وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

آوازوں کے جگنو نامی کتاب ہماری ثقافتی شناخت کا آئینہ ہے: ہریش بھیمانی


اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس میں ‘آوازوں کے جگنو ’ کتاب کا اجراکیاگیااور گفتگو کی گئی

प्रविष्टि तिथि: 09 JAN 2026 9:19PM by PIB Delhi

1.jpg

اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس میں ‘‘آواز وں کے جگنو’’کتاب کا اجرااورمباحثہ پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (آئی جی این سی اے) کے میڈیا سینٹر نے کامیابی کے ساتھ کتاب ‘آوازوں کے جگنو: دی وائس ماسٹرز آف انڈیا’ کے اجرا اور مباحثے کا اہتمام کیا ۔ یہ تقریب نئی دلی میں واقع  آئی جی این سی اے ، جن پتھ ، میں منعقد ہوئی ۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سچدانند جوشی ، ممبر سکریٹری ، آئی جی این سی اے نے کی ۔ سینئر براڈکاسٹر اور وائس ایکٹر ہریش بھیمانی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے ۔ اس موقع پر سینئر براڈکاسٹر، دوردرشن کے سابق نیوز ریڈر اور وائس ایکٹر شمی نارنگ کو خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا، جبکہ معزز مہمان کے طور پر معروف وائس ایکٹر سونل کوشل شریک ہوئیں، جو ڈوریمون اور چھوٹا بھیم جیسے مقبول اینی میٹڈ رول کو آواز دینے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ کتاب کی کمپائلر اور ایڈیٹر ڈاکٹر شیفالی چترویدی بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ آئی جی این سی اے کے میڈیا سینٹر کے کنٹرولر جناب انوراگ پونیتھا نے مہمانوں کا استقبال کیا اور پروگرام کا خاکہ پیش کیا ۔ اس موقع پر ایک کیو آر کوڈ بھی جاری کیا گیا ، جس کے ذریعے سامعین کتاب میں شامل تمام شخصیات کے انٹرویو تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔

اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر سچدانند جوشی نے کہا کہ فن کا دائرہ وسیع ہے ۔ اس لیے آئی جی این سی اے نے ‘آوازوں کے جگنو’ کتاب اور آڈیو فارمیٹ کے ذریعے ایک غیر روایتی آرٹ فارم ، آوازوں کی دنیا سے وابستہ فنکاروں کے سفر کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک جرات مندانہ پہل کی ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کتاب کا انگریزی ایڈیشن بھی جاری کیا جائے گا اور کہا کہ یہ صرف شروعات ہے اور اس پہل کو مزید وسعت دی جائے گی ۔

2.jpg

مہابھارت میں ‘سمے’ کو آواز دینے والے جناب ہریش بھیمانی نے کہا کہ آواز محض بات چیت کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ ثقافت اور حساسیت کا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے انسانی زندگی میں آواز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سنسکرت کے ایک محاورے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ کوئل اور کوا دونوں کالے ہوتے ہیں، پھر بھی جو چیز ان میں فرق کرتی ہے وہ ان کی آواز ہے ۔ انہوں نے ‘آوازوں کے جگنو’ کو ایک قابل ذکر پہل قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی بن سکتے ہیں، تو وہ اسے عاجزی سے قبول کریں گے۔  انہوں نے مزید کہا کہ یہ کتاب محض خطوط کا مجموعہ نہیں ہے  بلکہ غیر مرئی حیاتی قوت کو حاصل کرنے کی کوشش ہے جو صدیوں سے ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ  رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ‘آوازوں کے جگنو’ ہمارے ثقافتی ڈی این اے کی ایک دستاویز ہے ، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں ، تب بھی ان کی تیار کردہ آواز کی گونج تہذیب کی بازگشت کو زندہ رکھتی ہے ۔

دہلی میٹرو کی معروف آواز شمی نارنگ نے ہندوستانی نشریاتی صنعت میں آواز کے فنکاروں کے کردار کے بارے میں بات کی اور اس طرح کی دستاویزی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ذاتی تجربات کا اشتراک کرتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وائس انڈسٹری میں داخل ہوئے۔ انہوں نے درست تلفظ اور لہجے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھا بولنا ضروری ہے کیونکہ اچھا بولنے میں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور اچھی بات سننے والے پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ سونل کوشل نے نوجوان نسل کے لیے آواز کی صنعت میں مواقع اور چیلنجوں کے بارے میں اپنے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے اپنے سفر کی تفصیلات سنائیں اور موجودہ بچوں کو ڈورائمون اور چھوٹا بھیم کے مکالمے سناتے ہوئے محظوظ کیا، جس پر حاضرین نے بھرپور تالیاں بجائیں۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں جناب انوراگ پونیتھا نے کہا کہ آواز اعتماد پیدا کرتی ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے، انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ریاستہائے متحدہ میں ایک نشریات کو یاد کیا، جب ایک اداکار نے ایک ریڈیو ڈرامے کے دوران اعلان کیا تھا کہ امریکہ پر مریخ پر بسنے والے حملہ کر رہے ہیں۔ لوگوں نے اس اعلان پر یقین کیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ آواز کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

کتاب کا تعارف کراتے ہوئے ، اس کی مرتب کنندہ اور ایڈیٹر ڈاکٹر شیفالی چترویدی نے وضاحت کی کہ آوازوں کے جگنو ہندوستانی آواز کی دنیا کی مخصوص اور یادگار آوازوں کا مجموعہ ہے، جس نے ریڈیو ، دوردرشن ، اشتہارات ، ڈبنگ ، اعلانات اور اسٹیج شاعری کے ذریعے ہندوستانی نشریات کو مالا مال کیا۔ یہ کتاب ان فنکاروں کے زندگی کے سفر ، تخلیقی جدوجہد اور تعاون کو تفصیل سے پیش کرتی ہے ۔

آخر میں ، جناب انوراگ پنیتھا نے مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور آواز کے جگنو پہل کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات کی ۔ اس پروگرام میں معروف ریڈیو جاکیز (آر جے) نتن کھرافتی ، سمرن ، جسلین بھلا ، صائمہ رحمان کے ساتھ ساتھ نامور براڈکاسٹر راجندر چغ ، راجیو کمار شکلا ، رِنی کھنہ ، رما پانڈے ، شری وردھن تریویدی اور نریندر جوشی نے بھی شرکت کی ۔ سمرن ، راجندر چغ ، راجیو کمار شکلا ، اور نریندر جوشی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ فن ، میڈیا اور ثقافت سے وابستہ اسکالرز ، فنکاروں ، طلباء اور سامعین کی نمایاں موجودگی دیکھی گئی ۔ اپنی نوعیت کے اس منفرد پروگرام نے ہندوستانی آواز کی صنعت کے تئیں تفہیم اور حساسیت کو مزید گہرا کیا ۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.458


(रिलीज़ आईडी: 2213872) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी