قانون اور انصاف کی وزارت
عدالتی مقدمات کا فوری تصفیہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 DEC 2025 1:41PM by PIB Delhi
مقدمات کا تصفیہ عدلیہ کے خصوصی دائرہ کار میں ہوتا ہے ۔ اپریل 2024 میں ، "ٹرائل کورٹس ، ضلعی اپیل کورٹ ، ہائی کورٹس کے لیے ماڈل کیس فلو مینجمنٹ رولز اور ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ تجویز کرنےسے متعلق سپریم کورٹ کمیٹی نے پرانے زیر التواء مقدمات کو مقررہ وقت میں نمٹانے کے لیے ضلعی عدلیہ میں زیر التوا مقدمات کو کم کرنے کی عملی منصوبہ بندی تیار کی اور شیئر کیا ۔ اس عملی منصوبہ بندی میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے زیر التواء مقدمات جیسے کہ 10 ، 20 یا 30 سال سے زیادہ عرصے سے زیر التواء مقدمات پر خصوصی زور دینے ، طویل عرصے سے زیر التواء اور نئے مقدمات کو حتمی شکل دینے میں تیزی لانے ، ججوں کے درمیان مساوی مقدمات کی تقسیم ، غیر تیار اور زیر التواء مقدمات کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے ، تنازعات کے متبادل حل کا موثر استعمال ، ٹیکنالوجی کا استعمال ، بروقت پیش رفت اور حل کو آسان بنانے کے لیے غیر تاریخ شدہ مقدمات کا انتظام ، عدالتی افسران کو مناسب انسانی وسائل کی مدد ، ایکشن پلان کی تاثیر کا جائزہ لینے کے لیے کیس کی پیشرفت اور باقاعدہ جائزہ میٹنگوں کی باقاعدہ نگرانی ، طریقہ کار میں تاخیر سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور ہر ضلع کے مخصوص حالات سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان کی لچک اور موافقت کی اجازت دینے والی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔
مزید یہ کہ نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) کو ایک بہتر ڈیش بورڈ کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے، جو مقدمات کے التوا کی نشاندہی، نگرانی اور کمی کے لیے ایک مؤثر آلہ ہے۔ یہ پالیسی سازی کے لیے بروقت معلومات فراہم کرتا ہے اور عدالتی کارکردگی کی نگرانی کے ساتھ ساتھ نظامی رکاوٹوں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔
مرکزی حکومت آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت مقدمات کے جلد تصفیے اور التوا میں کمی کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، انصاف تک آسان رسائی اور شفافیت میں اضافہ، اور عدلیہ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی شامل ہے۔
چودہویں مالیاتی کمیشن نے 2015 سے 2020 کے دوران 1800 فاسٹ ٹریک کورٹس (ایف ٹی سی) کے قیام کی سفارش کی تھی تاکہ سنگین جرائم، خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد سے متعلق مقدمات کا جلد فیصلہ ہو سکے۔ ہائی کورٹس سے موصولہ معلومات کے مطابق 31 اکتوبر 2025 تک 21 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 866 فاسٹ ٹریک کورٹس فعال ہیں۔
فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سی )، جن میں خصوصی پی او سی ایس او عدالتیں بھی شامل ہیں، عصمت دری اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (ای۔پی او سی ایس او) سے متعلق مقدمات کے مقررہ مدت میں فیصلے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ ہائی کورٹس کے مطابق 30 ستمبر 2025 تک 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 773 ایف ٹی ایس سی فعال ہیں، جن میں 400 خصوصی پی او سی ایس او عدالتیں شامل ہیں۔ اس اسکیم کے آغاز سے اب تک ان عدالتوں نے مجموعی طور پر 3,50,685 مقدمات نمٹائے ہیں، جبکہ 2,43,615 مقدمات اب بھی زیرِ التوا ہیں۔
آئینِ ہند کے آرٹیکل 130 کے مطابق سپریم کورٹ دہلی میں یا کسی اور مقام پر قائم ہو سکتی ہے، جس کا فیصلہ چیف جسٹس آف انڈیا صدرِ جمہوریہ کی منظوری سے کرتے ہیں۔ ہائی کورٹ کی بینچ قائم کرنے کی تجویز پر حکومتِ ہند تبھی غور کرتی ہے جب ریاستی حکومت مکمل تجویز پیش کرے، جس کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ریاست کے گورنر کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ اور اس کی بینچ کے لیے ضروری انفراسٹرکچر اور اخراجات ریاستی حکومت برداشت کرتی ہے۔ ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے معاملے میں فیصلہ ریاستی حکومت اور متعلقہ ہائی کورٹ کرتی ہے۔
مزید برآں، ای-کورٹس پروجیکٹ فیز (2023-2027) III- کو 13 ستمبر 2023 کو 7,210 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا، جس کا مقصد نظامِ انصاف کو مزید مضبوط، آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اب تک ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں 579.53 کروڑ صفحات پر مشتمل عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 3.81 کروڑ سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں، جبکہ 11 ہائی کورٹس میں لائیو اسٹریمنگ کی سہولت موجود ہے۔ ای-سیوا کیندر (سہولت مراکز) کی تعداد بڑھ کر 1987 ہو چکی ہے۔
یہ معلومات قانون اور انصاف کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کی وزارت میں وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں فراہم کیں ۔
***
ش ح۔ش آ۔ م ذ
U.N.525
(ریلیز آئی ڈی: 2214259)
وزیٹر کاؤنٹر : 30