الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا اے آئی، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی ، میٹی)، اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کی جانب سے سماجی بااختیاری کے لیے شمولیت سے متعلق ورکنگ گروپ میٹنگ کا انعقاد


جامع، انسان مرکوز اور ذمہ دارانہ  مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے کو فروغ دینا

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کی رہنمائی کے لیے ورکنگ گروپ کے مشاورتی مباحث

प्रविष्टि तिथि: 16 JAN 2026 6:16PM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی مشن، وزارت الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) نے آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) حیدرآباد کے اشتراک سے، آئی آئی ٹی حیدرآباد کیمپس میں سماجی بااختیاری کے لیے شمولیت سے متعلق ایک ورکنگ گروپ میٹنگ کی میزبانی کی۔ اس اجلاس میں سینئر پالیسی سازوں، تعلیمی قائدین، صنعت کے ماہرین اور محققین نے شرکت کی، تاکہ جامع مصنوعی ذہانت کی ترقی، سماجی طور پر اے آئی کو اپنانے، اور اے آئی سے چلنے والے مواقع تک مساوی رسائی کے حوالے سے قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ میٹنگ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے لیے ایک پیش خیمہ ہے، جو 16 سے 20 فروری 2026 تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ہے۔ یہ اجلاس ملک بھر میں منعقد کی جانے والی ورکنگ گروپ مشاورت کے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد سمٹ کے موضوعاتی ایجنڈے اور متوقع نتائج کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں ورکنگ گروپ کے ہندوستانی سربراہ جناب راجیش اگروال، چیف سکریٹری، حکومت مہاراشٹر؛ سفیر تھامس شنائیڈر، ڈائریکٹر، فیڈرل آفس فار کمیونیکیشنز، سوئٹزرلینڈ؛ پروفیسر بی۔ ایس۔ مورتی، ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی حیدرآباد؛ ڈاکٹر نلن کمار سریواستو، ایڈیشنل ڈائریکٹر، اے آئی اینڈ ای ٹی ڈویژن، ایم ای آئی ٹی وائی؛ اور جناب سی ایچ۔ بھارت ریڈی، جوائنٹ ڈائریکٹر (ای-گورننس)، حکومت تلنگانہ نے شرکت کی۔ مقررین نے ہندوستان کے مصنوعی ذہانت کے سفر میں شمولیت، اعتماد اور سماجی تناظر کو مرکزی حیثیت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے، پروفیسر بی۔ ایس۔ مورتی، ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی حیدرآباد نے کہا:“اگر ہندوستان واقعی مصنوعی ذہانت میں قیادت کا خواہاں ہے، تو ہمیں جرات مندانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ اے آئی کو بین الضابطہ ہونا چاہیے، جس میں انجینئرنگ، میٹریل سائنس، لبرل آرٹس اور دیگر شعبوں کو یکجا کیا جائے۔ مضبوط بنیادی اصولوں سے لے کر حقیقی دنیا کی ایپلی کیشنز تک، ہماری توجہ ذمہ دار اور قابلِ اعتماد اے آئی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگیوں کو بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔

ورکنگ گروپ کے لیے سیاق و سباق متعین کرتے ہوئے، ڈاکٹر نلن کمار سریواستو، ایڈیشنل ڈائریکٹر، اے آئی اینڈ ای ٹی ڈویژن، ایم ای آئی ٹی وائی نے کہا:“یہ اجتماع مصنوعی ذہانت میں شمولیت، رسائی، ذمہ داری اور مساوات جیسے اہم مسائل کے حل کے لیے روشن ذہنوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ محض ٹیکنالوجی کے بارے میں نہیں، بلکہ سماجی بااختیار بنانے کے بارے میں ہے، جس میں انسان کو مرکزیت حاصل ہے۔ اے آئی کوئی محض تکنیکی انتخاب نہیں، بلکہ ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔

اپنے کلیدی خطاب میں، جناب راجیش اگروال، چیف سکریٹری، حکومت مہاراشٹر نے کہا:“مصنوعی ذہانت پر ہندوستان کی کوششیں سات عمودی شعبوں کے گرد ترتیب دی گئی ہیں، جن میں سے ایک سماجی بااختیار بنانے پر مرکوز ہے، اور اس میں متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی فعال شراکت شامل ہے۔ اگرچہ اے آئی سائنس، مواد، صحت کی دیکھ بھال اور دریافت کے شعبوں میں پیش رفت کو ممکن بنا رہا ہے، لیکن بالآخر اسے مختلف سماجی اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہندوستان نے ایک مضبوط ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ قائم کیا ہے، اور اگلا قدم ان نظاموں میں اے آئی کی تہہ شامل کرنا ہے۔ جیسے جیسے اے آئی ترقی کرے، اسے سب کے لیے کارآمد ہونا چاہیے، ڈیٹا اور زبان میں موجود تعصبات کو دور کرنا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی عدم مساوات میں اضافے کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچائے۔

جناب سی ایچ۔ بھارت ریڈی، جوائنٹ ڈائریکٹر (ای-گورننس)، حکومت تلنگانہ نے اختراع کے حوالے سے ریاستی حکومت کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“ہماری توجہ ہمیشہ ترقی پر مرکوز رہی ہے، اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا اس مقصد کے حصول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ میں حکومت تلنگانہ کی نمائندگی کرتا ہوں، اور یہ اقدامات ایک مضبوط، مستقبل کے لیے تیار اختراعی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ دہلی میں منعقد ہونے والی آئندہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں، ان موضوعات کو فوکسڈ بریک آؤٹ سیشنز کے ذریعے مزید آگے بڑھایا جائے گا، جس سے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گہرا مکالمہ اور تعاون ممکن ہو سکے گا۔

 

اعلیٰ سطحی کلیدی خطاب کرتے ہوئے، سفیر تھامس شنائیڈر، ڈائریکٹر، فیڈرل آفس فار کمیونیکیشنز، سوئٹزرلینڈ نے زور دے کر کہا کہ مصنوعی ذہانت کو پائیدار انداز میں بروئے کار لانا ناگزیر ہے، تاکہ ہم اپنے سیارے کو ایسی حالت میں محفوظ رکھ سکیں جو آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک قابلِ رہائش گھر بنا رہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو ترقی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، جس میں معاشی اور سماجی ترقی دونوں شامل ہیں، اور اے آئی اور ڈیٹا کے ذریعے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آج انسانیت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹا جانا چاہیے۔

سفیر شنائیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیش رفت محض چند افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر فرد تک اس انداز میں پہنچنی چاہیے جو انسانی وقار، بنیادی حقوق اور خود مختاری کا احترام کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب ذمہ داری کے ساتھ اے آئی کو ڈیزائن اور نافذ کیا جائے تو یہ خیر کے لیے ایک طاقتور قوت بن سکتی ہے، تاہم تعصب، عدم مساوات اور اخراج کے خطرات کے حوالے سے مستقل طور پر چوکنا رہنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اے آئی کی مشترکہ بھلائی کو یقینی بنانے کے لیے جامع، کثیرالجہتی اور کثیر فریقین کے مابین تعاون ناگزیر ہے۔ اسی جذبے کے تحت، اے آئی کے ذریعے شمولیت کے فروغ کے لیے اتحاد، مصنوعی ذہانت کو چند افراد کے استحقاق کے بجائے سب کے لیے ایک موقع بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کے بعد پروگرام کو ریلائنس جیو کے چیف ڈیٹا سائنٹسٹ، پروفیسر شیلیش کمار کے تکنیکی کلیدی خطاب سے آگے بڑھایا گیا، جو اے آئی کے ساتھ بھارت کا ازسرِ نو تصور کے عنوان سے تھا۔ اس خطاب میں قومی ترقی کو تیز کرنے میں اختراع کے کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔

بعد ازاں، جامع مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینا کے موضوع پر پہلا پینل مباحثہ منعقد ہوا، جس میں پروفیسر سوموہنا چنّاپیا (آئی آئی ٹی حیدرآباد)، جناب رومی شریواستو (ہنی ویل)، جناب سوروپ شانتی میداسانی (میتھ ورکس)، جناب رامیا کنن بابو (انٹیل) اور پروفیسر چکرورتی بھگوتی (یونیورسٹی آف حیدرآباد) نے شرکت کی۔ ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے مکمل لائف سائیکل—ابتدائی ڈیٹا جمع کرنے اور ڈیزائن سے لے کر تعیناتی اور حکمرانی تک—میں شمولیت کو مؤثر طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق اور صنعتی تجربات کی روشنی میں، پینلسٹوں نے تعصب میں کمی، رسائی میں اضافے اور سماجی و معاشی شمولیت کو فروغ دینے والے اے آئی نظاموں کی تشکیل کے لیے عملی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

دوسرے پینل مباحثے مصنوعی ذہانت کو سماجی طور پر اپنانا: مواقع اور چیلنجز کا آغاز جناب راجیش اگروال نے کیا۔ اس سیشن میں اوارتن لیبز، ایل وی پرساد آئی ہاسپیٹل، 1× ورکس، کونچ ڈیپ ٹیک وینچر اسٹوڈیو اور ریان فاؤنڈیشن سے وابستہ صنعتی نمائندوں، محققین اور سول سوسائٹی کے ماہرین کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس نشست میں صحت کی دیکھ بھال اور عوامی خدمات جیسے اہم شعبوں میں اے آئی کے نفاذ سے پیدا ہونے والے انقلابی مواقع اور عملی سطح پر درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکاء نے اعتماد، جوابدہی اور تیاری جیسے موضوعات کا جائزہ لیا اور فرنٹ لائن تعیناتی کے تجربات کی بنیاد پر اس امر کو اجاگر کیا کہ ڈویلپرز اور کمیونٹیز کے درمیان تعاون کس طرح اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ اے آئی بامعنی سماجی فوائد فراہم کرے۔

اس تقریب میں اسٹارٹ اپ پچ سیشنز، مختلف تعلیمی سطحوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے نقطۂ نظر، اور منظم نیٹ ورکنگ مباحثے بھی شامل تھے، جن کا مقصد اختراع کاروں، محققین اور پالیسی سازوں کے درمیان مؤثر رابطے اور شراکت داری کو فروغ دینا تھا۔ دن کا اختتام انکلوژن فار سوشل امپاورمنٹ ورکنگ گروپ کی بند دروازے کی ہائبرڈ میٹنگ پر ہوا، جس میں حاصل شدہ بصیرتوں اور سفارشات کو حتمی شکل دینے پر توجہ دی گئی۔

آئی آئی ٹی حیدرآباد میں سماجی بااختیار بنانے کے لیے شمولیت پر منعقد ہونے والی ورکنگ گروپ میٹنگ کے تحت ہونے والی کانکلیو مباحثے، انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں قومی سطح کے مکالمے کو تقویت فراہم کریں گے۔ یہ اقدامات وکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق، انڈیا اے آئی مشن کے تحت جامع، ذمہ دار اور انسانی مرکزیت پر مبنی مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے حکومتِ ہند کے عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-692


(रिलीज़ आईडी: 2215427) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी