ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کا ہُنرمندی کا ایکو نظام ایک بنیادی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے—بکھرے ہوئے نظام سے ایک متحد، نتائج پر مبنی لائحہءعمل کی جانب گامزن جو تعلیم، صنعت اور مستقبل کی ٹیکنالوجیوں سے ہم آہنگ ہے: جناب جینت چودھری


جناب جینت چودھری نے این سی وی ای ٹی کی پہلے اجلاسِ عام کی صدارت کی؛ ہُنر مندی کو عمومی تعلیم کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کا جائزہ لیا

प्रविष्टि तिथि: 12 JAN 2026 7:40PM by PIB Delhi

ہنرمندی کے فروغ اور آنترپریونرشپ کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور تعلیم کے وزیرِ مملکت جناب جینت چودھری نے آج نئی دہلی کے کوشل بھون میں پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی قومی کونسل (این سی وی ای ٹی) کے پہلے اجلاسِ عام کی صدارت کی۔ اجلاس کے دوران جناب جینت چودھری نے کہا کہ ’’بھارت کا ہُنر مندی کا ایکو نظام ایک بنیادی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے—بکھرے ہوئے نظام سے ایک متحد، نتائج پر مبنی لائحہءعمل کی جانب، جو تعلیم، صنعت اور مستقبل کی ٹیکنالوجیوں سے ہم آہنگ ہے۔ این سی وی ای ٹی اس تبدیلی کو قابلِ اعتماد، شفاف اور سیکھنے والوں پر مرکوز بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب جینت چودھری نے اس بات پر زور دیا کہ قومی کریڈٹ فریم ورک اور این سی وی ای ٹی کے دیگر اقدامات کے ذریعے ہنر مندی کو مرکزی اسکولی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے، جس سے ہُنر مندی کو پُرکشش بنایا جا رہا ہے اور تعلیمی ایکو نظام میں سیکھنے والوں کے لیے افقی اور عمودی نقل و حرکت کو بغیر رکاوٹ کے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

جنرل باڈی کو یکم اگست 2020 کو عملی شکل اختیار کرنے کے بعد این سی وی ای ٹی کی ادارہ جاتی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ ہُنر مندی کے لیے اعلیٰ ترین قومی نگران ادارے کے طور پر، این سی وی ای ٹی نے کامیابی کے ساتھ سابقہ نیشنل ہُنر مندی ڈیولپمنٹ ایجنسی (این ایس ڈی اے) اور پیشہ ورانہ تربیت کی قومی کونسل (این سی وی ٹی) کے فرائض اپنے اندر ضم کر لیے ہیں، جس سے بھارت کے پہلے سے بکھرے ہوئے ہُنر مندی ضابطہ جاتی ڈھانچے کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس وقت این سی وی ای ٹی ملک بھر میں 161 ایوارڈنگ باڈیز اور 68 جائزہ ایجنسیوں کو منظم کر رہا ہے۔

اجلاس کی ایک نمایاں جھلک اسناد جاری کرنے والے اداروں اور جائزہ ایجنسیوں کی شناخت اور ضابطہ بندی سے متعلق نظرثانی شدہ رہنما اصولوں (2025) کا جائزہ تھا۔ یہ رہنما اصول قومی تعلیمی پالیسی 2020، نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) اور نظرثانی شدہ این ایس کیو ایف 2023 سے ہم آہنگ ہیں، جن میں سیکھنے کے نتائج، ٹیکنالوجی پر مبنی جانچ اور شواہد پر مبنی نگرانی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

وزیر موصوف نے کوشل ورس کے آغاز کی ستائش کی، جو این سی وی ای ٹی کا متحد ڈیجیٹل انٹرپرائز پورٹل ہے اور شناخت، اہلیت کے انتظام، نگرانی اور شکایات کے ازالے سمیت بنیادی ضابطہ جاتی امور کو خودکار بناتا ہے۔ کوشل ورس کو بھارت کے ہُنر مندی ضابطہ جاتی ایکو نظام کی ڈیجیٹل بنیاد کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو شفافیت، کارکردگی اور تعمیل میں آسانی کو فروغ دیتا ہے۔

اجلاسِ عام نے کئی اہم قومی اسٹریٹجک اقدامات پر غور کیا، جن میں شامل ہیں:

  • ایس او اے آر (اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس)اے آئی کیلئے ہُنر مندی: مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو عام کرنے کے مقصد سے ایک نمایاں اقدام، جس میں اب تک ایک لاکھ چوہتر ہزار سے زائد اندراجات ہو چکے ہیں۔
  • پروجیکٹ پُنہ ستھاپن: ایک اختراعی پروگرام جو دفاعی اہلکاروں کی سول افرادی قوت میں منتقلی کو سہل بناتا ہے، جس کے تحت تینوں افواج کے 20 اداروں کو دوہری اسناد جاری کرنے والے ادارے  کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
  • سیمی کنڈکٹر ورک فورس اسٹریٹجی (2025): سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ہُنر مندی کی ضروریات کی نشاندہی پر مبنی ایک جامع روڈ میپ، جو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ مرکز بننے کے بھارت کے عزائم کی حمایت کرتا ہے۔

جامع ترقی کے لیے حکومت کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے اجلاسِ عام نے نیشنل کوالیفکیشن رجسٹر (این کیو آر) میں معذور افراد (پی ڈبلیو ڈی) کو ایک علیحدہ شعبے کے طور پر تسلیم کرنے کی منظوری دی۔ اب تک معذور افراد سے متعلق 221 سے زائد مخصوص اہلیتوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔

اجلاس میں ہُنر مندی کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مستقبل پر مبنی طریقہء کار پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں شامل ہیں:

  • کھیل بطور مہارت: قومی ہُنر مندی ڈھانچے میں کھیلوں کے ایکو نظام کا انضمام۔
  • زبان بطور مہارت: انگریزی، جاپانی اور جرمن جیسی زبانوں کے لیے مساویانہ راستوں کا قیام، تاکہ عالمی افرادی قوت کی نقل و حرکت کو فروغ دیا جا سکے۔
  • بزرگوں کی نگہداشت: بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معمر آبادی کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کی قومی حکمتِ عملی کی تشکیل۔

ایک اہم پیش رفت کے طور پر اجلاسِ عام نے این سی وی ای ٹی کے اندر ایک مخصوص ریسرچ ڈویژن کے قیام کی تجویز منظور کی۔ یہ ڈویژن تھنک ٹینک کے طور پر کام کرے گا اور لیبر مارکیٹ کے رجحانات، اہلیتوں کی افادیت، نظام کی کارکردگی اور پالیسی اختراع پر تحقیق انجام دے گا۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں محترمہ دیباشری مکھرجی، سکریٹری، ایم ایس ڈی ای اور چیئرپرسن، این سی وی ای ٹی؛ پروفیسر (ڈاکٹر) اشوک کمار گابا، ایگزیکٹو ممبر، این سی وی ای ٹی؛ ڈاکٹر سہاس دیشمکھ، ممبر سکریٹری اور ڈائریکٹر، این سی وی ای ٹی؛ اور جناب انیل کمار ٹی کے، ایڈیشنل سکریٹری، وزارتِ دیہی ترقی شریک ہوئے۔ ریاستی حکومتوں کی جانب سے سینئر نمائندگی میں محترمہ منیشا ورما، ایڈیشنل چیف سکریٹری، اسکل، ایمپلائمنٹ، انٹرپرینیورشپ اینڈ انوویشن ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ مہاراشٹر؛ محترمہ تاشی چو چو، سکریٹری، اسکل ڈیولپمنٹ، حکومتِ سکّم؛ اور جناب پلکت کھرے، مشن ڈائریکٹر، اتر پردیش اسکل ڈیولپمنٹ مشن شامل تھے۔

 

************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  482  )


(रिलीज़ आईडी: 2213951) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी