سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جھیل کے نیچے پوشیدہ قدیم زرِگل زیادہ طاقتور مانسون کی داستان بیان کرتے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 12 JAN 2026 6:17PM by PIB Delhi

ہندوستان کو ممکن ہے کہ ماضی میں پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ طاقتور مانسون کا سامنا رہا ہو۔ سائنس دانوں نے چھتیس گڑھ کے ضلع کوربا میں واقع راجا رانی جھیل میں محفوظ شواہد کی بنیاد پر تقریباً 1060 سے 1725 عیسوی کے درمیان وسطی ہندوستان میں شدید بارش، گھنے جنگلات اور نمایاں موسمیاتی تبدیلی کے آثار دریافت کیے ہیں۔

کور مانسون زون (سی ایم زیڈ)میں نباتاتی حرکیات اور اس سے وابستہ آبی۔موسمی تغیرات کو سمجھنا نہایت اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ اس خطے میں بارش بنیادی طور پر بھارتی گرمائی مانسون(آئی ایس ایم) کے زیرِ اثر ہوتی ہے، جو ہندوستان کی کل بارش کا تقریباً 89 سے 90 فیصد فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر لیٹ ہولوسین (میگھالین عہد) کے دوران مانسون کی تغیر پذیری کو سمجھنے کے لیے سی ایم زیڈ نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ خطہ آئی ایس ای کے اتار چڑھاؤ کے لیے انتہائی حساس ہے۔

لکھنؤ میں واقع برِبل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوسائنسز (بی ایس آئی پی )، جو محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی )کا ایک خود مختار ادارہ ہے، کے سائنس دانوں نے چھتیس گڑھ کے ضلع کوربا میں واقع راجا رانی جھیل کے تلچھٹی ذخائر میں محفوظ قدیم زرِگل (پولن) کے ذرات میں غیر معمولی طور پر طاقتور بھارتی گرمائی مانسون (آئی ایس ایم )کے شواہد دریافت کیے ہیں۔ یہ مقام ہندوستان کے کور مانسون زون (سی ایم زیڈ) کے عین وسط میں واقع ہے۔

محققین نے راجا رانی جھیل سے 40 سینٹی میٹر لمبا تلچھٹی کور حاصل کیا۔ اس کیچڑ میں محفوظ ریکارڈ تقریباً 2500 برس پر محیط ماحولیاتی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ان تہوں کے اندر خردبینی زرِگل کے ذرات موجود ہیں جو ان پودوں سے خارج ہوئے تھے جو کبھی جھیل کے اطراف میں اگتے تھے۔

ان زرِگل ذرات کی شناخت اور گنتی کے ذریعے، جس سائنسی عمل کو پالینولوجی کہا جاتا ہے، محققین نے ماضی کی نباتات اور اس کے نتیجے میں ماضی کے موسم کی تشکیلِ نو کی۔ جنگلات سے وابستہ پودے گرم اور مرطوب حالات کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ گھاس اور جڑی بوٹیاں نسبتاً خشک ادوار کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

شکل 1۔(الف) ہندوستان کا جغرافیائی نقشہ جس میں ضلع کوربا، چھتیس گڑھ، اور کور مانسون زون (سی ایم زیڈ)کو نمایاں (گہری سیاہ اور موٹی لکیروں میں) دکھایا گیا ہے۔(ب) شٹل ریڈار ٹوپوگرافک مشن (ایس آر ٹی ایم ) ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈل (ڈی ای ایم )برائے ضلع کوربا (چھتیس گڑھ)، جس میں تحقیق کے مقام کو (سرخ ستارے سے) ظاہر کیا گیا ہے۔

میڈیول کلائمیٹ اینوملی کے دوران زرِگل کے ریکارڈ میں مرطوب اور خشک اشنکٹبندیی پت جھڑ جنگلاتی انواع کی واضح بالادستی نظر آتی ہے، جو وسطی ہندوستان میں مضبوط مانسونی بارش اور گرم، مرطوب آب و ہوا کی نشاندہی کرتی ہے۔ نہایت اہم بات یہ ہے کہ اس مطالعے میں اس عرصے کے دوران کور مانسون زون کے اندر کسی متضاد خشک حالت کے شواہد نہیں ملے۔

سائنس دانوں نے اس مضبوط مانسون کو عالمی حدت کے ایک دور سے منسلک کیا ہے جسے میڈیول کلائمیٹ اینوملی (ایم سی اے )کہا جاتا ہے، جو تقریباً 1060 سے 1725 عیسوی کے درمیان واقع رہا۔

مطالعہ اس مضبوط مانسون کو عالمی اور علاقائی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ ان میں لا نینا جیسے حالات، جو عموماً زیادہ طاقتور بھارتی مانسون سے وابستہ ہوتے ہیں؛ بین الاستوائی تقاربی خط (آئی ٹی سی زیڈ)کی شمال کی جانب پیش رفت؛ مثبت درجۂ حرارت کی بے قاعدگیاں؛ سورج کے دھبّوں (سن اسپاٹس) کی بڑھتی ہوئی تعداد؛ اور زیادہ شمسی سرگرمی شامل ہیں، جو ایم سی اے  کے دوران موسمیاتی تبدیلی اور آئی ایس ایم میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

شکل 2۔شٹل ریڈار ٹوپوگرافک مشن (ایس آر ٹی ایم )ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈل (ڈی ای ایم ) برائے ہندوستان، جس میں موجودہ مطالعے (آر آر ایل )کے حوالے سے میڈیول کلائمیٹ اینوملی (ایم سی اے ) کی علاقائی مطابقت دکھائی گئی ہے (پیلا ستارہ)۔ سرخ ستارہ ایم سی اے کے ریکارڈز کو ظاہر کرتا ہے۔

 

ہولوسین دور کے دوران بھارتی گرمائی مانسون (آئی ایس ایم )اور اس سے وابستہ موسمیاتی تغیرات کی یہ تفہیم نہ صرف موجودہ آئی ایس ایم سے متاثرہ موسمی حالات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ مستقبل کے ممکنہ موسمی رجحانات اور تخمینوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

مزید برآں، موجودہ مطالعے میں تیار کیے گئے اعلیٰ ریزولوشن قدیم موسمیاتی ریکارڈز مستقبل کے موسمی رجحانات اور بارش کے نمونوں کی نقل (سیمولیشن) کے لیے پیلیوکلیمٹک ماڈلز کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اور ساتھ ہی سماجی اہمیت کے حامل، سائنسی بنیادوں پر مضبوط پالیسی سازی میں بھی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

***

 

 

UR-474

(ش ح۔اس ک  )

 


(रिलीज़ आईडी: 2213907) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी