وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

سی بی آئی سی نے 15 جنوری 2026 سے پوسٹل شپمنٹ کے لیے برآمدی مراعات میں توسیع کردی


توقع ہے کہ ترغیبات سے ایم ایس ایم ای برآمد کنندگان کی مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا ، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں سے اور ڈاک کی برآمدات کو بڑا فروغ ملے گا

ترغیبات سے توقع ہے کہ وہ ایم ایس ایم ای برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کریں گی، خصوصاً چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان کے لیے، اور ڈاک کے ذریعے برآمدات کو بھی نمایاں فروغ دیں گی

प्रविष्टि तिथि: 16 JAN 2026 9:48AM by PIB Delhi

بھارت کی ای کامرس اور ایم ایس ایم ای برآمدات کو ایک اہم فروغ دیتے ہوئے، سنٹرل بورڈ آف انڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز (CBIC) نے 15 جنوری 2026 سے ڈاک کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے کی جانے والی برآمدات کو ڈیوٹی ڈرابیک، برآمد شدہ مصنوعات پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی واپسی (RoDTEP) اور ریاستی و مرکزی ٹیکسوں اور لیویز کی ریبیٹ (RoSCTL) اسکیموں کے تحت برآمدی مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ تاریخی اقدام ڈاک کے ذریعے برآمدات کرنے والے برآمد کنندگان کو مساوی مواقع فراہم کرنے اور سرحد پار ای کامرس کی ترقی کے لیے ایک سازگار اور جامع ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے بالخصوص چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں قائم ایم ایس ایم ای برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ڈاک کے ذریعے برآمدات کو زبردست تقویت ملے گی۔

ان مراعات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سی بی آئی سی (CBIC) نے پوسٹل ایکسپورٹ (الیکٹرانک ڈیکلریشن اینڈ پروسیسنگ) ریگولیشنز، 2022 میں ترامیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت برآمد کنندگان کو ڈاک کے ذریعے برآمد کی جانے والی اشیا پر ڈیوٹی ڈرابیک، RoDTEP اور RoSCTL کے فوائد حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں نوٹیفکیشن نمبر 07/2026–کسٹمز (N.T.) کے ذریعے مذکورہ ضوابط میں ترمیم کی گئی ہے، جبکہ ان ترامیم کی وضاحت اور عملی طریقۂ کار کی تفصیل فراہم کرنے کے لیے سرکلر نمبر 01/2026–کسٹمز بھی جاری کیا گیا ہے۔ یہ دونوں دستاویزات 15 جنوری 2026 کو جاری کی گئیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومتِ ہند نے بھارت کے ای کامرس برآمدی ماحولیاتی نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات، ڈیجیٹل اصلاحات اور ضابطہ جاتی اقدامات کیے ہیں۔ غیر ملکی تجارتی پالیسی 2023 میں “ڈیجیٹل معیشت میں سرحد پار تجارت کے فروغ” کے عنوان سے ایک خصوصی باب شامل کیا گیا ہے، جو کورئیر، ڈاک، ای کامرس ایکسپورٹ ہبز، ڈاک نِریات کیندر اور دیگر سہولت فراہم کرنے والے طریقۂ کار کے ذریعے سرحد پار ای کامرس کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک مہیا کرتا ہے۔

ہندوستان میں اس وقت 28 غیر ملکی ڈاک خانے (ایف پی اوز) ہیں جو کسٹمز ایکٹ 1962 کی دفعہ 7 کے تحت نوٹیفائی کیے گئے ہیں ۔  سی بی آئی سی نے پوسٹل اور کورئیر طریقوں کے ذریعے سرحد پار تجارت کو مستحکم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں ۔  پوسٹل ایکسپورٹ (الیکٹرانک اعلامیہ اور پروسیسنگ) ضابطے ، 2022 نے پوسٹل برآمدات کے لیے برآمدی اعلانات کی اینڈ ٹو اینڈ الیکٹرانک پروسیسنگ کو قابل بنایا ۔  مزید برآں ، ڈاک درآمدات کی الیکٹرانک پروسیسنگ کو آسان بنانے کے لیے پوسٹل امپورٹ ریگولیشنز ، 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا ۔  پوسٹل برآمدات کے لیے آئی جی ایس ٹی ریفنڈز کا آٹومیشن ستمبر 2024 میں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا ۔

ای کامرس برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے سی بی آئی سی (CBIC) نے محکمۂ ڈاک کے اشتراک سے دسمبر 2022 میں ایک جدید “ہب اینڈ اسپوک” ماڈل متعارف کرایا، جس میں انڈیا پوسٹ کے وسیع قومی نیٹ ورک سے استفادہ کیا گیا۔ اس ماڈل کے تحت ملک بھر میں 1,000 سے زائد ڈاک نِریات کیندر (DNKs) نامزد کیے گئے ہیں، جو برآمدی پارسلز کی بکنگ، یکجائی (ایگریگیشن) اور پروسیسنگ میں سہولت فراہم کرتے ہیں، اور بالخصوص ایم ایس ایم ایز اور چھوٹے برآمد کنندگان کو خاطر خواہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

ڈاک کے ذریعے بھیجی جانے والی برآمدات کو برآمدی مراعات میں شامل کرنا حکومت کی جانب سے طریقۂ کار کو آسان بنانے، لاگت کم کرنے اور بھارت کی برآمدات کی جامع اور شمولیتی ترقی کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ اس اقدام سے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ای کامرس منظرنامے میں بھارت کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

********

 

ش ح ۔ ش م ۔ م ا

Urdu No-653


(रिलीज़ आईडी: 2215170) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Tamil