سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سائنس دانوں نے صحت مند بڑھاپے پر تحقیق کے نئے باب دریافت کر لیے

प्रविष्टि तिथि: 13 JAN 2026 5:51PM by PIB Delhi

نئی تحقیق کے مطابق، صرف اسٹیم سیلز ہی نہیں بلکہ ان کے اردگرد موجود "ماحول“ (نیبرہُڈ) بھی اس بات کو سمجھنے کی ایک نہایت اہم کنجی ہو سکتا ہے کہ بافتیں (ٹشوز) کس طرح عمر رسیدہ ہوتی ہیں اور اپنی ازسرِ نو پیدا ہونے کی صلاحیت کیوں کھو دیتی ہیں۔ اس مطالعے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسٹیم سیلز کے گرد موجود معاون خلیے عمر سے جڑے نقصانات کے مقابلے میں کہیں زیادہ حساس ہوتے ہیں، جس سے صحت مند بڑھاپے پر تحقیق کے نئے باب کھلے ہیں۔

صحت مند بڑھاپا عالمی سطح پر ایک اہم ترجیح ہے، اور سائنس دان انسانی بافتوں یا ٹشوز میں عمر سے متعلق زوال کے آغاز کو مؤخر کرنے کے لیے مختلف حکمتِ عملیوں پر کام کر رہے ہیں۔

پونے میں واقع آگھرکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے آر آئی)، جو محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا ایک خودمختار ادارہ ہے، کے محققین نے فروٹ فلائی ڈروسوفیلا میلانوگاسٹر کی اووریوں (بیضہ دانی) کا مطالعہ کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ وقت کے ساتھ تولیدی اسٹیم سیلز کی کارکردگی کو برقرار رکھنے والے عوامل کون سے ہیں۔ ان کی یہ تحقیق سائنسی جریدے اسٹیم سیل رپورٹس میں بطور سرورق مضمون (کور آرٹیکل) شائع ہوئی۔

مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ جرملائن اسٹیم سیلز (یعنی خصیوں یا اووریوں میں پائے جانے والے وہ خاص بالغ اسٹیم سیلز جو مسلسل خود کو نیا بناتے ہیں اور گیمیٹس پیدا کرتے ہیں) آٹو فیجی کی بہت کم سطح کے باوجود خود کو برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن ان کے پڑوس میں موجود معاون خلیے، جنہیں کیپ سیلز کہا جاتا ہے، اپنی طویل مدتی بقا کے لیے اسی عمل پر شدید حد تک انحصار کرتے ہیں۔ آٹو فیجی خلیے کے اندر موجود “ری سائیکلنگ” نظام کو کہا جاتا ہے۔

جب آٹو فیجی سے متعلق جینز، جیسے اے ٹی جی1، اے ٹی جی5 یا اے ٹی جی9، کو کیپ سیلز میں مخصوص طور پر غیر فعال کر دیا گیا تو یہ مخصوص خلیے نقصان جمع کرنے لگے، ان کی ساخت متاثر ہوئی اور وہ رفتہ رفتہ جرملائن اسٹیم سیلز کو ضروری حفاظتی اور نگہداشتی سگنلز بھیجنے میں ناکام ہو گئے۔ نتیجتاً، اگرچہ اسٹیم سیلز خود اندرونی طور پر مضبوط رہے، مگر ان کا معاون مائیکرو ماحول تباہ ہونے کے باعث وہ بالآخر ٹشو سے ختم ہو گئے۔

 

