وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی پروری شعبے کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے ماہی پروری کے سکریٹریوں کی قومی کانفرنس کا انعقاد


“بروقت اقدامات، مضبوط عمل درآمد اور سائنسی منصوبہ بندی آنے والے برسوں میں بھارت کی ماہی پروری کی ترقی کی سمت کا تعین کریں گے”: ڈاکٹر ابھی لکش لیکھی

प्रविष्टि तिथि: 16 JAN 2026 7:25PM by PIB Delhi

وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے محکمۂ ماہی پروری (ڈی او ایف)، نے ماہی پروری کے سکریٹریوں کی قومی کانفرنس ڈاکٹر ابھی لکش لیکھی، مرکزی سکریٹری، محکمۂ ماہی پروری کی صدارت میں منعقد کی۔ کانفرنس میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)، ماہی پروری اور ایکوا کلچر بنیادی ڈھانچے کی ترقّی کے فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) اور پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہیوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری ماہی پروری مردم شماری 2025، ویلیو ایڈیڈ سمندری غذاؤں کی برآمدات، اور مختلف اسکیموں کے تحت اہم اہداف و پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ کانفرنس اے پی شندے سمپوزیم ہال، این اے ایس سی کمپلیکس، پوسا روڈ، نئی دہلی میں منعقد کی گئی۔

A group of people standing in front of a stageAI-generated content may be incorrect.

 

کانفرنس میں 25 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سینئر افسران کے علاوہ آئی سی اے آر اداروں، چھوٹے کسانوں کے زراعتی تجارت کے کنسورشیم (ایس ایف اے سی)، نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی)، نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (نافید)، میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) اور دیگر شعبہ جاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر ابھی لکش لیکھی، مرکزی سکریٹری، محکمۂ ماہی پروری نے فنڈ کے مؤثر استعمال کے اہم مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ منظور شدہ سرگرمیوں کی بروقت اور ہموار پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بروقت اور مؤثر طریقے سے جاری کرنے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مربوط ایکوا پارکس، سمندری گھاس کی کھیتی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ساحلی ماہی گیر دیہات (سی آر سی ایف ویز)، مصنوعی چٹانوں اور کلسٹر ڈیولپمنٹ کی ترقی کے لیے وقت کی پابندی پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر لیکھی نے ڈیجیٹلائزیشن پر مشترکہ توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے کہا کہ نیشنل فشریز ڈیجیٹل پورٹل پر رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے ایکوا کلچر انشورنس کوریج میں کمی کی نشاندہی کی اور ماہی گیروں کے ذریعۂ معاش کے تحفظ کے لیے اس کے وسیع تر فروغ کی ترغیب دی۔ مزید برآں، انہوں نے ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مشورہ دیا کہ پردھان منتری دھن دھانیا یوجنا کے تحت ماہی پروری اور ایکوا کلچر کے اجزا کی قریبی نگرانی کریں تاکہ اسکیم کے فوائد نچلی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔

جناب  ساگر مہرا، جوائنٹ سکریٹری (ان لینڈ)، محکمۂ ماہی پروری نے اندرونی ماہی پروری کا مجموعی جائزہ پیش کیا اور پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی نوٹیفکیشن کے باوجود ذخیرہ آبی ماہی پروری اور اندرونی کلسٹرز اب بھی کم ترقی یافتہ ہیں۔ انہوں نے انڈین میجر کارپس سے آگے تنوع لانے، منڈی سے جڑی اعلیٰ قدر کی اقسام کو فروغ دینے اور اندرونی ریاستوں میں برآمدات کی تیاری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

محترمہ نیتو کماری پرساد، جوائنٹ سکریٹری (میرین)، محکمۂ ماہی پروری نے ساحلی ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے متعلق امور پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے میری کلچر ڈیولپمنٹ (2025) کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کو فوری طور پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح سمندری پانی کے لیزنگ ضوابط، بایو سیکیورٹی پروٹوکولز اور سادہ منظوری کے نظام کے ساتھ ریاستی میری کلچر پالیسیوں کی نوٹیفکیشن کی اپیل کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کی طویل ساحلی پٹی کے باوجود کھارے پانی کے وسائل کا صرف ایک محدود حصہ ہی استعمال ہو رہا ہے، اور فِن فِش، شیل فِش، آئی ایم ٹی اے، سمندری گھاس اور اوپن سی کیج فارمنگ میں تنوع لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مصنوعات کے معیار میں بہتری اور بعد از برداشت نقصانات میں کمی کے لیے شمسی خشک کاری اور گرین فیولز جیسی موسمیاتی موافق ٹیکنالوجیاں اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

A group of people sitting in a conference roomAI-generated content may be incorrect.

 

جناب ڈوڈّا وینکٹا سوامی، چیئرمین، ایم پی ای ڈی اے نے اضافی اقدار والی سمندری کھانے کی اشیاء کی برآمدات میں مواقع پر ایک پریزنٹیشن پیش کی، جس میں ہنرمندی میں اضافہ، مچھلی کے فضلے کے بہتر استعمال، اور پائیداری، بایو سیکیورٹی اور ٹریس ایبلٹی یا پتہ لگانے پر زیادہ توجہ کی ضرورت کو اجاگر کیا، تاکہ عالمی منڈیوں میں بھارت کی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔

ڈاکٹر جے کے جینا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر نے ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے آئی سی اے آر کی توقعات بیان کرتے ہوئے کیچ ڈیٹا جمع کرنے کے لیے یکساں ٹیکنالوجی اپنانے، مضبوط اسٹاک اسیسمنٹ نظام قائم کرنے، کم از کم قانونی سائز کے ضوابط کی پابندی، اور ٹیکنالوجی و بہترین عملی طریقوں کے وسیع تر فروغ کے لیے ملٹی پلائر یونٹوں کے قیام پر زور دیا۔

ڈاکٹر وجے کمار بہرا، چیف ایگزیکٹو، این ایف ڈی بی نے غور و خوض کے لیے اسٹریٹجک پس منظر پیش کرتے ہوئے عوامی سرمایہ کاری کے حجم کے جائزے، منصوبوں کی عملی بنیاد (گراؤنڈنگ) اور اقداری سلسے کے انضمام میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی، اور وقت کی پابندی پر مبنی عملی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب سبھاش چندر، کنٹرولر آف اکاؤنٹس نے پی ایم ایم ایس وائی سمیت مرکزی معاونت یافتہ اور مرکزی شعبہ جاتی اسکیموں کے تحت فنڈز کی “جسٹ اِن ٹائم” یعنی بر وقت اجراء پر پریزنٹیشن دی۔

ڈاکٹر گرنسن جارج، ڈائریکٹر، آئی سی اے آر–سی ایم ایف آر آئی نے سمندری ماہی پروری مردم شماری 2025 سے متعلق تازہ معلومات شیئر کیں، جن میں پورٹل کی ہم آہنگی، خلاصہ رپورٹوں کے ٹیمپلیٹس کی حتمی تیاری، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے ایف ایس آئی ڈیٹا کا انضمام، اور خام ڈیٹا کو نیشنل میرین فشریز ڈیٹا بیس میں تبدیل کرنے کا عمل شامل تھا۔

صنعتی شعبے کی پریزنٹیشنز میں بہترین عملی طریقوں اور اختراعات کو نمایاں کیا گیا۔ جناب ارجن گاڈرے (گاڈرے میرین ایکسپورٹ) نے سوریمی مصنوعات کی کامیابی کی مثال پیش کی اور ویلیو ایڈیڈ سمندری غذائی اشیاء کے لیے ملکی و عالمی طلب کے بدلتے رجحانات بیان کیے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ خام مال کی سالمیت اور پروسیسنگ میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے اقدامات نافذ کریں، جو بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کے لیے ناگزیر ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے اپنی پیش رفت اور نفاذ کی صورتحال پیش کی، عملی چیلنجز شیئر کیے، ٹی ایس اے–ہائبرڈ ماڈل کے تحت فنڈ سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا، اور آئندہ مدت کے لیے اپنی ترجیحات بیان کیں۔ متعدد ریاستوں اور یوٹیز نے جسمانی و مالی اہداف کے حصول کے لیے این ایف ڈی بی سے رہنمائی طلب کی، جبکہ اکثریت نے مارچ 2026 تک اخراجات کے سنگِ میل مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ تمل ناڈو نے بتایا کہ سمندری گھاس پارک پر کام اچھی رفتار سے جاری ہے اور ہب–1 تکمیل کے قریب ہے، جبکہ پڈوچیری نے اپنی جاری پہلوں کو اجاگر کیا اور خواتین گروپس کے لیے گہرے سمندر میں ماہی گیری کی کشتیوں کی منظوری دینے کی بات کی۔ اڈیشہ نے بتایا کہ ریاستی کوآپریٹو ضابطوں کی عدم حتمیت کے باعث مرکزی اسکیموں کے فوائد تک رسائی متاثر ہوئی ہے اور مرکزی فریم ورک سے ہم آہنگی کے لیے تعاون مانگا۔ اتراکھنڈ نے آئی ٹی بی پی کے ساتھ تازہ رینبو ٹراؤٹ کی فراہمی کے لیے مجوزہ مفاہمت نامے پر پیش رفت شیئر کی، جس ماڈل کو دیگر ریاستوں کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا گیا۔ ہماچل پردیش نے کلو کو ٹراؤٹ کلسٹر کے طور پر ترقی دینے کے ساتھ ایک ایکوا پارک کی الاٹمنٹ کی درخواست کی۔

جائزے کے دوران مہاراشٹر کو ہدایت دی گئی کہ گہرے سمندر میں ماہی گیری کی کشتیوں کی الاٹمنٹ کے لیے لاٹری نظام ختم کیا جائے تاکہ کوآپریٹوز کو وسیع تر رسائی مل سکے۔ کیرالہ کو سی ویڈ فارمنگ شروع کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ریاستوں کو دِشا کانفرنسز میں اسکیموں کی پیش رفت رپورٹ کرنے کو کہا گیا۔ تمل ناڈو نے چنئی میں این ایف ڈی بی کے علاقائی دفتر کے قیام کی درخواست کی، اور پڈوچیری کو پائلٹ سی 6 بایوفیول انرجی پروجیکٹ میں تیزی لانے کی ہدایت دی گئی۔ مدھیہ پردیش کو ایکوا پارکس پر کام تیز کرنے، جھارکھنڈ کو متسیہ سیوا کیندر، ڈی اے جے جی یو اے، موتی کلسٹرز اور ذخائر پر مبنی سرگرمیوں میں رفتار بڑھانے، اور چھتیس گڑھ کو اپنے تلاپیا کلسٹر کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی گئی۔ راجستھان کو ایس سی/ایس ٹی اور ڈی اے جے جی یو اے فنڈز کے مکمل استعمال کا مشورہ دیا گیا، جبکہ ہریانہ کو اپنے ایکوا پارک اور شرمپ یعنی جھینگا کلسٹر کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اڈیشہ میں کوآپریٹو ضابطوں  کے نفاذ، اور ریاستوں میں کلسٹر پر مبنی ترقی، ذخائر کی ماہی پروری اور ڈیجیٹل انضمام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

کانفرنس نے قومی اور ریاستی سطح کی کوششوں میں ہم آہنگی، تعاون کے فروغ، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، اور ماہی پروری شعبے کے پروگراموں کے مؤثر اور وقت کی پابندی پر مبنی نفاذ کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ثابت کیا، تاکہ بھارت کے سمندری معیشت وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 705   )


(रिलीज़ आईडी: 2215459) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil