 21 کلومیٹر بائی پاس سیکشن اور این ایچ-715 کے موجودہ حصے کو دو لین سے چار لین میں توسیع دینے کا 30 کلومیٹر کا کام شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد علاقائی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے، جبکہ پارک کی قیمتی اور متنوع حیاتیاتی وراثت کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔
یہ منصوبہ ناگاؤں، کاربی آنگلونگ اور گولاگھاٹ اضلاع سے گزرے گا اور بالائی آسام، بالخصوص ڈبروگڑھ اور تینسوکیا تک رابطہ کاری میں نمایاں بہتری لائے گا۔ ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور جانوروں کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنائے گا اور انسان و جنگلی حیات کے درمیان تصادم کو کم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سڑک کی حفاظت میں اضافہ، سفر کے وقت اور حادثات کی شرح میں کمی اور بڑھتی ہوئی مسافر و مال برداری کی آمد و رفت کو سہارا فراہم کرے گا۔ منصوبے کے تحت جکھلابندھا اور بوکاکھاٹ میں بائی پاس تعمیر کیے جائیں گے، جس سے شہروں میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی، شہری نقل و حرکت بہتر ہوگی اور مقامی باشندوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔
اس پروگرام کے دوران وزیرِ اعظم نے دو نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں—گوہاٹی (کاماکھیا)–روہتک امرت بھارت ایکسپریس اور ڈبروگڑھ–لکھنؤ (گومتی نگر) امرت بھارت ایکسپریس—کو بھی روانہ کیا۔ یہ نئی ریل خدمات شمال مشرق اور شمالی بھارت کے درمیان ریل رابطے کو مضبوط کریں گی اور عوام کے لیے زیادہ محفوظ اور سہل سفر کو ممکن بنائیں گی۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno- 744
(रिलीज़ आईडी: 2215927)
आगंतुक पटल : 8