ٹیم نے یہ واضح کیا ہے کہ اس نظام میں بڑھاپے کا آغاز اسٹیم سیلز سے نہیں بلکہ ان کے معاون خلیوں کی خرابی سے ہوتا ہے، جو ایک پرورش کرنے والے پڑوس (نَچرنگ نیبرہُڈ) کی طرح کام کرتے ہیں۔ کیپ سیلز مسلسل حیاتی کیمیائی اشارے فراہم کرتے ہیں، جن میں بون مورفوجینیٹک پروٹین (بی ایم پی) سگنلز شامل ہیں، جو جرملائن اسٹیم سیلز کو اپنی شناخت برقرار رکھنے اور انڈے پیدا کرتے رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب درمیانی عمر کے دوران ان مخصوص خلیوں میں آٹو فیجی کا عمل متاثر ہوتا ہے تو بی ایم پی سگنلنگ کمزور پڑ جاتی ہے، اور اسٹیم سیلز کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا، یوں مائیکرو ماحول کی خرابی کو براہِ راست ٹشوز یا بافتوں کی ازسرِ نو بننے کی صلاحیت کے خاتمے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق اس روایتی نظریے کو چیلنج کرتی ہے کہ بڑھاپا بنیادی طور پر ہر خلیے کے اندر ہونے والے نقصان کی وجہ سے ہوتا ہے، بلکہ اس کے برعکس یہ ایک اجتماعی یا برادری جیسے عمل کو اجاگر کرتی ہے، جہاں اسٹیم سیلز کی تقدیر کا گہرا تعلق ان کے پڑوسی خلیوں کی صحت سے ہوتا ہے۔ ایک ہی بافت میں مختلف خلیاتی اقسام کے لیے آٹو فیجی کی مختلف ضروریات کو ظاہر کرتے ہوئے، یہ مطالعہ بڑھاپے کو مؤخر کرنے کی حکمتِ عملی تیار کرتے وقت پورے خلیاتی ماحولیاتی نظام کو مدنظر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ مطالعہ کیرن سہاس نیلانگیکر اور ڈاکٹر بھپیندر وی۔ شراواجے کی قیادت میں، ڈیولپمنٹل بایولوجی گروپ، آگھرکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں مکمل کیا گیا، جو اسٹیم سیل خلیوں میں بڑھاپے کی تحقیق کے میدان میں اے آر آئی پونے کو نمایاں مقام پر لے آتا ہے۔ ان کے نتائج اس بات کی سائنسی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ معاون خلیے کس طرح ٹشوز میں ابتدائی “کمزور کڑی” بن سکتے ہیں، جو اس وقت بھی عمر سے جڑے زوال کو متحرک کر سکتے ہیں جب خود اسٹیم سیلز نسبتاً مضبوط ہوں۔

ڈروسوفیلا جیسے جینیاتی طور پر قابلِ کنٹرول ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے، ٹیم نے ایسی بصیرتیں حاصل کی ہیں جن سے مستقبل میں پستانی بافتوں، جیسے آنت، جلد اور عضلات پر تحقیق کی رہنمائی متوقع ہے، جہاں اسی طرح کی خصوصیت اور اسٹیم سیل تعلقات پائے جاتے ہیں۔

اگرچہ موجودہ تحقیق فروٹ فلائیز پر کی گئی ہے، تاہم جن بنیادی راستوں کا مطالعہ کیا گیا ہے، یعنی آٹو فیجی اور اسٹیم سیل مخصوص سگنلنگ، وہ مختلف انواع میں محفوظ (کنزروڈ) ہیں، جس سے اے آر آئی کے نتائج وسیع تر بڑھاپے کے حیاتیاتی علم کے لیے نہایت اہم ہو جاتے ہیں۔ یہ مظاہرہ کہ معاون خلیوں کو مضبوط یا محفوظ بنا کر بالواسطہ طور پر اسٹیم سیلز کی کارکردگی کو طویل کیا جا سکتا ہے، مستقبل میں زرخیزی اور بافتوں کی صحت کو بڑھاپے کے دوران برقرار رکھنے کے لیے نئی مداخلتوں کی سمت اشارہ کرتا ہے۔

 محققین آئندہ مرحلے میں اس بات کا جائزہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں کہ ایک ہی بافت کے اندر مختلف خلیاتی اقسام کس طرح مضبوطی اور نازکی کے درمیان توازن قائم کرتی ہیں، اور آیا مخصوص خلیوں میں آٹو فیجی کی ہدفی ترتیب (ٹارگیٹڈ ماڈیولیشن) عمر سے متعلق ازسرِ نو بننے کی صلاحیت کے زوال کو سست کر سکتی ہے یا نہیں۔

اشاعت کا لنک :

https://www.cell.com/stem-cell-reports/fulltext/S2213-6711(25)00316-9

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :   532 )


(रिलीज़ आईडी: 2214284) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी